Site icon Dunya Pakistan

اردو کانفرنس اور اپنی ناتوانی

"احمد اقبال"

ہر روز صبح سے رات تک کانفرنس کے ایک سے دوسرے سیشن کے لئے متحرک رہنا اور درمیان میں پیٹ پوجا یا چائے کافی پینے اور ان کے اخراج کیلئے وقفہ نکالنا بھی لازم ہے۔اس وقفے میں بھی دو طرفہ توجہ ۔۔ایک ان سے کچھ قرب کی جدو جہد کیلئے جن کے ہم فین ہیں۔۔دوسرے ان سے نمٹنا جو ہمارے فین ہیں۔۔کچھ کم آشنا اکثر نا اشنافین ۔۔یہ سب ہم نے مسلسل حاضری سے سیکھ اور جان لیا ہے۔۔لیکن اب ایک مشکل آشنا چہروں کے نام فوراً یاد نہ آنے کی ہے۔عذر ہم فوراً پیش کر دیتے ہیں کہ
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں
لیکن جانتے ہیں کہ حقیقت یہ نہیں۔دماغ کو جب گھر کی کار کی بجائے میلے کی سواری کی طرح چلایا جائے گا تو ایساہی ہوگا۔مہربان قدر دان خاندان جیسے ہیں ۔رشتے سمجھنے میں دماغ فیل ہوجاتا ہے تو بیگم کی دہائ دیتے ہیں۔اور بیگم دکھ سے سر ہلاتی ہیں۔۔اپ بھی نا بڑے بھلکڑ ہیں۔۔ابھی دو سال پہلے فلاں کی جٹھا نی کے دیور کی بیٹی کی مایوں میں تو ملے تھے ان سے۔۔چالیس کی ہیں بیگم جو کھادی کے نئے بسنتی پرنٹ میں بیس کی بنی اتراتی پھر رہی تھیں ۔۔ وہی عزیزخاں۔۔ جن کو سب میاں مٹھو کہتے ہیں۔۔۔اور ہم میاں لٹوکی طرح گھڑے جیسا سر ہلا دیتےہیں کہ خیریت اسی میں ہے۔۔ہاں ہاں وہی تو ہیں ۔۔
اب یہاں بیگم ساتھ نہیں ہیں تو کچھ مسائل ہیں۔۔ساتھ ہوتیں تو شاید زیادہ سنگین ہوتے کہ ہم نے بڑی اپنائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ خواتین افسانہ نگار اور شاعرات کے ساتھ جو دل کی بہر حال جوان ہیں ۔۔قابل اعتراض حالت میں تصاویر بنوالی ہیں۔ کون سمجھاتا بیگم کو کہ۔مروت بھی کوئ چیزہے۔۔بیگم کو اس دال میں بھی ہمارے کرتوت سے بڑھ کر کالاہی کالا دکھائ دیتا۔ ایک ایسی بھی فراخ دل ثابت ہوئیں کہ ہم نے کہا عزیزم۔۔سہ پہر ڈھل گئ۔صرف دھکے ہی کھائے ہیں۔۔اور وہ جا کے کہیں سے برگربوتل کا پیکیج لے ائیں۔جتنی دیر میں جیب سے والٹ نکالا وہ غائب۔بہتیرا پوچھا ان کا سراغ نہ ملا۔ نیت کا پتا نہیں مگر ایسا نہ ہو میدان حشر میں قرض وصول کرنے آجائیں جہاں سنا ہے ہر قرض ستر گنا ادا کرنا پڑے گا۔
تو اچھا ہی ہے کہ ہم اکیلے ہی خوار ہو رہے ہیں ان واہ واہ کا جھوٹ بولنے والوں کے پاگل ہجوم میں۔ ان جھوٹوں میں ہم شامل کیسے نہ ہوں ۔فیس بک پر مروت میں جھوٹی واہ واہ کی عادت جو پڑ چکی ہے
پہلے کبھی ہم نے لکھا تھا کہ یہ کانفرنس نہیں اردو والوں کا سالانہ عرس جیسا میلہ ہے جس میں مرید ہر سمت سے شاداں و رقصاں چلے آتے ہیں اور ادب کی دھمال ڈالتے ہیں اور جب عرس تمام ہوتا ہے تو دل گرفتہ مگر پر امید لوٹ جاتے ہیں۔اس امید اور خواہش اور یقین کے ساتھ کہ آیندہ سال پھر ہم بھی ہوں گے اور یہی کیف و مستی کے شب و روز۔کچھ بد نصیبوں کی واپسی بہرحال نہیں ہوتی۔۔ تو ہم جیسے اسی ملاقات کو الوداعی جان کے سب سے ملتے ہیں۔۔جانے پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو۔۔مثنوی زہر عشق میں ایک جدائ کا منظر یوں تھا
پان کل کیلئے لگاتے جائیں
یاد اپنی تمہیں دلاتے جائیں
سنا ہے لکھنؤ کے بانکے یہ پڑھتے تھے اور ایک آہ بھر کے خود کو خنجر گھونپ لیتے تھے یا عشق میں کسی گوہر جان کے کوٹھے سے کود کے جان دے دیتے تھے۔اب ایسانہیں ہوتا۔۔ہم کے ڈراموں میں سمجھایا جاتا ہے کہ سالی سے ماسی تک دل پھر کیسے لگایا جاسکتا ہے۔اللہ بڑا مسب الاسباب ہے
اردو کانفرنس کے تاثرات اور تصاویر فرصت پر اٹھا رکھتا ہوں

Exit mobile version