ادبی ادارے اور احمد شاہ!

ہمارے درمیان کچھ ایسے انتھک لوگ موجود ہیں جو برس ہا برس سے ادب وثقافت کے فروغ کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں، ان میں سے کچھ کی پذیرائی ہوئی ہے اور کچھ کی اتنی پذیرائی نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق ہیں ،میں نے تو کچھ ایسے ’’خوش قسمت‘‘ بھی دیکھے ہیں جو قوم کی بدقسمتی سے ادبی اور ثقافتی اداروں کے سربراہ ہیں ۔کروڑوں روپے کے فنڈز ان کو ملتے ہیں لاکھوں کی تنخواہ اور ٹھاٹھ باٹھ اس کے علاوہ !مگر کام دیکھو تودھیلے کا بھی نہیں ۔اس کے علاوہ ایک اور بات بھی محسوس کرتا ہوں کہ حکومتی زیر اہتمام چلنے والے یہ ادارے کسی ایک تسبیح میں پروئے نہیں گئے بلکہ یہ سب دانے علیحدہ علیحدہ ہیں اور یوں بسااوقات یہ مختلف ادارے ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں اور جس کام کے لئے خصوصی طور پر وہ قیام میں لائے گئے تھے وہ کام نظرانداز ہو جاتا ہے۔ پی پی پی کے دور حکومت میں ان اداروں کی الگ الگ شناخت کے اہتمام کےلئے ایک اپر باڈی قائم کر دی گئی تھی جس کے سربراہ فخرزمان تھے اور یوں ہر ادارہ صرف وہی کام کرتا تھا جس کے لئے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

مگر اس نوع کے ادارے کی سربراہی کے لئے ایک عاشق صفت انسان کی ضرورت ہے جس کا کوئی مفاد اس سے وابستہ نہ ہو ،ادب و ثقافت کے رموز سے بھی پوری طرح آگاہ ہو تو پھر دیکھئے ہمارے ملک میں کیسے ایک مثبت انقلاب وجود میں آتا ہے میں نے اندرون ملک اور بیرون ملک سینکڑوں ادبی اجتماعات میں شرکت کی ہے ۔ثقافتی مظاہر بھی دیکھے ہیں کچھ لوگ یہ کام بے لوث کرتے نظر آئے ، کچھ نام ونمود کے لئے مگر ’’عاشق‘‘ بہت کم دکھائی دیئے ۔ان عاشقوں میں ایک عاشق کا نام احمد شاہ ہے جو کراچی آرٹس کونسل کے سربراہ ہیں۔اس ادارے کو سندھ حکومت سے کچھ فنڈز بھی ملتے ہیں اور سربراہ کا انتخاب الیکشن سے کیا جاتا ہے میں نے احمد شاہ جیسا منتظم شاذو نادر ہی دیکھا ہے۔ہر سال بہت بڑی ادبی ثقافتی کانفرنس ایسے عمدہ انتظامات سے منعقد کرتے ہیں کہ کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملتا ۔احمد شاہ شاعر نہیں ہیں لیکن کسی شاعر اور کسی نقاد سے کم بھی نہیں ہیں ۔فنون لطیفہ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور انتظامی امور کے حوالے سے سخت گیر بھی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کونسل کے سالانہ انتخابات مسلسل جیتتےچلے آ رہے ہیں۔ بڑے بڑے تگڑے لوگ بھی ان کےمد مقابل آئے لیکن احمد شاہ نے سب کو مات دی ۔میں اندرون ملک اور بیرون ملک منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت کے دوران کراچی آرٹس کونسل کی تقریبات میں بھی شرکت کرتا رہا ہوں ،گزشتہ برس طبیعت ناسازی کے سبب شرکت نہ کر سکا ۔اب چند دنوں بعد یہ سالانہ کانفرنس یا ادبی ثقافتی میلہ کہہ لیں انعقاد پذیر ہونے کو ہے ۔انتظامات کا یہ عالم ہے کہ ایک مہینہ پہلے مجھے اس کا دعوت نامہ مل گیا تھا مگر میں اس سال بھی یہ میلہ اٹینڈ نہیں کر سکوں گا حالانکہ اس میلے کا نشہ کئی دنوں تک نہیں اترتا میری خواہش ہے کہ حکومت تمام ادبی و سرکاری ثقافتی اداروں کو ایک لڑی میں پروئے اور اس کی سربراہی احمد شاہ کے سپرد کرے۔ سرکاری ادارے پہلے بھی اپنا کام کر رہے ہیں مگر ان میں باہمی ربط نہیں ہے اور یوں کروڑوں روپوں کے فنڈز کا پہلے سے کہیں بہتر استعمال ہو سکے گا۔

سیالکوٹ کے حالیہ سانحہ اور اس سے پہلے اس نوع کے دیگر سانحات کی روک تھام کے لئے جہاں بہت سے اور اقدامات کی ضرورت ہے وہاں عوام میں روح کی پاکیزگی کےلئے ایسے اداروں کی زیادہ سے زیادہ سرپرستی کی ضرورت ہے۔آپ اعدادوشمار اکٹھے کرکے دیکھ لیں آپ کو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث کوئی ایک شاعر ،ادیب اور آرٹسٹ نظر نہیں آئے گا ۔شعروادب انسان کی سوچ کو متوازن بناتے ہیں غصہ، انتقام اور نفرت کی بیخ کنی کرتے ہیں ۔حکومت کو ہر شہر میں لائبریریاں قائم کرنی چاہئیں اور پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے چھوٹے بڑے پیمانہ پر تقریبات منعقد کرنا چاہئیں ۔قیام پاکستان سے اب تک قوم میں مثبت سوچ پیدا کرنے کےلئے بہت سے ٹوٹکے آزمائے گئے ہیں مگر سب بے نتیجہ رہے ہیں ۔کاش ہم یہ ’’ٹوٹکا‘‘ بھی آزما کر دیکھ لیں تاکہ آئندہ دلوں کی میل کی صفائی ہوتی رہے اور ہم لوگ پوری دنیا کو بلکہ اپنے آپ کو بھی منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں۔آخر میں قمر رضا شہزاد کی ایک غزل:

ایسا گریہ ہو کوئی آنکھ بھی تشنہ نہ لگے

میرا گھر دیکھنے والے کو عزاخانہ لگے

میں تو خود سے بھی الگ ہو کے یہاں آیا ہوں

دیکھنا یہ ہے قریب ایک بھی خیمہ نہ لگے

کھول کے دیکھ محبت کی دکاں بستی میں

یہ بھی ممکن ہے تیرا ایک بھی پیسہ نہ لگے

کوئی مجھ ایسا بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے

جو کہ زندہ ہو مگر شکل سے زندہ نہ لگے

شہر میں عشق کی تبلیغ بھی جی بھر کے کروں

یہ بھی چاہوں کہ میرے نام پہ دھبہ نہ لگے

error: