اتنی بھی نازک مزاجی کیا

جب شاہسوارِ اعظم جنرل ضیاالحق براجمانِ اقتدار تھے تو ایک موقع پر اُنہوں نے یہ تاریخی جملے ادا کئے کہ آئین کیا ہے اتنے صفحات کا کتابچہ‘ جب چاہوں اِسے پھاڑ کے ایک طرف رکھ دوں۔ آٹھ سال تک اُس کتابچے کو معطل رکھا اور جب بحال بھی کیا تو ایسی ترمیمات کے ساتھ کہ اُس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ ایک آدھ بار جنرل پرویز مشرف نے بھی آئینِ پاکستان کی شان میں کچھ ایسے ہی قصیدے پڑھے۔ ذرا پیچھے جائیں تو جنرل یحییٰ خان نے ایک اپنا ہی آئینی مسودہ دے ڈالا، وہ بھی جب مشرقی پاکستان میں ہمارا حساب کتاب ہو چکا تھا۔ یہ اور بات کہ تب کے امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد نے یہ فیصلہ سنایا کہ جنرل یحییٰ کا دیا ہوا مسودہ عین اسلام کے مطابق ہے۔
جب ممتاز شاہسواروں کی آئین کے بارے میں یہ رائے رہی ہے تو ایک جج صاحب نے اداروں کے رئیل اسٹیٹ کاروبار کے حوالے سے کچھ کہہ دیا تو کونسا اِتنا آسمان ٹوٹ پڑا۔ جج صاحب فرطِ جذبات میں کچھ زیادہ ہی کہہ گئے۔ ایک دو جملوں کے بغیر بھی مفہوم ادا ہو جاتا کیونکہ جس مفہوم کی طرف وہ اشارہ کررہے تھے اُس سے انکار ممکن نہیں۔ مختلف محکموں سے، اُن کا نام کیا لینا، اپنا کام صحیح معنوں میں ہو یا نہ ہو ملکی ماحول ایسا بن چکا ہے کہ ہر محکمہ زمین کے کاروبار میں ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ گندم میں خود کفیل ہوں یا نہ ہوں، افراطِ زر پہ حکومتیں کنٹرول کر سکیں یا نہیں، ادھار پہ ملک چل رہا ہو اُس کی بھی کسی کو کوئی پروا نہیں لیکن زمین کے کاروبار میں ضرور جانا ہے اور ہاؤسنگ کالونیاں ہر اطراف کھڑی کرنی ہیں۔ یہ روِش اِس انتہا تک پہنچ چکی ہے کہ لگتا یوں ہے کہ مقصدِ پاکستان ہی ہاؤسنگ کالونیاں بنانا تھا۔ ان کالونیوں کے اِتنا بننے سے نتیجہ تو یہ اخذ ہونا چاہئے تھا کہ مملکت خداداد میں کوئی غریب بے گھر نہ رہے‘ لیکن یہاں جس قسم کا زمین کا کاروبار چل رہا ہے اور جس میں مختلف محکمے ملوث ہیں اُس سے غریبوں کے سر پہ چھت نہیں پڑ رہی۔ اِس کاروبار میں وہ طبقات ملوث ہیں جن کے پاس اللہ کا دیا ہوا پہلے ہی سب کچھ ہے۔ جس کسی سے پوچھو رئیل اسٹیٹ میں پیسے ڈال رہا ہے۔ ہاؤسنگ کالونیاں ایکسپورٹ ہو سکتیں تب تو ہمیں زرِمبادلہ کمانے کا مسئلہ نہ رہتا‘ لیکن یہ ہاؤسنگ کالونیاں کسی اور کے کام کی نہیں۔ پرائیویٹ لوگ ایسی سرمایہ کاری کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہاں یہ انوکھی روش مستحکم ہوئی ہے کہ محکمے کے محکمے اِس کاروبار میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایسی کیفیت بن چکی ہے تو جج صاحب کے ریمارکس پہ اِتنا حساس ہونے کی کیا ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں بہت خرابیاں ہوں گی، اس سے کوئی انکار نہیں، لیکن معاشرے میں ایک قسم کا ارتقا بھی ہو رہا ہے اور وہ اچھی بات ہے۔ یہاں کوئی انقلاب نہیں آیا لیکن ہمارے نظام میں نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پہ مختلف اداروں کے بارے میں میاں نواز شریف جو زبان استعمال کر رہے ہیں اور جو کچھ اِس ضمن میں وہ کہہ رہے ہیں کچھ سال پہلے ایسا ممکن نہ ہوتا۔ کم از کم کوئی ایسا قومی لیڈر جس کا تعلق پنجاب سے ہو وہ ایسی زبان استعمال نہ کرتا۔ نواز شریف صاحب کے جو بھی دُکھڑے ہوں وہ الگ بحث ہے۔ لیکن جس قسم کی بھرپور تنقید انہوں نے مختلف حوالے سے کی وہ ایک نئی چیز ہے۔ بیشک کوئی کہے کہ اُنہوں نے یا اُن کے خاندان نے ملک لوٹا یا باہر کے دیسوں میں جائیدادیں بنائیں۔ یہ اور بات ہے۔ اپنی جگہ یہ تنقید درست ہوگی لیکن اہم بات یہ ہے کہ اُن کی موجودہ باتیں نئے زاویوں کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
دوسری مثال جسٹس فائز عیسیٰ کے کیس میں عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ ہے۔ گزرا ہوا کوئی دور ہوتا، موسم کے تیور کچھ اور ہوتے، تو ایسے فیصلے کا آنا شاید ممکن نہ ہوتا۔ تمام حقائق سے ہم آگاہ نہ بھی ہوں لیکن کہا تو یہ جاتا رہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلا ف جو ریفرنس دائر ہوا اُس کے پیچھے ہاتھ مخصوص تھے۔ ہاتھ کوئی ہوں یا نہ ہوں یہ حقیقت تو بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا ایک آدھ فیصلہ ایسا تھا کہ بہتوں کو ناگوار گزرا ہوگا۔ خاص طور پہ کالعدم ٹی ایل پی کی طرف سے فیض آباد دھرنے کے بارے میں اُنہوں نے فیصلے میں جو ریمارکس دیئے وہ حساس مزاجوں کیلئے کافی بھاری سمجھے جا سکتے ہیں۔ جب جسٹس فائز عیسیٰ کی طرف سے معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا گیا تو شروع کے دنوں میں ایسا لگتا تھا کہ اُن کو اپنے ادارے سے کچھ زیادہ پذیرائی نہیں مل رہی۔
لیکن اب جو فیصلہ آیا ہے اُس نے سب کو حیران کردیا ہے۔ یہاں بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ ریفرنس میں الزامات کس نوعیت کے تھے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اِس فیصلے سے مختلف دریچوں میں پریشانی کا پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ بدلتے موسموں کی یہ بھی ایک نشانی ہے۔
اگر ایک اور مثال دی جا سکے تو وہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے ہے۔ ڈسکہ کا جو پہلے ضمنی انتخاب ہو اتھا اور جسے کالعدم قرار دیا گیا اُس میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جو ایک آزادانہ اَپروچ دیکھنے میں آئی اُس کی نظیر شاید پاکستانی تاریخ میں نہ ملے۔ حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا لیکن الیکشن کمیشن اپنے مؤقف پہ ڈٹا رہا۔ اِس مؤقف سے حکمران تحریک انصاف کو خاصی خفت پہنچی۔
عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ہزار خرابیاں ہوں گی لیکن ملک میں ماحول ایسا بنتا جا رہا ہے کہ مختلف اداروں کو اپنی آزاد حیثیت دکھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو رہی۔ یعنی جن اداروں کو ہم مقتدر کہتے اور سمجھتے ہیں اُن کی حیثیت میں کوئی فرق تو نہیں آیا لیکن ساتھ ہی دوسرے ادارے بھی اپنی آزاد حیثیت منوا رہے ہیں۔ یہ ایک نئی بات تو ہے ہی لیکن اچھی بات بھی ہے۔ جہاں ہرچیز اور ہر نظام میں توازن ہونا چاہئے ہمارا سیاسی نظام غیرمتوازن ہوگیا تھا۔ یعنی آئین کے الفاظ جو معنی بھی رکھتے ہوں آئینی نظام کے اوپر غیر فطری بادل کچھ زیادہ ہی منڈلانے لگے تھے۔ بالفاظ دیگر آئینی ڈھانچے میں کچھ زیادہ ہی مداخلت ہونے لگی تھی۔ جو دو تین مثالیں دی گئی ہیں اُن سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ مختلف اِطراف سے آئینی اور سیاسی نظام میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جو کچھ ہو رہا ہے یہ کسی سوچی سمجھی سکیم کے تحت نہیں ہو رہا۔ معاشروں میں اگر ارتقا ہونا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ مارچ 2007ء میں کوئی کہہ سکتا تھا کہ وکلا برادری کھڑی ہو جائے گی؟ کوئی سمجھ سکتا تھا کہ جو تحریک وکلا نے برپا کی اُس سے پرویز مشرف کی حکومت کمزور ہو جائے گی؟ لیکن ایسا ہوا۔ سیاسی پارٹیاں بے بس ہوچکی تھیں اور جنرل پرویز مشرف کی پوزیشن ناقابل تسخیر لگتی تھی‘ لیکن ناگہانی طور پراُس تحریک نے زور پکڑا۔ درِپردہ شاید اور وجوہات بھی ہوں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جنرل مشرف کی اِقتدار پہ گرفت کمزور ہوتی گئی۔ آج بالادست ادارے بالادست لگتے ہیں۔ لیکن کچھ نشانیاں جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ معلوم نہیں کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *