احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ: جب مغل خاندان کی ملکہ نے اپنے ہاتھوں سے بادشاہ سے محبت کرنے والی کنیز کو زہر پلایا

وہ ایک کنیز تھیں مگر انتہائی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی تھیں اور انہی خصوصیات کے باعث وہ بادشاہ کے دل پر راج کیا کرتی تھیں۔

بادشاہ اکثر اپنی اس کنیز سے باغ میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے جس کے باعث ملکہ کی آنکھوں میں وہ کانٹے کی طرح کھٹکتی تھیں۔

ملکہ، بادشاہ اور کنیز کے اس تعلق سے پریشان تھیں اور پھر زہر کا ایک پیالا لایا گیا تاکہ اس تعلق کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

یہ آج سے کوئی ڈھائی سو سال پہلے کی بات ہے جب افغانستان اور ہندوستان کے شمالی علاقے پشاور میں درانی خاندان کی حکومت تھی۔ پشاور کے قلعہ بالاحصار میں درانی بادشاہ تیمور شاہ کی رہائش گاہ تھی جہاں وہ سردیوں میں رہنے آتے تھے جبکہ گرمیوں میں وہ کابل چلے جاتے تھے۔

اُس کنیز کا نام بی بی جان تھا جن کا مقبرہ آج بھی پشاور کے وزیر باغ کے علاقے میں موجود ہے۔ مقامی لوگ اسے ’بیجو دی قبر‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ مقبرہ اٹھارویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

بادشاہ اور کنیز کی محبت

احمد شاہ ابدالی
،تصویر کا کیپشنتیمور شاہ احمد شاہ ابدالی کے بڑے بیٹے تھے اور ابدالی کی وفات کے بعد عنان حکومت تیمور شاہ نے سنبھالا تھا (احمد شاہ ابدالی کا فرضی خاکہ)

یہ کہانی 1772 کے بعد اُس وقت شروع ہوئی جب احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کو بادشاہت ملی تھی۔

محکمہ آثار قدیمہ کے ریسرچ افسر بخت محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ درانی دور کی چیدہ چیدہ معلومات ہی فی الوقت دستیاب ہیں کیونکہ اس دور کے زیادہ تر احوال دستاویزی شکل میں محفوظ نہیں کیے گئے۔

ان کے مطابق تیمور شاہ اور بی بی جان کی محبت کی داستان اور ملکہ کے انتقام کی کہانی بھی سینہ بہ سینہ یعنی روایت کی شکل میں ہی موجود ہے اور لوک داستانوں میں اسے بیان کیا جاتا ہے کیونکہ اس پر باقاعدہ اور مستند تحاریر یا کتابیں موجود نہیں ہیں۔

احمد شاہ ابدالی کو احمد شاہ درانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جن کی حکمرانی افغانستان اور ایران کے کچھ حصوں کے علاوہ ہندوستان کے چند شمالی علاقوں، بشمول پشاور، میں بھی قائم تھی۔ ہندوستان میں اس وقت مغل بادشاہ اقتدار میں تھے۔

احمد شاہ کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے تیمور شاہ بادشاہ بنے تو وہ گرمیوں میں کابل اور سردیوں کے موسم میں پشاور میں رہتے تھے۔

دستیاب معلومات پر اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بخت محمد نے بتایا کہ تیمور شاہ درانی کی شادی مغل خاندان میں ہوئی تھی اور ان کی اہلیہ یعنی ملکہ مغل بادشاہ عالمگیر کی بیٹی تھیں۔

بخت محمد کے مطابق بی بی جان تیمور بادشاہ کی کنیز تھیں اور بے حد خوبصورت اور بلا کی ذہین تھیں۔ تیمور اکثر امور سلطنت چلانے اور مغلوں کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے کے حوالے سے بی بی جان سے بھی مشاورت کیا کرتے تھے۔

’اُن کی محبت کے قصے زبان زد عام تھے اور ملکہ کو بھی اس کا علم ہو چکا تھا۔‘

بخت محمد کے مطابق بادشاہ بی بی جان کو پیار سے ’بیبو‘ کہا کرتے تھے۔ ’بادشاہ کے وہ قریبی ساتھی بشمول ملکہ جو جو بی بی جان کو پسند نہیں کرتے تھے وہ انھیں (بی بی جان) طنزاً بیجو کہتے تھے۔ بیجو فارسی زبان میں بندر کو کہتے ہیں۔‘

ملکہ کی چال

مقبرے
،تصویر کا کیپشنبی بی جان کے مقبرے کے باہر نصب معلوماتی بورڈ

بخت محمد کے مطابق مغل خاندان سے تعلق رکھنے والی ملکہ اور ان کے ساتھی بادشاہ سے بی بی جان کی قربت کے باعث ان سے حسد کرتے تھے اور اسی لیے بی بی جان کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا گیا کیونکہ دربار میں لوگ نہیں چاہتے تھے کہ بی بی جان بادشاہ کو مشورے دیں۔

’ایک روز ملکہ نے بی بی جان کو بُلایا اور باتوں میں مصروف کر لیا۔ باتوں ہی کے دوران ملکہ نے بی بی جان سے کہا کہ اگر وہ انھیں کچھ حکم دیں تو کیا وہ مانیں گی؟ جس پر بی بی جان نے کہا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔‘

’ملکہ نے بی بی جان کو ایک پیالے میں موجود مشروب پینے کو کہا۔ وہ مشروب دراصل زہر تھا۔ بی بی جان ساری صورتحال سے آگاہ ہو چکی تھیں اور انھیں معلوم تھا کہ ملکہ انھیں زہر پینے کو کہہ رہی ہیں۔ کچھ سوچ کے بعد بی بی جان نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ بادشاہ سے ملنا چاہتی ہیں لیکن ملکہ نے بی بی جان کو بادشاہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد بی بی جان نے زہر کا پیالہ پی لیا اور اُن کی موت واقع ہو گئی۔‘

بخت جان کے مطابق ایسی روایتیں بھی ہیں کہ ملکہ نے چالاکی اور دھوکہ سے بی بی جان کو زہر کا پیالا دیا تھا۔

بیجو کا مقبرہ

مقبرہ

بخت جان بتاتے ہیں کہ جب تیمور شاہ کو جب اس واقعے کا علم ہوا تو انھیں بے حد افسوس ہوا۔ انھوں نے بی بی جان کی یاد میں مقبرہ تعمیر کرایا تھا جو آج بھی پشاور میں موجود ہے۔

یہ مقبرہ پشاور کی فصیل شہر کے باہر جنوب میں وزیر باغ کے قریب قبرستان میں تعمیر کرایا گیا تھا۔ پشاور کو باغات اور پھولوں کا شہر کہا جاتا ہے اور اس کی نسبت اس وقت کی نسبت سے جب پشاور شہر کے ارد گرد باغات تھے۔ ان باغات میں وزیر باغ کے علاوہ شاہی باغ، باغ سعید خان جبکہ موجودہ جناح پارک کی جگہ بھی ایک باغ تھا۔

اس دور میں بڑے لوگوں کو ان باغات میں دفن کیا جاتا تھا اور بی بی جان کو بھی وزیر باغ میں دفن کیا گیا اور ان کا ایک عالی شان مقبرہ بھی تعمیر کرایا گیا۔

یہ مقبرہ اب بیجو کی قبر یا بیجو دس مقبرہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں اب بہت بڑا تاریخی قبرستان بھی ہے۔

حقائق اور کہانیاں

بخت محمد نے بتایا کہ احمد شاہد ابدالی اور اس کے بعد تیمور شاہ درانی کے دور کی تاریخ کی دستاویز انتہائی کم ہیں جبکہ مغل دور اور اس کے بعد تاریخ کتابی شکل میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر معلومات سینہ بہ سینہ منتقل ہوئی ہیں۔

بیجو کا مقبرہ انتہائی خستہ حال ہے اور اس کے دو دروازے مستقل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس مقبرے میں ایک جانب قبر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بی بی جان کی قبر ہے۔

اس بارے میں ایک کتابچہ جس کا عنوان ہے پشاور کی غیر تحریری تاریخ ہے اس میں محمد نواز خان نے لکھا ہے کہ بی بی جان ادھر وزیر باغ کے قریبی علاقے کی رہائشی تھی جن سے بادشاہ کو محبت تھی۔

انھوں نے لکھا ہے کہ بی بی جان کو ملکہ نے زہر دے کر مارا تھا اور یہ کہ یہ مقبرہ بادشاہ نے پھر تعمیر کرایا تھا جہاں بی بی جان کو دفن کیا گیا تھا۔

تاریخ دان احمد حسن دانی نے اپنی ایک کتاب میں اس واقعے کا سرسری ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس قبر میں جو دفن ہے وہ بی بی جان ہی ہیں۔

احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ: جب مغل خاندان کی ملکہ نے اپنے ہاتھوں سے بادشاہ سے محبت کرنے والی کنیز کو زہر پلایا” پر ایک تبصرہ

  • April 30, 2021 at 9:03 pm
    Permalink

    تیمور شاہ درانی والا قصہ حقیقت ہے یا افسانہ یہ تو معلوم نہیں لیکن بندر کو فارسی میں بیجو ہر گز نہیں کہتے۔ بندر کو فارسی میں میمون کہتے ہیں۔ بیجو یا بیزو پشتو میں بندر کو کہتے ہیں اور ہندکو بولنے بیجو کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کی سہولت موجود نہیں۔

error: