اخلاقی پاکیزگی اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی

جن مذہبی مبلغین نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کا رخ کیا، ان میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی نمایاں ہیں۔ انہوں نے بروقت اس کی اہمیت کا ادراک کیا۔
آج ڈاکٹر صاحبہ ایک وسیع حلقہ اثر رکھتی ہیں۔ اِس کے پھیلاؤ کے متعدد اسباب ہیں‘ جن میں سے ایک اہم سبب یہی سوشل میڈیا ہے۔ گزشتہ دنوں، سائبر دنیا کی آوارہ گردی کرتے ہوئے، ان کے خطبات کے کئی مختصر کلپس نظر سے گزرے۔ ان میں افادیت کا ایک بہت اہم پہلو سامنے آیا۔ مجھے خیال ہوا کہ اس کا ابلاغِ عام ہونا چاہیے۔
بطور جملۂ معترضہ عرض ہے کہ مجھے ڈاکٹر صاحبہ کی تفہیمِ دین سے فی الجملہ کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر ان کے خطبات سنتے ہوئے، ایک تاثریہ ملتا ہے کہ دین اصلاً مرد کے لیے اترا ہے‘ عورت کی اپنی کوئی انفرادیت یا شخصیت نہیں۔ یہ بھی مظاہرِ فطرت میں سے ایک مظہر ہے جس کی وجۂ تخلیق مرد کو تسکین اور آسودگی فراہم کرنا ہے۔ اس کا دل چاہے یا نہ چاہے، وہ مرد کو ہر وقت میسر رہنی چاہیے۔ یہ بات مجھے کبھی سمجھ نہیں آ سکی۔ اس وقت لیکن ان کی یہ تفہیمِ دین میرے پیشِ نظر نہیں۔ میرا موضوع دوسرا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتے ان کلپس میں ڈاکٹر صاحبہ نے ایک مسلمان مرد اور عورت کے جنسی مسائل اور معاملات کو موضوع بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ایک مسلمان مرد یا عورت جب جسمانی طور پر بالغ ہوتے ہیں تو ان میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور دین اس باب میں کیا راہنمائی کرتا ہے۔ اس موضوع کا ایک اہم حصہ ازدواجی تعلقات سے متعلق ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے کو اپنے جنسی معاملات میں کن باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے، ڈاکٹر صاحبہ اس پر بھی دینی حوالے سے گفتگو کرتی ہیں۔
یہ ڈاکٹر صاحبہ کی ایک ایسی خدمت ہے جس پر وہ پورے معاشرے کی طرف سے تحسین کی مستحق ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہؓ کا اس امت پر ایک بڑا احسان یہ ہے کہ وہ دین کے ایک بڑے اور اہم حصے کی راوی ہیں۔ ازواجِ مطہرات کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس دین کو لوگوں تک پہنچائیں جو پیغمبرﷺ پر اتراہے (احزاب)۔ یہ سعادت سب سے زیادہ حضرت عائشہؓ کے حصے میں آئی۔ انہوں نے اس امت کو اخلاقی پاکیزگی اورجسمانی طہارت کے آداب سکھائے۔
اس امت کی بیٹیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اُن میں سے کچھ دین کا اعلیٰ علم حاصل کریں اور امہات المومنین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، امت بالخصوص خواتینِ اسلام کی راہنمائی کریں تاکہ وہ ایک مسلمان کی زندگی گزارسکیں۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی نے یہی خدمت سرانجام دی ہے۔ انہوں نے ایسے مسائل پر گفتگو کی ہے، جن پر بات کرنا، ہمارے ہاں اخلاق کے خلاف سمجھا جاتاتھا۔
اسی کو ہمارے دور میں 'جنسی تعلیم‘ کہاجا تا ہے۔ کچھ سال پہلے جب اس موضوع پر بحث کا آغاز ہوا تو ہمارا مذہبی طبقہ اس کے خلاف میدان میں نکل آیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ دراصل اباحیت کی تعلیم ہے۔ اس کا مقصد معاشرے کو بے راہ بنانا ہے۔ اس کی بھرپور مزاحمت ہوئی اور یوں یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ ہماری حکومتیں مذہبی معاملات میں کبھی آزادانہ فیصلے نہیں کرسکیں۔ ان کے کمزوری کے باعث، مذہب اہلِ مذہب کے ہاتھوں یرغمال بن کے رہ گیا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ مغربی ممالک میں رائج جنسی تعلیم ہماری مذہبی وسماجی روایات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پروہاں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ جنسی عمل کوجسمانی طور پر محفوظ کیسے بنایا جائے لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ اخلاقی پہلوسے صحت مند رہنے کے لیے کیا کیا جائے یا یہ کہ جسمانی تعلق کب جائز ہوتا ہے اور کب گناہ کے دائرے میں آتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ 'جائز ناجائز‘ یا 'گناہ ثواب‘ کا کوئی تعلق تعلیم سے نہیں۔
ظاہر ہے کہ ہماری سماجی روایات ان سے مختلف ہیں۔ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اپنی تعلیم کو اپنے سماجی روایات سے ہم آہنگ بنائیں تو ہمیں بھی یہ حق ہے کہ ہم اسے اپنی روایات سے ہم آہنگ بنائیں۔ پاکستان میں ستانوے فیصد مسلمان ہیں لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ سو فیصد آبادی ایک جیسی سماجی اقدار رکھتی ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسی مذہبی اقلیت موجود نہیں ہے جو ایک سماجی معاہدے سے آزاد جنسی تعلق کو قبول کرتی ہو۔ شادی کا ادارہ ہر اس مذہب میں موجود ہیں، جس کے ماننے والے پاکستان میں بستے ہیں۔
جنسی تعلیم کے معاملے میں ہم ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف مذہبی طبقہ ہے جو اس موضوع کو چھیڑنا ہی گناہ سمجھتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ بھی ہے جو پاکستانی معاشرے کی سماجی حساسیت کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ اس کا مظاہرہ ایک تعلیمی ادارے میں دیکھا گیا جہاں نوجوان بچیوں کے نجی معاملات کو اشتہار بنا دیا گیا۔ مذہب تو دور کی بات، یہ رویہ تو شائستگی کے کم سے کم پیمانے پر بھی پورا نہیں اترتا۔
افراط و تفریط اس معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں جس میں مکالمہ نہیں ہوتا۔ جہاں گھٹن ہو اور لوگ بات سنے بغیر فیصلے دینے پر آمادہ رہتے ہوں۔ ایسے معاشرے میں ایک دوسرے کی بات سمجھنے کا ماحول نہیں ہوتا۔ یوں وہ گروہوں میں بٹ جاتا ہے اوربدگمانی اس کا حصار کر لیتی ہے۔ ہمارے ہاں جنسی تعلیم کا موضوع بھی اسی تقسیم کا شکار ہو گیا اور ہم ایک اہم موضوع سے اس لیے لاتعلق ہو گئے کہ اس پر بات کرنا فساد کو دعوت دیناہے۔
جنسی اخلاقیات کو جانے بغیر اخلاقی پاکیزگی اور جسمانی طہارت کا حصول ممکن نہیں۔ ایک بچہ جب لڑکپن اور جوانی کی حدود میں قدم رکھتا ہے، لازم ہے کہ اسے ضروری باتیں معلوم ہوں۔ اسے اندازہ ہو کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر کن تبدیلیوں سے گزرنے والا ہے اور اسے کیسے ان کو قبول کرنا ہے۔ یہ کام والدین کا ہے اور نظامِ تعلیم کا بھی۔ اگر جنسی تعلیم ممنوع ہو گی تو وہ کیسے جان پائے گا؟
ہمارے ہاں لوگ شادی کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور یہ نہیں جان پاتے کہ ان کی زندگی کن تبدیلیوں سے گزرنے والی ہے۔ انہیں ادھر ادھرسے ایسی معلومات ملتی ہیں جو ان کی ازدواجی زندگی کواجیرن بنا دیتی ہیں۔ مجھے انڈونیشیا کی سب سے بڑی مذہبی جماعت نہضۃ العلما کے شعبہ خواتین کے ذمہ داران سے ملنے اور ان کے تربیتی مرکز جانے کا اتفاق ہوا جو 'المسلمات‘ کے نام سے منظم ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میں ان بچیوں کے لیے ایک تربیتی نظام بنا رکھا ہے جو شادی کی عمر کو پہنچ رہی ہوں۔ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ شادی کے بعد ان کی زندگی میں کیا جسمانی، نفسیاتی اور سماجی تبدیلیاں آنے والی ہیں اور انہیں کیسے ان کا سامنا کرنا ہے۔ ان کے قانونی حقوق کیا ہوں گے اور سماجی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟
ڈاکٹر فرحت ہاشمی نے ہمت کی اور ان مسائل پر قوم کی تربیت کا عزم کیا جن پر بات کرنا خلاف شرع و اخلاق سمجھا جاتا تھا۔ اس پر وہ ہماری تحسین کی مستحق ہیں۔ میں جس حد تک یہ کلپس دیکھ پایا، ڈاکٹر صاحب بہت سلیقے کے ساتھ الفاظ کا انتخاب کرتیں اور اچھے اسلوب میں اپنی بات کا ابلاغ کرتی ہیں۔ انہوں نے اس واہمے(myth) کو تو ختم کر دیا کہ جنسی مسائل پر کلام کرنا، غیر اسلامی ہے۔
یہ اس ملک کے ماہرینِ تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تہذیبی قدروں اور نظامِ اخلاق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نصاب تعلیم مرتب کریں اور قوم کی درست تربیت کا اہتمام کریں۔ حکومت اگر تعلیمی نظام پر نظر ثانی میں سنجیدہ ہے تو اسے بھی چاہیے کہ تعلیم کے اس پہلو کو اولیت دے۔ یہ مسائل تو وہ ہیں جن پر تعلیمِ بالغاں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ مذہبی جماعتوں اور گروہوں کی ترجیح تو صرف سیاست ہے یا مذہبی جذبات کی تجارت ہے، الا ماشااللہ۔ اس لیے یہ کام سنجیدہ لوگوں کو کرنا ہوگا۔اس کے لیے پہلے قدم کے طور پر،ایک مکالمے کا آغاز ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا ہر کسی کی رسائی میں ہے اور اخلاقی فساد کے تمام اسباب مہیا ہیں۔ لازم ہے کہ اخلاقی تعلیم کے اسباب بھی فراواں ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *