اب پیشِ خدمت ہے گوادر کی باڑ

اطلاعات ہیں کہ سی پیک کے سرچشمے گوادر کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے خاردار تاروں کی ایک اونچی باڑ نصب کی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد گوادر پہلا پاکستانی شہر ہوگا جس کے لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شہر میں داخلے اور اخراج کے دو راستے ہوں گے تاکہ مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جائے اور نہ صرف بندرگاہ اور وہاں پر کام کرنے والے غیرملکی کارکنوں بلکہ عام شہریوں کا بھی تحفظ ہو سکے۔

جس کسی نے بھی یہ 'ذہین منصوبہ' بنایا ہے، اس نے یا تو شورش زدہ اور چھاپہ مار جنگ سے متاثر علاقوں میں ماضی کے ایسی ہی کوششوں کی تاریخ نہیں پڑھی یا پڑھنے کے بعد فرض کر لیا ہے کہ یہ منصوبہ چونکہ ہم اپنے معروضی و زمینی حالات کے مطابق بنا رہے ہیں لہٰذا کامیاب ضرور ہوگا۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ریاست کی نظر میں دہشت گرد تنظیموں، گوریلوں یا چھاپہ ماروں یا فدائین کو کہاں سے امداد مل رہی ہے، کون اکسا رہا ہے اور کون ان تنظیموں کو زندہ رکھنے کے لیے 'معصوم نوجوانوں' کو ورغلا رہا ہے۔

بات یہ ہے کہ ایسی غیر روایتی لڑائی کو روایتی یا محض ردِ عملی طریقوں سے نہیں جیتا جا سکتا۔

اس کے لیے بیک وقت سیاسی و سٹرٹیجک منصوبہ سازی اور عام آدمی کا دل و دماغ جیتنے کی سہہ طرفہ حکمتِ عملی ہی بار آور ہو سکتی ہے۔

اور عام آدمی کا دل تب ہی جیتا جا سکتا ہے جب اسے ریاست کے قول و فعل کی یک رنگی پر اعتبار ہو، وہ خود کو فیصلہ سازی میں شریک سمجھتا ہو اور اسے یقین ہو کہ یہ کوئی نوآبادیاتی ریاست نہیں بلکہ اس کی اپنی ریاست ہے۔

محض طاقت اور اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اگر مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے تو باڑیں تو امریکہ نے بھی جنوبی ویتنام میں لگائی تھیں اور مقامی آبادی کو ان کے پیچھے یہ کہہ کر منتقل کیا گیا تھا کہ مقصد ویت کانگ دہشت گردی سے عام ویتنامی کا تحفظ ہے۔

گوادر

باڑیں تو فرانس نے بھی الجزائر میں اٹھائی تھیں تاکہ عام الجزائریوں کو ایف ایل این کی دہشت گردی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

باڑ کلچر سے تو فلسطینی بھی سب سے زیادہ واقف ہیں اور کشمیریوں کو بھی اپنی روزمرہ زندگی میں اسی طرح کے غیر مرئی باڑ کلچر کا سامنا ہے۔

ان میں سے کون سے خطے میں باڑ لگانے والے اپنے مقاصد حاصل کر کے بے چینی، بغاوت یا دہشت گردی یا انتہا پسندی پر قابو پا سکے؟

اور ہاں باڑ کے پیچھے تو 80 برس قبل سندھ کے حروں کو ان کے ہزاروں کنبوں سمیت انگریز سرکار کے دشمن سوریا بادشاہ پیر صبغت اللہ شاہ کے 'انتہا پسندوں' سے بچانے کے لیے کئی برس تک رکھا گیا۔

تو کیا باڑ کے پیچھے رہنے والے یہ ہزاروں کنبے انگریز کے حق میں منقلب ہو گئے تھے؟

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں ایک قومی ریاست کی باڑ پسندی کو نوآبادیاتی مثالوں سے کیوں آلودہ کر رہا ہوں۔

عرض یہ ہے کہ بے چینی سے نمٹنے کے فرسودہ روایتی طریقے اگر ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس نوآبادیاتی طاقتوں کے کام نہ آ سکے تو کسی ترقی پذیر قومی ریاست کو کیسے کامیابی دلا سکتے ہیں؟

کسی دوسرے کی کامیابیوں سے بھلے آپ کچھ نہ سیکھیں لیکن دوسرے کی ناکامیوں سے سیکھنے میں کیا ذہنی اڑچن ہے؟

جب آپ اپنے ہی شہروں اور اپنے ہی لوگوں کی ناکہ بندی پر اتر آتے ہیں تو اس سے باقیوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ مسئلے پر قابو پانے کی آپ کی گذشتہ حکمتِ عملیاں ناکام رہی ہیں چنانچہ آپ کو ایک نئی مگر فرسودہ حکمتِ عملی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

اس سے آپ کے مخالف کے حوصلے پست ہونے کے بجائے اور بڑھتے ہیں اور اسے اپنی حکمتِ عملی کامیاب دکھائی دینے لگتی ہے۔

چلیے آپ نے ایک شہر کو باڑ میں گھیر کے محفوظ کر لیا۔ باقی بے باڑ شہروں کا کیا ہوگا۔ کارروائی پر کمر بستہ ایک جگہ داخل نہیں پائے تو دوسری جگہ سے گھس جائیں گے۔

دہشت گرد ہوں کہ چھاپہ مار یا علیحدگی پسند یا حریت پسند۔ آپ بھلے انھیں اپنی پسند کا کوئی بھی لقب دے دیں، وہ مقامی حمایت کے بغیر ایسے ہی ہیں جیسے پانی کے بغیر مچھلی۔

اگر اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی گوادر میں کوئی دہشت گردی کی واردات ہو گئی تو پھر آپ کا اگلا قدم اور مقامی رویہ کیا ہوگا؟

مان لیا کہ بین الاقوامی سرحدوں پر باڑ لگانے کا یہ مقصد ہے کہ مشکوک اجنبیوں، سمگلروں، دہشت گردوں کا داخلہ یا اخراج مشکل بنایا جا سکے۔

گوادر

اگر آپ کی بین الاقوامی سرحدوں کی باڑ کاری مؤثر ہو اور اس سے ملک دشمن عناصر کی نقل و حرکت کی روک تھام ہو سکے تو پھر اپنے ہی شہروں کو باڑ زدہ بنانے کا اضافی خرچہ کر کے آپ مزید کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسئلہ صرف خارجی ہی نہیں داخلی بھی ہے۔

جب تک اس حقیقت کو تسلیم کر کے ایک قابلِ عمل عوام دوست حکمتِ عملی نہیں بنائی جائے گی اور اس پالیسی کو عام آدمی قبول کرنا شروع نہیں کرے گا تب تک وسائل کا ضیاع تو ممکن ہے، کامیابی ممکن نہیں۔

کوئی بھی باڑ دماغ کے اندر کھڑی عدم اعتماد کی باڑ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتی۔

اگر ذہنی باڑ کٹ جائے تو پھر فولادی باڑ کی حاجت نہیں رہتی۔ البتہ اس ہدف تک پہنچنا تب ہی ممکن ہے جب زورِ بازو کو ذہنی زور کے تابع کرنے کی عادت ڈالی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *