’’احتساب ویکسین‘‘ اور چودھریوں کو نئے نوٹس

احسن اقبال کی رگِ ظرافت پھڑکی: دنیا بھر میں سائنسدان کورونا وائرس کے لیے ویکسین کی تیاری کے تجربات میں مصروف ہیں اور ہمارے ہاں وزیراعظم صاحب نے اس کے لیے ''احتساب ویکسین‘‘ کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کی سہ پہر لاکھوں، کروڑوں پاکستانیوں کی نظریں ٹی وی سکرینوں پر لگی تھیں‘ جنہیں لاک ڈائون کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے فیصلوں کا انتظار تھا کہ اچانک ایک نیا منظر ابھرا۔ یہ مسلم لیگ (ق) کے چودھری برادران کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین نیب کے اختیارات کو چیلنج کرنے کی خبر تھی‘ جو رات گئے تک ٹاک شوز کا اہم موضوع بنی رہی۔ وفاق اور پنجاب میں برسراقتدار پی ٹی آئی کے کولیشن پارٹنرز نے اپنی درخواست میں کہا تھاکہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کرنے والا ادارہ بن چکا‘ ان کے خلاف 19 سال قبل بند ہو جانے والی فائلیں دوبارہ کھولی جا رہی ہیں۔ احتساب کی یہ تلوار ان کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کے لیے لٹکائی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے اہم رکن، چودھری برادران کے یارِ وفادار چودھری طارق بشیر چیمہ اور سابق سینیٹر کامل علی آغا کا ٹاک شوز میں کہنا تھا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے یہ کیس انیس بیس سال قبل مشرف دور میں بنائے گئے تھے۔ چودھری پرویز الٰہی، نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دونوں ادوار میں (1985 سے 1990 تک) پنجاب کے وزیر بلدیات رہے۔ ان پر ناجائز بھرتیوں کا الزام تھا۔ ناجائز اثاثوں کے الزام میں چودھری برادران کے گھروں کی ٹونٹیاں تک چیک کر لی گئیں۔ آئے روز چھاپے مارے گئے، سارا ریکارڈ نیب والے اٹھا کر لے گئے۔ یہ کارروائی دو نامعلوم افراد کی درخواستوں پر کی گئی اور جب کوئی اور ثبوت اور شہادت نہ مل سکی تو یہ کیس داخل دفتر کر دیئے گئے۔ اور انیس سال بعد اب یہ دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ دو عشرے قبل قبضے میں لیا گیا یہ ریکارڈ ابھی تک نیب کے پاس تھا۔ چودھری پرویز الٰہی کی وزارتِ بلدیات کے سیکرٹری جاوید قریشی اگلے جہاں سدھار گئے (جاوید قریشی، منظور وٹو کی وزارتِ اعلیٰ میں پنجاب کے چیف سیکرٹری بھی رہے) چودھری صاحب پر جن افراد کی ناجائز بھرتیوں کا الزام تھا، وہ سب ریٹائر ہو چکے۔
اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
چودھری برادران اور ان کے ترجمانوں کا مؤقف اپنی جگہ لیکن کہنے والوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرف دور میں نیب کے انہی کیسوں نے قاف لیگ کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔ 1999 کے ٹیک اوور کے بعد، میاں محمد اظہر، خورشید محمود قصوری، بیگم عابدہ حسین اور کرنل (ر) غلام سرور چیمہ وغیرہ پر مشتمل ''ہم خیال گروپ‘‘ نے (نواز شریف سے جن کی ناراضی کی اپنی اپنی وجوہ تھیں) پہلے ہی روز معزول وزیراعظم سے اظہارِ لاتعلقی کر دیا تھا؛ البتہ گجرات کے چودھری برادران کو ''راہِ راست‘‘ پر آنے میں کچھ وقت لگا۔ بیگم کلثوم نواز میدان میں نکلیں، تو چودھری برادران سے ان کے رابطے قائم تھے۔ بیگم صاحبہ نے جی ٹی روڈ کے راستے پشاور تک کاروان کی قیادت کا اعلان کیا، تو چودھری برادران کا کہنا تھا کہ وہ گجرات میں بیگم صاحبہ کیلئے لنچ کا اہتمام کریں گے۔ چودھریوں کے بے تکلف دوست، ایک اخبار نویس کے استفسار پر چھوٹے چودھری صاحب نے ہنستے ہوئے کہا، ''لیکن لنچ تو تب ہو گا اگر بیگم صاحبہ کو جی ٹی روڈ پر آنے دیا جائے گا‘‘۔ چودھری برادران کا خدشہ (یا توقع) درست تھا، بیگم صاحبہ کو لاہور ہی سے نہ نکلنے دیا گیا۔
1997 میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے محرومی کے زخم اپنی جگہ، لیکن چودھری برادران تب مشکل وقت میں میاں نواز شریف سے بے وفائی کو خاصا مشکل محسوس کرتے تھے کہ یہ ان کے سیاسی وقار کا بھی مسئلہ تھا۔ چودھری پرویز الٰہی 1985 والی پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے منصوبہ سازوں میں شامل رہے تھے۔ یہ منصوبہ ادھورا کیوں رہ گیا؟ اس کے حوالے سے مختلف قصے کہانیاں ہیں۔ ضیاالحق کی شہادت سے دو روز قبل، اسلام آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور اس کے نتیجے میں مسلم لیگ جونیجو گروپ اور فدا گروپ میں تقسیم ہو گئی، تو چودھری برادران جونیجو گروپ میں تھے، جبکہ نواز شریف صوبہ سرحد کے معروف مسلم لیگی رہنما فدا محمد خاں کی زیر قیادت مسلم لیگ کے دوسرے دھڑے کے سیکرٹری جنرل ہو گئے۔ سانحہ بہاولپور کے بعد پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کا قیام عمل میں آیا، تو مسلم لیگ کے دونوں دھڑے جونیجو مرحوم کی قیادت میں متحد ہو کر اس کا حصہ بنے۔ تب سے شریف برادران اور چودھری برادران میں یک جان دو قالب والا معاملہ چلا آ رہا تھا۔ اکتوبر 1999 کے ٹیک اوور کے وقت چودھری شجاعت حسین، نواز شریف کابینہ میں وزیر داخلہ اور چوددھری پرویز الٰہی، وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے سپیکر تھے۔
ٹیک اوور کے بعد، یہ نیب کا نیا جنم تھا۔ اس سے پہلے نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران سیف الرحمن کی سربراہی میں ایک احتساب بیورو بھی تھا لیکن مشرف دور والا نیب اختیارات کے لحاظ سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ صرف ایک مثال، سیف الرحمن والے احتساب بیورو میں ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ مدت دو ہفتے تھی، جسے مشرف والے نیب میں 90 روز کر دیا گیا۔ جنرل مشرف کے سات نکاتی پروگرام میں احتساب اہم نکتہ تھا‘ لیکن اب یہ ان کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہا تھا۔ چودھری برادران مزاحمت کرتے رہے، لیکن کب تک؟ اس روز تو انتہا ہو گئی جب گجرات میں ظہور الٰہی پیلس کے ساتھ والے گھر میں، چودھریوں کے کزنوں کے ہاں شادی کی تقریب تھی اور ادھر چودھریوں کے گھر پر چھاپہ مارا جا رہا تھا۔ آخرکار چودھریوں نے بھی اطاعت قبول کر لی۔ پرویز مشرف نے ''اِن دی لائن آف فائر‘‘ میں لکھا کہ مسلم لیگ (قاف) ان کی سیاسی ضروریات کے لیے وجود میں لائی گئی تھی۔ اکتوبر 2002 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی میں ''پیٹریاٹس‘‘ کی تخلیق بھی اسی نیب کا کارنامہ تھا۔
نومبر 2007 میں میاں نواز شریف (اور شہباز شریف) کی وطن واپسی کے بعد کئی قاف لیگی واپس آگئے۔میاں عطا محمد مانیکا کی زیر قیادت پنجاب اسمبلی میں قاف لیگ کا ایک گروپ، شہباز صاحب کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ چودھری برادران کے واپسی کیوں نہ ہو سکی؟ یہ ایک الگ کہانی ہے۔
جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد، وفاق اور پنجاب میں چودھری برادران کی قاف لیگ قومی اسمبلی میں اپنے 5 اور پنجاب اسمبلی میں اپنے 10 ارکان کے ساتھ پی ٹی آئی کی کولیشن پارٹنر بنی۔ نوابزادہ صاحب (مرحوم) ایسے اتحادوں کیلئے Strange Bed fellows کے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ فریقین کی مجبوری کا سودا ہوتا ہے۔ وفاق میں طارق بشیر چیمہ کی وزارت ہائوسنگ‘پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کی سپیکرشپ اور ایک صوبائی وزارت قاف لیگ کے حصے میں آئی‘ لیکن وہ جو کہا جاتا ہے، آدمی آدمی سے ملتا ہے، دل مگر کم کسی سے ملتا ہے، تو یہاں بھی یہی معاملہ رہا۔ گزشتہ نومبر میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے دوران، چودھریوں کی اِن سے ملاقاتوں نے بھی پرائم منسٹر ہائوس میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ چودھری پرویز الٰہی کا بطور سپیکر، آزادانہ طرزعمل بھی شکایات میں اضافے کا باعث بنا۔ حمزہ شہباز اور سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈرز بھی مسائل پیدا کرتے رہے۔ آٹھ مئی سے شروع ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کیلئے بھی سپیکر نے حمزہ کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے ہیں۔ جیل سے رہائی کے بعد خواجہ برادران کی پرویز الٰہی سے ملاقات اور سہیل وڑائچ والے کالم میں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ چودھریوں سے شکوے شکایات ختم ہو گئے ہیں شاید معاملے کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے گیا۔ گزشتہ شب ٹاک شوز میں طارق بشیر چیمہ اور کامل علی آغا کا کہنا تھاکہ چودھریوں کے خلاف نیب کی تازہ کارروائی کے حوالے سے حکمرانوں کے کردار کے سامنے بھی کئی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ طارق بشیر کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعظم سے ملاقات میں اپنا ''مؤقف‘‘ بیان کریں گے۔ اس موقع پر احسن اقبال کا مفت مشورہ تھا، آپ وزیراعظم صاحب سے صرف یہ بات کہہ دیں کہ قاف لیگ پنجاب حکومت سے الگ ہو رہی ہے۔ طارق بشیر کا کہنا تھا، اپنی قیادت کی عزت کیلئے ہم ایک کیا، دس وزارتیں بھی چھوڑ سکتے ہیں۔

error: