استاد رخصت ہوتا ہے

گوجرانوالہ سے محب قدیمی آغا سہیل نے خبر دی ہے کہ استاد مکرم تطہیر کاظمی رخصت ہو گئے۔ ماہ و سال کی چادر میں سلی یاد کی روشنیوں میں ایک اور ستارہ خاموشی سے بجھ گیا۔ پچپن برس پر محیط اس تصویر پر سیاہ نقطوں کے منطقے اب تیزی سے پھیلتے جا رہے ہیں۔ دنیا تو پہلے سے کہیں زیادہ بھری پڑی ہے، صرف یہ ہو رہا ہے کہ ہم نے جنہیں دیکھ کر دنیا کو جاننا سیکھا تھا، وہ ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی عمر کا ایک المیہ یہ ہے کہ دنیا ہمارے لئے اجنبی ہونے لگتی ہے۔ موت مکالمہ نہیں کرتی، ایک سفاک فیصلہ سنا دیتی ہے جس پر کوئی اپیل نہیں ہو سکتی، کوئی مرافعہ ممکن نہیں۔ زندگی کی عدالت میں پیش ہونے والے ہر ملزم اور ہر فریادی کے لئے ایک ہی حتمی فیصلہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے، آخر فنا۔

مڑ کر دیکھتا ہوں تو گوجرانوالہ ایک چھوٹی سی خوبصورت بستی تھی، جہاں ہر گلی روشن تھی، ہر کوچہ مہربان چہروں سے منور تھا۔ ہم غریب لوگ تھے اور ہمارے ارد گرد رہنے والے بھی معمولی فرق کے ساتھ نچلے متوسط طبقے سے تھے۔ بدصورتیاں یقیناً موجود ہوں گی لیکن بچپن حیرت، دریافت اور معصومیت کا جزیرہ ہے۔ ہمیں زمین تازہ اور آسمان نیلا دکھائی دیتا تھا۔ زندگی میں اگر کچھ اچھائی ہم ایسوں سے سرزد ہوئی تو اس کی حقیقی وجہ ہمیں ملنے والی بے پناہ شفقت تھی۔ مشاہدہ یہ رہا کہ بچے غربت اور امارت کی لکیریں نہیں سمجھتے۔ بزرگوں کی مہربان آنکھیں غربت کی محرومیوں کا ازالہ کر دیتی ہیں۔ ہمارا گوجرانوالہ شیرانوالا باغ، ریلوے اسٹیشن، گھنٹہ گھر، اسلامیہ کالج اور حافظ بک ڈپو سے عبارت تھا۔ ایک دلچسپ مشاہدہ یہ تھا کہ عید میلاد النبی کا عقیدت و احترام سے مملو جلوس کشمیری کیمپ سے گھنٹہ گھر کی طرف جاتا دکھائی دیتا تھا جب کہ عاشورہ کا جلوس گھنٹہ گھر سے نظر آنا شروع ہوتا تھا جہاں کچھ دیر کے لئے زنجیر زنی ہوتی تھی۔ سکتر محمد علی اپنی گلی کی نکڑ پر سبیل سجائے نظر آتے تھے۔ جلوس کچھ آگے بڑھتا تو ذوالجناح کو مس رضوی کے گھر لے جایا جاتا تھا۔ مغرب سے قبل جلوس دوبارہ گلستانِ فاطمہ پہنچ جاتا تھا۔ کیسے پیارے لوگ تھے تفرقے سے بے نیاز اور دوسروں کے عقائد کا احترام کرنے والے۔ یہیں پہلی بار تطہیر کاظمی کی زیارت ہوئی تھی۔ عزاداروں کی پہلی صف میں تھے۔ نہایت کھلتی ہوئی شہابی رنگت، بوٹا سا قد، چہرے پر وقار کے آثار۔ معلوم ہوا کہ جناح میموریل ہائی اسکول میں استاد ہیں۔ ہمارے قصبے میں استاد اور ڈاکٹر کو بہت مقام حاصل تھا۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ایک آدھ ہی تھا، ہمیں ڈاکٹر معراج الدین، ڈاکٹر اکرام اور ڈاکٹر عبدالسلام کی حذاقت پر پورا یقین تھا۔ سڑک پر استاد نظر آتے ہی احترام میں جھک کر سلام کرنے والے پرانے طالب علم اکثر نظر آتے تھے۔ گوجرانوالہ بنیادی طور پر ایک کاروباری مزاج کا شہر تھا جہاں علم و ادب کا زیادہ چرچا نہیں تھا۔ تعلیم ہمارے لئے سرکاری ملازمت کا پروانہ تھی۔ قدامت پسند معاشرت تھی۔ تہذیب، تمدن اور علم سے حقیقی تعلق رکھنے والا فرد اس ماحول میں ناگزیر طور پر حاشیے پر چلا جاتا تھا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ اس ماحول میں انحراف کی ایک زیر زمین ثقافت بھی موجود تھی۔ اس کے ایک نمائندے پروفیسر افتخار ملک تھے جو معاشیات کے استاد تھے۔ دوسرے استاد محترم تطہیر کاظمی تھے۔ وہ جو یاس یگانہ نے لکھا ہے کہ ’’چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا، چال سے تو کافر پر سادگی برستی ہے‘‘۔

کچھ گھریلو معاملات ایسے تھے کہ مجھے جناح میموریل ہائی اسکول میں داخل کروایا گیا۔ درجہ بندی میں یہ کچھ دوسرے تعلیمی اداروں سے کسی قدر کمتر سمجھا جاتا تھا۔ عطا محمد ہائی اسکول کی شہرت بہت اچھی تھی جہاں سے ہمارے نہایت اعلیٰ سیاسی رہنما قیوم نظامی نے تعلیم پائی۔ مجھے ایک مدت اس پر احساس محرومی رہا لیکن اب اندازہ ہوتا ہے کہ کسی درس گاہ سے فیضان کا معاملہ چیزے دگر ہے۔ اس کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں۔ ایک روز اسکول میں دند مچی کہ علامہ اقبال کا پہلا مجموعہ کلام بانگ درا ہے تو اس ترکیب کے معنی کیا ہیں؟ ہیڈ ماسٹر صاحب سے بھی استصواب کیا گیا۔ انہوں نے سادگی سے فرمایا، بھائی یہ معاملات تو تطہیر کاظمی ہی سمجھتے ہیں۔ لیجئے تطہیر صاحب کی ڈھنڈیا شروع ہوئی۔ یہ غالباً انیس سو پچھتر کا موسم گرما تھا۔ آنکھوں میں علم کی گہرائی اور مزاج کے انکسار کی مجسم تصویر بدستور مرتسم ہے۔ کمرہ جماعت سے برآمد ہوئے۔ حسب معمول سفید کرتا پاجامہ زیب تن تھا۔ نہایت اطمینان سے سوال سنا اور متانت سے فرمایا ایسی آواز جس کی سننے والوں تک رسائی ہو، اسے بانگ درا کہتے ہیں۔ اور پھر آہستگی سے اقبال ہی کا مصرع پڑھا، تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو۔ ﷲ ﷲ۔۔۔ شاید آپ کے لئے اندازہ کرنا مشکل ہو کہ شہتوت کے پیڑ کے نیچے کھڑے استاد کی علمیت نے ایک ننھے بچے کے دل میں پڑھنے لکھنے اور سوچنے سمجھنے کی کیسی جوت جگا دی۔ علم کا دعویٰ تو محض تعلی ہو گا لیکن علم کی جستجو میں ندامت نہیں اٹھائی۔

برسوں جب کسی علمی الجھن کی گرہ کشائی مقصود ہوتی، تطہیر صاحب سے رہنمائی کا شرف حاصل رہا۔ زندگی کا سب سے بڑا احسان یہی رہا کہ صاحبان علم کی شفقت میسر رہی۔ صاحب علم کا یہی نشان سمجھ سکا کہ عالم عالی ظرف ہوتا ہے۔ چند برس پہلے آر اے خان صاحب کے انتقال نے گہرا گھائو لگایا۔ چند ماہ قبل آئی اے رحمٰن صاحب کی رحلت سے سائبان اٹھ گیا تھا۔ اب تطہیر کاظمی صاحب کی وفات نے گویا فنا کے خلا کا سناٹا طاری کر دیا۔ صوفی تبسم کا انتقال ہوا تو فیض صاحب نے فرمایا کہ اب ہم سیکھنے کے لئے کس سے رجوع کریں گے؟ یہ فیض صاحب کا انکسار تھا۔ ہماری بے دست و پائی میں انکسار نہیں، کیونکہ شام قریب ہے اور اندھیرا گہرا ہو رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *