ابصار عالم: سابق چیئرمین پیمرا اور سینیئر صحافی پر قاتلانہ حملہ

پاکستان کے سینیئر صحافی اور سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں درج کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعہ شامل کی گئی ہے جبکہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ منگل کی شام دارالحکومت اسلام آباد میں ابصار عالم پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ ایف الیون پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ گولی لگنے کے بعد انھیں ایک پرائیویٹ گاڑی میں ہسپتال شفٹ کیا گیا۔

اس دوران انھوں نے ایک ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کروایا جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں چہل قدمی کر رہا تھا، مجھے کسی نے گولی مار دی ہے، پیٹ میں میری پسلیوں میں لگی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’میں حوصلہ نہیں ہارا اور نہ میں حوصلہ ہاروں گا۔ یہ میرا پیغام ہے ان لوگوں کو جنھوں نے مجھے گولی مروائی ہے۔ میں حوصلہ چھوڑنے والا نہیں ہوں اور نہ ان چیزوں سے ڈرنے والا ہوں۔'

ابصار عالم نے اپنے پیغام میں لوگوں سے کہا کہ وہ انھیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔

پولیس

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ابصار عالم پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ابصار عالم کو گولی لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو معاملے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کرے گی اور ٹیم سے کہا گیا ہے کہ وہ ملزم کا پتہ لگانے کے لیے تمام سائنسی اور فرانزک طریقے استعمال کرے۔

خیال رہے کہ ابصار عالم گذشتہ 27 برس سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک ناقد کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اکثر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے کرتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب ابصار عالم پر حملے کے بعد مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔

ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ وه جمہوریت اور سول بالا دستی کے لیے اٹھتی ایک بہادر اور حق پر مبنی آواز ہیں۔ صحافت کا گلا گھونٹنے والے ان مجرموں کو فوری طور پر قوم کے سامنے لاکر نشان عبرت بنایا جائے۔‘

نواز

چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوال

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’اختلاف کرنے والی آواز کو دبانا اس ملک کو برسوں سے لاحق کینسر ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ابصار عالم اس ظلم اور بربریت کا شکار ہونے والے شخص ہیں۔ خدا ان کے اور اس ملک کے زخموں کو مندمل کرے‘۔

مریم

اے این پی کی رہنما بشریٰ گوہر نے کہا کہ وہ اس بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان صحافیوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے‘۔

بشری گوہر

اینکر پرسن معید پیرزادہ نے لکھا کہ وہ ابصار عالم کو گولی لگنے کی خبر سن کر صدمے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ’تیزی سے ایک خطرناک شہر بنتا جا رہا ہے‘۔

صحافی اعزاز سید نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ وہ ابصار عالم سے ملے ہیں ان کے ’حوصلے بلند ہیں اور گولی ان کے جسم کو چھو کر گزری ہے‘۔

اعزاز سید کے مطابق ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ابصار عالم کی حالت ’خطرے سے باہر ہے‘ اور ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ابصار
error: