Site icon Dunya Pakistan

احمدندیم قاسمی کی یادیں

پندرہ برس پہلے یہ جولائی ہی کا مہینہ تھا۔جب عہد سازادیب،شاعراورصحافی احمدندیم قاسمی ہم سے جدا ہوکرخالق حقیقی سے جا ملے۔ان کی موت سے پیداہونے والا خلااس لئے بھی کبھی پرنہیں ہوسکتاکیونکہ احمدندیم قاسمی فقط ایک فردکا نام نہیں بلکہ اردوشعروادب اور صحافت کے ایک عہدکانام ہے۔وہ قلم قبیلے کا ایسا روشن حوالہ ہیں جس کی چکا چوندان کی موت بھی کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔اہل قلم کاایک قافلہ انہوں نے اپنی زندگی میں تیارکیاجس کے ناصرف وہ میرِکارواں تھے بلکہ استاد اورسالاربھی تھے۔ان کی شاگردی میرے لئے توہمیشہ باعثِ اعزازاور ”قاسمی سکول آف تھاٹ“سے تعلق افتخارکی بات رہی ہے۔ایسی شاندار،بامقصد،بامعنی زندگی گزارنے والے شخص کی حیات جاوداں چراغوں کے ایک سلسلے کی طرح ہماری جہالت کے اندھیرے مٹاتی اور رہنمائی کرتی چلی جاتی ہے۔قاسمی صاحب کے چہرے پر ہمیشہ تبسم رہتا تھا۔ان کے لہجے کی نرمی سے ان کی سخت اصول پسندی اورنظریاتی وابستگی کی گہرائی کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا۔
اگر کہا جائے کہ برصغیر پاک وہند میں روزنامہ امروزپہلااردواخبار تھاجسے عوامی مقبولیت اور قبولیت حاصل ہوئی تویہ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ حق بیانی ہوگی۔احمدندیم قاسمی نہ صرف اس کے ایڈیٹررہے بلکہ اردوصحافت کی تاریخ میں جومعتبرمقام روزنامہ امروز کو حاصل ہے اس میں کلیدی کردارقاسمی صاحب کا ہی تھا۔صحافیوں کی ایک پوری نسل کی انہوں نے تربیت کی اورتادم مرگ جنگ اخبار میں باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے۔امروزان کی ادارت کے دنوں میں ترقی پسند اوربائیں بازوکے نظریات کا حمایتی اخبارتصورکیا جاتاتھا۔ جنرل ایوب خان نے جب مارشل لاء نافذکیا تواس کے کچھ ہی عرصے بعدقاسمی صاحب پابندِسلاسل کردئیے گئے۔ان کااخبارقومیالیا گیا۔ایک شام ٹمپل روڈ لاہورمیں ان کے اشاعتی ادارے ”اساطیر“کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی گرفتاری کی روداد بیان کی تھی۔بتاتے تھے کہ لباس اور جوتے تبدیل کرنے کی اجازت بھی سرکاری حکام نے بمشکل عطا فرمائی تھی۔آزادی صحافت اور جمہوریت کی بالا دستی کے لئے بار ہا انہیں جیل جاناپڑا۔نظریاتی آدمی تھے لہٰذاماتھے پر کبھی شکن نہیں لے کر آئے۔حریت فکرکا راستہ انہوں نے خود ہی اپنے لئے منتخب کیاتھا۔مجبوری نہ تھی۔
محبت کرنے والے آدمی تھے یوں کہہ لیجئے کہ سراپامحبت تھے۔ہمارے ایک ہم عصر شاعران کے دفترمیں بیٹھے ایک دن قاسمی صاحب کو اپنی بدگوئی اورجھوٹے پروپیگنڈے کی صفائی پیش کرنے کے ساتھ ساتھ محبت کایقین بھی دلاناچاہتے تھے۔مذکورہ شاعرچونکہ ایک ادبی چیتھڑے کے ایڈیٹر بھی تھے جس میں قاسمی صاحب کے بارے میں بد زبانی اوربے سروپاالزام تراشی کاسلسلہ جاری رہتاتھا۔میں نے جب یہ منظر دیکھاتو اس بات پر حیران تھا کہ قاسمی صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ مصنوعی نہ تھی بلکہ محبت سے لبریز تھی۔معاصرشاعرکو کہنے لگے کہ ”محبت ایسا جذبہ ہے کہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی،اس کاپتہ چل جاتا ہے،خودبخود“بتاتے تھے کہ اپنے ادبی سفر کا آغازانہوں نے شاعری سے کیا تھا۔بعدازاں افسانہ نگاری اور کالم نویسی کی جانب راغب ہوئے۔اقبال،ظفر علی خاں اور اخترشیرانی کی شاعری انہیں زیادہ پسند تھی۔جبکہ افسانے کے معاملے میں وہ منشی پریم چند کے عاشق تھے۔فیض احمد فیض کے ساتھ ان کاانگریزی کی ترکیب کے مطابق ”لو ہیٹ“یعنی محبت اور نفرت کاملغوبہ نماتعلق تھا۔یہ تعلق تھا مگر بہت گہرا۔دونوں ہم عصر بائیں بازو کے شاعر،ایک ہی اخباری گروپ کے ایڈیٹر،یاد رہے کہ فیض صاحب انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کے انہی دنوں ایڈیٹر تھے جن دنوں قاسمی صاحب امروز کے مدیر تھے۔ترقی پسند تحریک سے وابستہ ان دونوں نابغہ روزگارشخصیات کی باہمی خط وکتابت بھی رہی جو کہ اب کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہے اورخاصے کی چیز ہے۔گرچہ دونوں کے درمیان معاصرانہ چشمک بھی پائی جاتی تھی۔
ایک دن میں نے قاسمی صاحب سے فیض احمد فیض کا ذکر چھیڑ دیا۔ان کے چندشعر سنائے،چونکہ آدھا”نسخہ ہائے وفا“تومجھے زبانی یادتب بھی تھا،اپنے اور فیض صاحب کے باہمی تضادات کا ذکر کرنے لگے۔چین کے دورے کاتذکرہ چھیڑ دیا،کہنے لگے کہ فیض اور میں ایک جھیل کی سیر کے موقع پر ایک کشتی میں سوار تھے۔فیض صاحب رسیا آدمی تھے۔دیگر موجود احباب بھی ان کے ساتھ مہ نوشی میں مشغول تھے۔ان کے دل میں ناجانے کیا آئی کہ ایک جام شراب کابھر کر مجھے بڑی لجاجت سے پیش کرنے لگے۔میں نے انکار کیا۔اصرار بڑھتا گیاتو میں نے جام تھام لیا۔کچھ توقف کے بعد میں نے اس جام کوجھیل کے پانی میں انڈیل دیا۔یہ دیکھ کرفیض صاحب کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا۔کہنے لگے تم نے شراب کی توہین کی ہے،اب میں کبھی تمہیں شراب پیش نہیں کروں گا۔قاسمی صاحب صاف ستھرے آدمی تھے۔زندگی میں کبھی شراب نوشی نہیں کی۔ان کا کہنا تھاکہ میں ترقی پسند تھا اور ہوں مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک سیدھاسادہ مسلمان بھی ہوں۔میں نے انہیں کبھی میلے لباس میں نہیں دیکھا،روزانہ شیوبناتے تھے،نوے سال کی طویل عمر پائی مگرعمر کے آخری برسوں میں بھی ذہنی اور جسمانی طور پرہمیشہ انہیں مستعدپایا۔منیر نیازی انہیں ”سدابہار بوڑھا“کہتے تھے۔منیر نیازی صاحب کی باتوں کاکیا براماننا،”بڑے آدمی تھے“خیر یہ تو بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں کہ مجھے انٹرویودیتے ہوئے قاسمی صاحب نے بھی منیر نیازی کے بارے میں کہا تھاکہ وہ صرف سطح کی شاعری کرتے ہیں،انہیں توگہرائی میں جانے سے باقاعدہ خوف آتا ہے۔
احمد ندیم قاسمی کے آپ کو نقاد بھی بہت ملیں گے۔جس کی وجہ میری نظر میں تو واحد یہ ہے کہ ان کی سماج میں عزت اور اثرورسوخ چونکہ بہت زیادہ تھا،اس لئے بہت سارے لوگ ان کوہدفِ تنقید بنا کرلوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ذاتی طور پران کا مانناتھا کہ میری مخالفت کا آغازاس وقت ہوا جب رسالہ ”فنون“جاری ہوا۔یاد رہے کہ قاسمی صاحب نے نصف صدی سے زائد عرصے تک اردوزبان و ادب کے اس سب سے معتبرومؤقررسالے کی ادارت کا فریضہ بھی انجام دیا۔آج کل ان کی دختر نیک اختر ان کایہ ادبی مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
احمد ندیم قاسمی جیسا نفیس اور شائستہ آدمی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔غیرت منداورہمدرد،شفیق مگر اصول پرست،روشن خیال مگر بلند کردار۔اپنی زندگی کی آخری دودہائیاں ہم نے انہیں لاہور کے مال روڈ پرمجلس ترقی ادب کے دفتر میں صدرنشین کی کرسی پر بیٹھے دیکھا۔ضعیفی کے باوجودایک عجیب وقار،رعب اورطنطنہ تھاان کی شخصیت کے اندرکرسی پرڈھیلے،ڈھالے نہیں بیٹھتے تھے۔بلکہ الرٹ اورتیر کی طرح سیدھی کمر کے ساتھ۔ انتہائی غریب پرورانسان تھے۔دوسروں کے کام آنے والے۔ایک محنت کش اور غیرت مندماں کی اولاد تھے جوکہ جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی، انا اور غیرت کے ساتھ مفلسی کے مشکل دن بچوں کے ساتھ کاٹنے والی اس عورت کی ساری خوبیاں ان کے بیٹے میں بھی نظر آتی تھیں،دنیا جسے آج احمدندیم قاسمی کے نام سے جانتی ہے۔پاکستان کے تمام اہم سرکاری اعزازات اورتمغے انہیں ملے لیکن میں نے قصداً ان کا ذکر نہیں کیا۔چونکہ اقرباپروری اورسیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر اعزازات کی لوٹ سیل نے ان کی قدروقیمت کو ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت سے بھی کم کردیا ہے۔کسی بھی تخلیق کار کے لئے سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ عام لوگ اسے کیسے یاد رکھتے ہیں؟اس بے بدل شاعر اوراردو کے سب سے بڑے افسانہ نگارکا اصل اعزازیہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔اہلِ محبت دعاؤں میں اسے یاد کرتے ہیں۔ انہی کے ایک شعر کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں۔

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تودریاہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

Exit mobile version