Site icon Dunya Pakistan

احسن رضا: سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی امپائر نیا عالمی ریکارڈ بنانے کے قریب

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے شدت پسند حملے کو ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے چار اپریل 2009 کو فون پر امپائر احسن رضا سے بات کی تو وہ لاہور کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔ اُن کی سانس پھول رہی تھی اور وہ بمشکل بات کر پا رہے تھے لیکن اس حالت میں بھی وہ صرف یہی کہہ رہے تھے کہ انھیں جلد از جلد دوبارہ امپائرنگ شروع کرنی ہے۔

احسن رضا نے نہ صرف اپنی قوت ارادی کے بل پر کرکٹ کے میدانوں کا دوبارہ رُخ کیا بلکہ ایک بار پھر بین الاقوامی امپائرنگ کے دھارے میں شامل ہو گئے اور اب صورتحال یہ ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کی نصف سنچری مکمل کرنے والے پہلے امپائر ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے ہیں۔

آٹھ نومبر کو پاکستان اور زمبابوے کے درمیان راولپنڈی میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل احسن رضا کا بحیثیت فیلڈ امپائر 50واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ ہو گا۔

’موت کو بہت قریب سے دیکھا‘

تین مارچ 2009 کو سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے میں اگرچہ متعدد سری لنکن کرکٹرز زخمی ہوئے تھے لیکن سب سے مہلک زخم امپائر احسن رضا کو آئے تھے۔

احسن رضا اس وین میں سفر کر رہے تھے جس میں اُن کے علاوہ امپائرز سائمن ٹافل، سٹیو ڈیوس، ندیم غوری اور میچ ریفری رس براڈ موجود تھے۔

شدت پسندوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر اس وین کا ڈرائیور موقع پر ہلاک ہو گیا تھا اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے میچ آفیشلز کے رابطہ افسر عبدالسمیع کے کندھے پر گولی لگی تھی۔

احسن رضا نے شور مچا کر اپنے ساتھیوں کو نیچے لیٹ جانے کے لیے کہا تھا لیکن انھیں خیال آیا کہ کرس براڈ اپنے دراز قد کی وجہ سے فائرنگ کی زد میں آ سکتے ہیں لہذا انھیں بچانے کی کوشش میں وہ خود بُری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ علاج کے دوران انھیں دو درجن خون کی بوتلیں لگی تھیں اور جسم پر تقریباً 85 ٹانکے لگے تھے۔

یہ صورتحال احسن رضا کی فیملی کے لیے بھی بڑی تکلیف دہ تھی لیکن ان کی والدہ اور اہلیہ نے انتہائی حوصلہ مندی سے نہ صرف احسن رضا کو معمول پر لانے میں مدد کی بلکہ تینوں بیٹیوں کی تعلیم پر بھی اُن کی مکمل توجہ رہی۔

ڈاکٹرز نے احسن رضا کو بتا دیا تھا کہ انھیں ٹھیک ہونے میں ڈیڑھ، دو سال لگ سکتے ہیں لیکن باہمت احسن رضا چھ ماہ بعد ہی امپائر کے روپ میں میدان میں نظر آنے لگے تھے۔

اس تمام تر صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب احسن رضا ہسپتال میں زیرعلاج تھے تو کسی حکومتی شخص کو ان کی عیادت یا خبر گیری کی توفیق نہیں ہوئی تھی اور اس کے بعد بھی جب سری لنکن ٹیم کے بس ڈرائیور مہر خلیل کو حکومت کی طرف سے ان کی حوصلہ مندی پر سرکاری سطح پر پذیرائی ملی تو اس وقت بھی احسن رضا حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو یاد نہ آئے کہ انھیں بھی کسی ایوارڈ کا مستحق سمجھا جاتا۔

شدت پسندی کے اس واقعے میں شدید زخمی ہونے کے بعد احسن رضا کو یہ مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ پاکستان کو غیرمحفوظ ملک سمجھتے ہوئے وہ برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کر لیں تاہم انھوں نے اس مشورے کو ترجیح نہ دی۔

یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ اس واقعہ کے 11 سال بعد احسن رضا کو اس سال جولائی میں ایک بار پھر اپنے پیٹ کے آپریشن کے سخت مرحلے سے گزرنا پڑا ہے کیونکہ پرانے زخم انھیں دوبارہ تکلیف دینے لگے تھے۔ اس بار یہ زخم 40 ٹانکوں سے بھرے گئے اور کئی ہفتوں تک وہ آئی سی یو میں رہے۔

کرکٹر سے امپائر بننے کا سفر

پاکستان کے متعدد بین الاقوامی کرکٹ امپائرز کی طرح احسن رضا نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے۔ وہ وکٹ کیپر تھے جنھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں حبیب بینک اور دوسری ٹیموں کی طرف سے چھ سالہ کریئر کے دوران 21 فرسٹ کلاس میچوں میں 56 کیچز اور سات اسٹمپڈ کیے۔

احسن رضا نےامپائر بننے کا ارادہ کیا تو ابتدا میں انھیں مشکلات کا سامنا رہا۔ وہ سنہ 2003 میں امپائرنگ کے بنیادی ٹیسٹ میں فیل ہو گئے لیکن اپنی محنت کے بل پر انھوں نے تمام مراحل عبور کیے۔ انھوں نے انگلینڈ سے بھی امپائرنگ کے دو لیول کیے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے امپائرنگ کے کورس بھی کامیابی سے مکمل کیے اور جب سنہ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تو احسن رضا ریزرو امپائر کے طور پر پینل میں شامل کیے گئے۔

احسن رضا کا امپائر کی حیثیت سے پہلا بین الاقوامی ون ڈے میچ فروری 2010 میں افغانستان اور کینیڈا کے درمیان شارجہ میں تھا۔ مئی 2015 میں انھیں پہلی بار پاکستانی سرزمین پر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچوں میں امپائرنگ کا موقع اُس وقت ملا جب زمبابوے کی ٹیم پاکستان آئی تھی۔ یہ سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان میں ہونے والی پہلی بین الاقوامی سیریز تھی۔

اس سیریز کے موقع پر ملکی اور غیرملکی میڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز کھلاڑیوں کے بجائے دو افراد تھے ایک احسن رضا اور دوسرے سری لنکن ٹیم کی بس ڈرائیور مہرخلیل۔ دونوں کے انٹرویوز کے لیے ذرائع ابلاغ کے ہر نمائندے کی یہی خواہش تھی کہ یہ انٹرویو لبرٹی چوک پر ہو جہاں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔

احسن رضا کے لیے وہ انتہائی جذباتی لمحہ تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ انھیں اس واقعے کو بھلا کر آگے بڑھنا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں اپنی امپائرنگ کی وجہ سے یاد رکھا جائے، اس واقعے کی وجہ سے نہیں۔

احسن رضا اس واقعے کو ُبھلا کر اب نارمل زندگی ضرور گزار رہے ہیں لیکن اُس خوفناک واقعہ میں اپنے ساتھ موجود تمام ساتھیوں کے ساتھ خود کو اس طرح جوڑ کر رکھا ہوا ہے کہ ہر سال تین مارچ کو یہ تمام میچ آفیشلز ایک دوسرے کو ای میل کے ذریعے صحت اور محفوظ زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

آسٹریلوی امپائر سائمن ٹافل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ احسن رضا کی سب سے خاص بات ان کا جنون اور استقامت ہے۔ وہ امپائرنگ سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ اس کھیل کی تیسری ٹیم جو امپائرز کی ہوتی ہے اس کی اقدار اور حوصلے کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔

سائمن ٹافل کہتے ہیں کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ لاہور کے ہولناک واقعے سے براہ راست متاثر ہونے کے باوجود وہ بین الاقوامی سطح پر امپائرنگ میں واپس آئے اور اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں۔

احسن رضا سنہ 2017 میں ایم سی سی کی کرکٹ قوانین سے متعلق کمیٹی کا حصہ رہے ہیں۔

احسن رضا نے دنیا بھر میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے 19 فائنلز میں امپائرنگ کی ہے۔ وہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں سب سے زیادہ فائنل میچوں میں امپائرنگ کا منفرد اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

احسن رضا نے اس سال آسٹریلیا میں ہونے والے خواتین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں امپائرنگ کی تو وہ تیسرے پاکستانی امپائر بنے جنھیں آئی سی سی کے کسی ورلڈ کپ فائنل میں امپائرنگ کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان سے قبل محبوب شاہ نے سنہ 1987 کے مینز ورلڈ کپ اور علیم ڈار نے سنہ 2007 اور سنہ 2011 کے مینز ورلڈ کپ کے فائنل میں امپائرنگ کی تھی۔

احسن رضا نہ صرف خود بین الاقوامی میچوں میں امپائرنگ کر رہے ہیں بلکہ کئی برسوں سے وہ ایک کوالیفائیڈ ایجوکیٹر کی حیثیت سے پاکستانی امپائرز کی تربیت بھی کر رہے ہیں۔

Exit mobile version