Site icon Dunya Pakistan

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

جنوری کے مہینے میں فیس بُک پرڈھاکہ کے پروفیسر محمود السلام کا ایک پیغام نظر سے گزرا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ جنوری 27اور28کو ڈھاکہ یونیورسیٹی کے دوروزہ عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے لئے رابطہ کریں۔چونکہ مجھے 31جنوری اور 1فروری کو ممبئی عالمی اردو فیسٹیول 2020میں شرکت کرنا تھا اس لیے سوچا کیوں نہ ڈھاکہ ہوتے ہوئے ممبئی جاؤں۔ میں نے فوراً پروفیسر محمودالسلام کو پروگرام میں شرکت کی رضا مندی بھیج دی۔اس کے بعد پروفیسر غلام ربانی اور صدر شعبہ اردو پروفیسر رشید احمد سے بھی رابطہ ہوا۔ پروفیسر غلام ربانی صاحب سے میری ملاقات ستمبر 2019 میں جمّوں یونیورسیٹی کے گولڈن جوبلی تقریب میں ہوئی تھی۔ بلا کی اردو بولتے ہیں اورحضرت کی سادگی سبحان اللہ۔
25جنوری کو لندن کے گیٹ وِک ائیرپورٹ سے ترکش ائیر لائنز پر سوار ہو کر ڈھاکہ کے لیے روانہ ہوگیا۔تقریباً چار گھنٹے کے سفر کے بعد لندن سے استنبول پہنچا اور تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ترکش ائیر لائنز پر دوبارہ سوار ہو کر ڈھاکہ کی طرف چل پڑا۔ ذہن میں عالمی اردو کانفرنس کے حوالے سے کئی سوالات ابھر رہے تھے اور سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کانفرنس کا انتظام کیسا ہوگا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی۔تاہم میں اس بات سے بھی حیران تھا کہ ڈھاکہ جو بنگلہ دیش کی راجدھانی ہے اور بنگلہ دیش کا قیام زبان کی بنیاد پر عمل میں آیاتھااور وہاں عالمی اردو کانفرنس ہونا ایک کہانی لگ رہی تھی۔ بچپن سے ایک بات سنتا آرہا تھا کہ 1971میں بنگلہ دیش میں اردو زبان بولنے والوں کا بے دردی سے قتل عام ہوا تھا۔ شاید ان کا قصور یہ تھا کہ ان کی مادری زبان اردو تھی۔ پھر اسی بنگلہ دیش میں اردو زبان کی عالمی کانفرنس کا منعقد ہونا عجیب و غریب سا لگ رہا تھا۔
26جنوری کی دوپہر ڈھائی بجے ہمارا جہاز ڈھاکہ کے شاہ جلال انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر خیر خوبی سے اتر گیا۔ جہاز سے باہر نکل کر تیز قدموں سے چلتا ہوا جیسے ہی امیگریشن کاؤنٹر کے قریب پہنچا تو کسی نے آواز لگا کر تیز قدموں کو رکنے پر مجبور کر دیا۔ نظریں دوڑائی تو دیکھا کہ سامنے دہلی یونیورسیٹی کے پروفیسرڈاکٹر محمد کاظم،بھائی اسلم جمشید پوری کے ساتھ کھڑے کچھ ضروری کاغذات پُر کر رہے ہیں۔ قریب پہنچ کر بغل گیر ہوا اور سفر کا حال دریافت کیا۔ پروفیسر محمد کاظم حسبِ معمول اپنی گرج دار آواز میں سفر کا حال بتا یا اور مجھ سے ملنے پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔ پروفیسر محمد کاظم کے ساتھ اسلم جمشید پوری اور پٹنہ یونیورسیٹی کے استاد پروفیسرشہاب ظفر اعظمی سے بھی ملاقات ہوئی اور ہم سب امیگریشن ڈیسک پر پہنچ کر اپنے اپنے پاسپورٹ کو دکھا کر سامان کی طرف چل دیے۔
سامان والے بیلٹ پر لوگوں کا ہجوم تھا اور لوگ آپس میں اس قدر زور دار آواز میں ایک دوسرے پر چلّا رہے تھے کہ تھوڑی دیر کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ ہم ائیر پورٹ پر نہیں ہیں بلکہ ہم کسی مچھلی بازار میں موجود ہیں۔ خیر کفر ٹوٹا خدا کر کے اور تھوڑی دیر میں ہم نے اپنا سامان وصول کیا اور باہر نکل پڑے۔ باہر نکلتے ہی لوگوں کا ایک اور ہجوم دِکھا لیکن منتظمین کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ ایئر پورٹ پر ڈھاکہ یونیور سیٹی کے ا فراد ہمارے استقبال کے لیے موجود رہیں گے۔ ذہن انہیں چکر ویو میں الجھا ہو اتھا کہ ایک لڑکا جو خد وخال سے مولوی لگ رہا تھا سامنے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا’میں محبوب ہوں۔‘ ذہن میں آیا کہ اگر یہ کسی کا محبوب ہے تو میں کیا کروں۔ پھر میں نے پوچھا: جی جناب، میں کیا کر سکتا ہوں۔ اس نے کہا: جناب مجھے آپ کے استقبال کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ڈھاکہ میں آپ سبھوں کا تہہ دل سے استقبال کرتا ہوں۔یہ کہہ کر محبوب نے کسی کو آواز دی: اے کھانے ایشو۔ (یہاں آؤ)۔

یہ سن کر ایک اور لڑکا تقریباً دوڑتا ہوا آیا۔اس لڑکے کا نام فردوس تھا اور اس نے ہم سب کو مزید باہر چلنے کو کہا جہاں اس کے کئی ساتھی ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہم سب فردوس کے پیچھے پیچھے ہو لیے اور تھوڑی دیر میں طلباء و طالبات کے گروپ سے ہماری ملاقات ہوئی۔ تمام طلباء و طالبات سے ہم نے باری باری ملاقات کی اور کچھ حال چال بھی دریافت کیا۔ ائیر پورٹ کے باہر رکشہ اور آٹو رکشہ کی موجودگی نے اس بات کا یقین دلا دیا کہ ہم بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں ہی ہیں۔ ہر طرف شور ہی شور اور سر ہی سر دکھائی دے رہا تھا اور لوگوں کی نظر ہم پر گڑی ہوئی تھی۔
ہم سب ایک ٹیکسی میں سوار ہوکر ڈھاکہ یونیورسیٹی کی جانب چل دئیے۔ ہمیں اطلاع دی گئی کہ پہلے پروفیسر غلام ربانی صاحب کی رہائش گاہ پر چلنا ہے اس کے بعد ہمیں ہوٹل پہنچایا جائے گا۔ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم تھا اور پتہ چلا کہ دس منٹ کے سفر کو طے کرنے میں لگ بھگ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ بس جناب اس بات کو سن کر گرمی کے احساس کے ساتھ ساتھ پسینہ بھی چھوٹنے لگا۔ تاہم شہر کی ہماہمی اور شور شرابے کے باوجود ہمیں ڈھاکہ اپنے انداز کا ایک خوبصورت شہر دِکھ رہا تھا۔
یونیورسیٹی کیمپس کی ایک بڑی عمارت میں ہمیں لے جایا گیا اور پروفیسر غلام ربانی صاحب کی رہائش گاہ پر پہلے ناشتوں سے ہمارا سواگت کیا گیا۔ پھر بنگلہ دیشی پکوان نے ہماری طبعیت کومسالے دار بنا دیا۔ پروفیسر غلام ربانی کی بیگم واقعی لذیز کھانا بناتی ہیں اور ان کی مہمان نوازی بھی بے مثال تھی۔ناشتہ کے دوران مصر سے تشریف لائی ہوئی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی سے بھی ملاقات ہوئی۔کھانا کھانے کے بعد شعبہ اردو کے مزید کئی پروفیسر وں سے ملاقات ہوئی جن میں پروفیسر جعفر بھوئیاں، پروفیسررشید احمد اور پروفیسر محمودالاسلام کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
ہوٹل اورنیٹ ڈھاکہ یونیورسیٹی کے قریب بجوئے نگر میں واقع تھا۔یہاں ہم نے رات سکون سے گزاری۔ دوسرے روز ہم نے رکشہ سواری کی اورہوٹل سے ڈھاکہ یونیورسیٹی بذریعہ رکشہ اپنا سفر شروع کیا۔ یوں بھی ڈھاکہ کی شاہراہیں رکشوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم ڈھاکہ یونیورسیٹی کے احاطے میں داخل ہوئے۔ یونیورسیٹی میں بھیڑ کی موجودگی سے اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ بنگلہ دیش ایک گھنی آبادی والا ملک ہے۔
سومورا 27 جنوری کو ای مجمدار ہال میں تیسرا عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب میں ڈھاکہ یونیورسیٹی کے وائس چانسلر کے علاوہ ہندوستان کی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر جناب شیخ عقیل احمد کی پر مغز تقریر سے سامعین کافی محظوظ ہوئے۔اس کے بعد طلبا و طالبات سے مختصر ملاقات سے پتہ چلا کہ ان لوگوں کی مادری زبان بنگلہ ہے اور یہ سب اردو زبان سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ دنیا بھر کے اردو شعبے میں زیادہ تر طلبا ء و طالبات یا تو ہندوستانی فلموں کے شوق یا اردو زبان کی محبت سے داخلہ لیتے ہیں۔ جب کہ اس کے بر عکس ہندوستان اور پاکستان میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد کی مادری زبان اردو ہوتی ہے۔شام چھ بجے عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے کا موقع نصیب ہوا جس میں پہلی بار عربی نژاد ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی کی نظم کو سننے کا موقع ملا۔ جسے سامعین نے کافی سراہا۔ ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی پہلی عربی خاتون ہیں جن کا اردو مجموعہ کلام ُسمندر ہے درمیاں‘ منظر عام پر آیا ہے جو ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔
منگل 28جنوری کو سارا دن دنیا کے مختلف مندوبین نے’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘ کے حوالے سے اپنا پیپر پڑھا۔جس میں جرمنی سے تشریف لائے سرور غزالی، کینیڈا سے قمر الہدیٰ، مصر سے ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی اور ہندوستان سے تشریف لائے پروفیسرڈاکٹر محمد کاظم، پروفیسر اسلم جمشید پوری اور شہاب ظفر اعظمی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ میں نے اپنی تقریر میں انتظامیہ کو کئی مفید مشورے دئیے جن میں ورکشاپ، طلباء سے بات چیت اور سوال جواب کے اجلاس پر زیادہ زور دینے کی تاکید کی۔
جمعرات 30جنوری کو ڈھاکہ سے روانہ ہو کر کلکتہ پہنچا۔ دراصل کلکتہ کے تاریخی علاقے مٹیابرج میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی کو صوفی جمیل اختر لیٹریری سوسائٹی کی جانب سے ایک استقبالیہ دیا گیا تھا۔ جس کے کنوینر محمد اقبال (ڈبلو بی سی ایس) مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک خوبصورت محفل سجائی تھی۔ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی نے اپنی خوبصورت تقریر اور نظم سے سامعین کا دل جیت لیا۔ انھوں نے اپنی تقریر اور نظموں سے اس پروگرام کو ایک تاریخی پروگرام بنا دیا۔
اردو زبان کی محبت اور اس کی چاہت میں ہم ملک سے ملک سفر کرتے رہے لیکن کبھی بھی ہمیں تھکاوٹ کا احساس نہ ہوا۔ اگلے روز ممبئی شہر جانا تھا جہاں ممبئی عالمی اردو فیسٹیول 2020کی تقریب میں شرکت کرنا تھا۔ تبھی تو داغ دہلوی نے کہا ہے کہ:
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

Exit mobile version