Dunya Pakistan

اردو کے نامور شاعر نصیر ترابی کا سفر بھی تمام ہوا: 'وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی'

اردو کے نامور شاعر نصیر ترابی 74 سال کی عمر میں اتوار کی شام دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے جس کے بعد آج انھیں کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

'وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی'

یہ مقبول غزل تقریباً سب نے ہی سن رکھی ہو گی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کے مصنف نصیر ترابی تھے۔ سنہ 2011 میں ہم ٹی وی پر نشر ہونے والے مقبول ڈرامے 'ہم سفر' نے زبردست مقبولیت حاصل کی جبکہ اس ڈرامے کا ساؤنڈ ٹریک آج بھی ہر کسی کو ذہن نشین ہو گا۔

نصیر ترابی کی اس غزل کو ڈرامے کے ساؤنڈ ٹریک کے حصے کے طور پر استعمال کیا گیا اور مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا۔

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت

بچھٹرنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

اگر اس غزل کے الفاظ اور ڈرامہ سیریل ہم سفر کی کہانی کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ غزل اس ڈرامے کے لیے ہی لکھی گئی ہو، جو دو ایسے ہی کرداروں کی کہانی پر مشتمل تھا، جو ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ تو تھے لیکن ان زندگی میں مشکلات اور غلط فہمیوں کے باعث وہ ایک دوسرے سے الگ ہونے پر مجبور ہوئے۔

یہ غزل بنگلہ دیش کے قیام کے پس منظر میں لکھی گئی تھی

'وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی' غزل مشہور ہونے کے بعد دیکھا گیا کہ جب بھی نصیر ترابی کسی تقریب میں شرکت کرتے تو شرکا ان سے یہ غزل پڑھنے کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ جبکہ آج بھی بہت سے لوگ، خصوصاً نوجوانوں کے لیے اس کی پہچان ڈرامہ ’ہم سفر‘ ہی ہے۔

تاہم اس کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو نصیر ترابی نے یہ غزل بنگلہ دیش کے قیام کے بعد لکھی تھی۔

اس بارے میں تجزیہ کار وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ غزل ہمیشہ اسی انداز میں لکھی جاتی ہے۔ براہ راست باتیں نظموں میں کی جاتی ہیں جبکہ غزل میں آپ اشاروں، قافیوں اور دیگر چیزوں سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

’یہاں آپ فیض احمد فیص کی غزل کی مثال لے لیں، تو انھوں نے بھی مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر لکھا تھا کہ 'خون کے دھبے دھولیں گے کتنی برساتوں کے بعد' اس غزل کے بھی کئی مطلب نکالے جا سکتے ہیں کہ یہ تو محبوب کے لیے کہی گئی ہے۔ جبکہ غزل کا اپنا ایک برتاؤ ہوتا ہے اس لیے اسے ہمیشہ اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اسی طرح نصیر ترابی نے بھی یہ غزل قیام بنگلہ دیش کے پس منظر میں ہی لکھی تھی۔‘

'اچھے شاعر کی پہچان یہی ہے کہ اس کی شاعری اس کے نام سے پہلے پہنچتی ہے'

تاريخ دان عقل عباس جعفری نے بتایا کہ سنہ 1980 میں یہ غزل سب سے پہلے عابدہ پروین نے گائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عابدہ پروین نصیر ترابی صاحب کے محلے ہی میں رہتی تھیں اور ان ملنا جلنا تھا جس کے بعد اس غزل کو گائیکی کی شکل دی گئی۔

اس غزل کو ڈرامے 'ہم سفر' میں بطور ساؤنڈ ٹریک استعمال کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مجھے یاد ہے کہ نصیر ترابی نے ایک مرتبہ اس ساؤنڈ ٹریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس غزل کو ڈرامے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا تو پروڈکشن ہاؤس والوں کو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ اس کے مصنف کون ہیں۔

’تحقيق کے بعد انھوں نے مجھ سے کاپی رائٹس کی اجازت لی۔'

عقیل عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں نصیر ترابی بہت اچھے شاعر اور بڑا نام تھے لیکن ان کے نام کو فوری طور پر اتنی مقبولیت نہیں ملی جس طرح دیگر چند شاعروں کو ملی۔ اس بات کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ اچھے شاعر کی پہچان یہی ہے کہ اس کی شاعری اس کے نام سے پہلے لوگوں تک پہنچتی اور مقبول ہوتی ہے۔

نصير ترابی کون تھے؟

نصیر ترابی حیدرآباد دکن میں 15 جون 1945 کو مشہور عالم دین اور خطیب علامہ رشید ترابی کے ہاں پیدا ہوئے۔

پاکستان کے قیام کے بعد ان کے اہل خانہ پاکستان میں کراچی آ گئے، جہاں وہ بڑے ہوئے۔ انھوں نے سنہ 1968 میں کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ سنہ 2019 میں نصیر ترابی نے ڈان نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی شاعری کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 'جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو میں نے اپنا سفر مباحثے اور مناظرے سے شروع کیا۔

’ایسے ہی ایک مقابلے میں، میری تیسری پوزیشن آئی۔ جس پر میرے ایک استاد نے مجھے کہا کہ 'اگلی مرتبہ اپنے باپ سے اچھی تقریر لکھوا کے لے کر آنا۔' جس کے بعد میں مباحثے کو ترک کردیا۔

’جس پر میرے سکول کے پرنسپل نے وجہ پوچھی تو میں نے جواب دیا کہ اگر میں پہلی پوزیشن لوں تو میرے باپ کو کریڈٹ دیا جاتا ہے اور اگر میں تیسری پوزیشن لوں تو بھی میرے باپ کے نام کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس لیے میں اپنا نام بنانا چاہتا ہوں۔ جس کے بعد میں شاعری کی طرف چلا گیا۔'

ان کی شخصیت کے اس پہلو کے بارے میں ان کے قریبی دوست ڈاکٹر خورشید عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی انفرادی شخصیت بنانے کے حوالے سے شروع ہی سے سوچتے تھے۔ ’ان کے لیے زندگی بہت آسان تھی کہ وہ اپنے والد کے کام کو آگے بڑھاتے کیونکہ ان میں خطابت کے بہت جوہر تھے۔‘

’وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اتبے بڑے پیڑ کے نیچے چھوٹا سا پودا سانس بھی نہیں لے سکتا۔'

انھوں نے مزيد کہا کہ ادب اور شاعری کے حوالے سے انھوں نے جو بھی کام کیے ہیں آج وہ سب کے سامنے ہیں۔

’اگر انھیں کسی کا کوئی شعر یا کام پسند آتا تھا تو وہ اسے پروموٹ کرتے تھے۔ لوگوں کا خیال رکھنا، ان کی مدد اور فکر کرنا ان کی ذات کا حصہ تھا۔ اس لیے وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ انسانوں سے محبت کیجئے اور چیزوں کو استعمال کیجیئے۔'

تاہم ان کی شخصت کے حوالے سے کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ان کی شخصیت میں تضاد پایا جاتا تھا اور کام کے حوالے سے ان کی تنقیدی نظر کچھ لوگوں سے اختلاف کا باعث بنتی تھی۔

انھوں نے اپنی نظموں کا پہلا مجموعہ عکس فریادی سنه 2000 میں شائع کیا۔

عارف وقار کی بی بی سی اردو پر لکھی گئی 2012 کی ایک تحریر کے مطابق نصیر ترابی کی تصنیف، شعر کی تعریف سے شروع ہوتی ہے۔

’وہ شعر کہنے کےلیے پانچ عناصر کو ضروری قرار دیتے تھے:

1 ) موزونیِ طبع

2 ) شعری مطالعہ

3 ) زبان آشنائی

4 ) خیال بندی

5 ) مشقِ سخن

اس کے بعد وہ شاعر کی چار قسمیں گنواتے ہیں

1 ) بڑا شاعر

2 ) اہم شاعر

3) خوشگوار شاعر

4 ) محض شاعر

اُردو میں بڑے شاعر اُن کے نزدیک صرف پانچ ہیں:

میر، غالب، انیس، اقبال اور جوش۔

جبکہ اہم شاعروں میں وہ آٹھ نام گِنواتے ہیں:

یگانہ، فراق، فیض، راشد، میراجی، عزیز حامد مدنی، ناصر کاظمی اور مجید امجد۔

عارف وقار نے مزید لکھا کہ شعر و ادب کے ناقدین اس فہرست کو مسترد کر سکتے ہیں یا اس کی ترتیب بدل کر اس میں ترمیم و اضافہ کر سکتے ہیں۔ لیکن زبان و بیان کے ایک مبتدی اور شعر و سخن کے ایک نو آموز طالبِ علم کے لیے اس طرح کی واضح درجہ بندی اور دو ٹوک تقسیم بڑی حوصلہ بخش اور کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

’کتاب کے دیگر ابواب میں بھی مروجہ اصنافِ سخن، متروکہ اصناف، درست املا، تلفظ، تذکیرو ثانیت، واحد جمع، ُمنافات، مشابہ الفاظ، سابقے لاحقے، غلط العام الفاظ اور نافذہ اصطلاحات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے اور نصیر ترابی نے اپنے مخصوص خوشگوار اور چُلبلے انداز میں ان خشک قواعدی موضوعات کو بھی اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ گرامر سے بیزار کسی شخص کو بھی یہ کتاب تھما دی جائے تو ختم کئے بغیر اُٹھ نہیں سکے گا۔‘

Exit mobile version