احساس کی خوشبو

"حافظہ مریم خان"

گزشتہ روز سفر کے دوران ایک اسکوٹر والا چلتے چلتے رُکنے لگا جیسے اسکی سواری میں کوٸ رُکاوٹ آرہی ہو جیسے ہی اسکی موٹر ساٸیکل ہلکی ہوکر جھٹکے کھا رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والا ایک رکشہ ڈراٸیور اسکو دیکھتے ہی اپنی سیٹ سے تھوڑا کنارے کیطرف ہوا اور اسکے رُکنے سے پہلی ہی اپنے پاٶ کا سہارا دیتے ہوۓ اسکی اسکوٹر کو ٹو کرنا شروع کردیا وہ موٹر ساٸیکل سوار چل پڑا اس شخص نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا کہ مدد کرنے والا کون ہے رکشے والا بھی بلا معاوضہ اس شخص کی مدد کرنے میں مصروف تھا یہ منظر میں دیکھ رہی تھی کہ یہ ہے انسانیت، یہ ہے ہمدردی، یہ ہے اخلاق، یہ ہے تربیت، یہ ہے رحم دلی، یہ ہے خیال، یہ ہے بھاٸ چارہ، یہ ہے مدد کا جذبہ اور سب سے بڑھ کر یہ ہے احساس جو کہ آج کے زمانے میں بہت کم پایا جاتا ہے اس منظر کو دیکھ کر دل خوش ہوا کہ امیر غریب، رنگ نسل، ذات پات جانے بغیر رکشے والے نے اس آدمی کی مدد کی۔ رکشہ سوار نے اس شخص کی تو دعا لی ہی ہوگی اسکے علاوہ بلاجھجھک جب میرے دل سے دعا نکلی تو مجھ جیسے کتنے لوگوں کے دل سے یہ منظر دیکھ کر دعا نکلی ہوگی۔
خوبصورت زندگی کا راز ہے کہ دعا کی جاۓ، دعا لی جاۓ۔ دعا سے عبادت ہے، دعا سے برکت ہے، دعا سے حفاظت ہے، دعا سے معافی ہے۔ دعا کا کوٸ رنگ نہیں ہوتا مگر جب یہ دعاٸیں رنگ لاتی ہیں تو زندگی کو خوشیوں کے رنگ سے بھر جاتی ہیں چھوٹی سی نیکی بہت بڑا صلہ دیتی ہے اور دل سے نکلی دعا عرش کو ہلا دیتی ہے۔ دعا زبان سے نہیں دل سے نکلتی ہے۔ زندگی تو خود ایک عبادت ہے مگر شرط ہے کہ یہ کسی کے کام آٸے۔
کچھ لمحے کو میں ماضی میں پہنچ گٸ میرا دماغ پُرانا پاکستان یاد کرنے پر مجبورہوگیا جب وہ سچی محبتیں تھیں اپناٸیت تھی۔ کیا حسین لمحات تھے ایک روپی کی پتنگ کے پیچھے کتنے کلو میٹر تک بھاگتے تھے نہ جانے کتنی چوٹیں لگتی تھیں پتنگ بھی خوب دوڑاتی تھی لیکن آج پتہ چلتا ہے کہ وہ پتنگ نہیں تھی دراصل خوشیوں کو حاصل کرنے کا ایک چیلنج تھا ، خوشیاں حاصل کرنے کیلیے دوڑنا پڑتا ہے، سب کیساتھ مل کر سب کیساتھ محبتیں بکھیرتے ہوۓ ایک دوسرے کا خیال، احساس کرتے ہوۓ، دوسروں سے حرص کر کے، دل میں جلن رکھ کر مقابلہ کر کے اور دسروں کو گِراکر آگے بڑھنے سے خوشیاں حاصل نہیں کی جا سکتیں، خوشیاں دکانوں پر نہیں ملتی ہیں۔ جب بچپن تھا تو جوانی ایک خواب لگتا تھا اور اب جوانی میں بچپن ایک حسین یاد بن گیا۔
نفرتیں عام ہیں، دل میں بُغض چہروں پر مسکراہٹ لیے بہت اچھے سے ملتے ہیں۔ بھاٸ بھاٸ کا نہیں، بچے والدین کے نہیں، پہلے تو روڈ پر پڑا ہوا کیلے کا چھلکا بھی اٹھا کر کنارے کردیتے تھی کہ کوٸ گِر نا جاۓ اس سے آج تو زندگی کے راستے میں کانٹے بچھاتے نہیں تھکتے۔ پہلے مل کر خوشیاں مناتے تھے آج اکیلے میں خوش رہتے ہیں۔
پہلے چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں بہت سارے لوگ شامل ہوتے تھے جگہ چھوٹی اور لوگ زیادہ ہوتے تھے اب جگہ زیادہ ہے پر لوگ کم ہوگۓ ہیں۔ کہیں سے کوٸ کسی کی شادی یا کوٸ خوشی کا دعوت نامہ وصول ہو تو وہاں دینے سے زیادہ اپنے اوپر پیسے لگ جاتے ہیں کہ ہم اچھے لگیں سب سے اچھے لگیں اور لفافے میں فارملیٹی پوری کرتے ہوۓ وہ ہی بس ہزار دو ہزار رکھ دیے جاتے ہیں مگر مدد کا جذبہ نہیں اُجاگر ہوتا۔ اور جب کوٸ بیمار ہوجاۓ تو خالی ہاتھ پہنچ جاتے ہیں یا اگر کچھ شرم ہوتو جوس یا پھل لے جاتے ہیں یہ کبھی نہیں سوچتے کہ جب خوشی میں فارمیلیٹی پوری کر رہے ہیں یعنی اگر اس ایونٹ میں کچھ نا دیں تو وہاں شرمندگی ہے تو یہاں ہسپتال میں کیوں شرمندگی نہیں ہوتی جبکہ سب کو علم ہے کہ اس جگہ تو پیسیہ پانی کی طرح بہہ رہا ہوتا ہے پھر وہاں کیوں احساس نہیں ہوتا۔ ارے ہم تو مغربی رسم و رواج تلے روندے جا رہے ہیں محبت کا ایک دن، ماں کا ایک دن، باپ کا ایک دن، بہن، بھاٸ، دوست سب ہی کو ایک دن کی قدر ایک دن کی محبت میں قید کردیا ہے جبکہ والدین جیسی عظیم ہستیاں جو پوری زندگی اپنے بچوں کیلیے وقف کردیتے ہیں انکا حق ادا کرنے کو ایک دن کا محتاج کردیا ہے۔ اب جب اس ماحول میں یعنی نفسا نفسی کے دور میں اگر کوٸ بندہ بےلوث خرمت کرتانظر آجاۓ کہ مدد کرنے والے کو نہیں پتا وہ کون ہے اور اسی طرح مدد لینے والے کو نہیں پتا کہ کون ہے۔ آج کا انسان ایک روپے کیلیے انسان لڑ رہا ہے جبکہ سب کچھ یہیں چھوڑ جانا ہے لمحے کا بھرسہ نہیں زندگی کا مگر پھر بھی فکر نہیں۔ جھوٹ، غیبت، مکّاری سب عام ہے اس دور میں اس رکشے والے جیسے لوگوں کو سلام ہے جو احساس جیسی نعمت سے مالا مال ہیں اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت کی راہ پر گامزن کرے۔ خدمت، مدد کرنے کا موقع اور سچا جذبہ عطا فرماۓ ۔۔۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *