اتحادی جماعتوں نے بھی حکومت کے منی بجٹ کی مخالفت کردی

قومی اسمبلی میں متنازع فنانس (ضمنی) بل 2021 جسے منی بجٹ کہا جارہا ہے پر بحث کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، جس مں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعتوں نے ٹیکس لگانے کے نئے اقدامات کے ممکنہ مضمرات پر اپوزیشن کے ساتھ آوازیں بلند کی جو ان کے مطابق ملک کے لوگوں کے لیے مزید معاشی مشکلات کا باعث بنیں گے۔

 رپورٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے شروع ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکمران جماعت پی ٹی آئی کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شکایت کی کہ منی بجٹ پیش کرنے سے پہلے ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور حکومت سے روزمرہ استعمال کی اشیا پر ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

حکومت کو اشیائے خورونوش، کاٹج انڈسٹری، سولر پینلز، ہسپتال کی مشینری، کم طاقت والے انجن والی کاروں، موبائل فونز اور سمیت دیگر اشیا پر ٹیکس لگانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما اقبال محمد علی خان نے منی بجٹ میں مجوزہ ٹیکسوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ہاں، ہم وزیراعظم کے اتحادی ہیں لیکن ہم یہاں صرف ووٹ ڈالنے اور محض تحاریک سے گزرنے کے لیے نہیں آئے ہیں‘۔

اقبال محمد علی خان نے کہا کہ ایک طرف عوام کے پاس گیس اور بجلی نہیں اور دوسری طرف حکومت اب سولر پینلز پر بھی ٹیکس لگانے جارہی ہے جسے لوگ توانائی کے متبادل ذرائع کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ایم کیو ایم کی ایک اور رکن اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ وہ حکومت کے اتحادی ہونے سے پہلے عوام کے نمائندے بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی انتقام بہت خوفناک ہے، اگر ہم آپ کے اتحادی اور دوست ہیں تو ہم آپ کو ضرور مشورہ دیں گے کہ اس سے اپنے آپ کو کیسے بچایا جائے، یہ منی بجٹ پچھلے بجٹ (گزشتہ سال پیش کیے گئے) سے زیادہ بھاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ منی بجٹ کو قبول نہیں کریں گے، 'ہم آپ کو اس پر دوبارہ غور کرنے کا وقت دینا چاہتے ہیں، اگر آپ کو ہماری اور لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے تو بجٹ پر نظر ثانی کریں'۔

کشور زہرہ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو بل کی 11 شقوں پر اعتراض ہے اور انہوں نے ترامیم کردی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرے۔

ایک اور حکومتی اتحادی جی ڈی اے کے غوث بخش مہر نے زرعی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

قبل ازیں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت، آئی ایم ایف سے صرف ایک ارب ڈالر حاصل کرنے کے لیے ملک کی معاشی خود مختاری کا ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

شہباز شریف کے بیان پر اسد عمر نے بھی تابڑ توڑ جواب دیا اور الزام لگایا کہ سابقہ حکمرانوں نے اپنی کرپشن کے ذریعے ملکی معیشت کو تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف آج ان سے چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کو کہہ رہے ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ جب مسلم لیگ (ن) تین بار اقتدار میں رہی تو اپوزیشن کے ساتھ کتنے چارٹر آف اکانومی پر دستخط کیے تھے۔

اپوزیشن کے احتجاج کے دوران انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا لیکن ہم ان سے کیا سیکھیں گے؟ ٹی ٹیز (ٹیلی گرافک ٹرانسفر) کے ذریعے پیسہ کیسے لانڈر کیا جائے؟ جن ملازمین کی تنخواہیں 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ہیں ان کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے کیسے نکلیں گے؟ یا پاناما پیپرز کے بعد پاکستان کا وزیر اعظم دنیا بھر میں بدنامی کو کیسے دعوت دیتا ہے؟

اسد عمر نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے اختتام تک جی ڈی پی کی شرح نمو 4.8 فیصد ہدف سے تجاوز کر جائے گی اور 5 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: