استنبول کا ایک یادگار سفر

لندن سے استنبول جاتے وقت ہم نے ارادہ کیا تھا کہ نہ ہم دن کی پرواہ کریں گے اور نہ ہی وقت کی قدرکریں گے۔ کیونکہ لندن کی مصروف ترین زندگی نے مجھے وقت اور دن کا ایسا پابند بنا دیا ہے کہ میں گھڑی اور تاریخ کا غلام بن کر رہ گیا ہوں۔ویسے یہ بات بری بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میری زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوگیا ہے اور میں ہر کام پابندی کے ساتھ کرتا ہوں۔

آج صبح آنکھ کھلی تو موبائیل کی گھڑی پر سات بج رہے تھے۔بستر سے اٹھا اور کھڑکی سے باہر جھانکا تو کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اندھیرے نے اب تک استنبول شہر پر اپنا قبضہ جما رکھا تھا لیکن فجر کی اذان کی آواز نے اندھیرے کے سینے کو چاک کر دیا تھا۔

میں بھی نہا دھو کر ہوٹل کے ترک ناشتے سے فارغ ہو کر ہوٹل سے باہر نکل پڑا۔ صبح کے کوئی دس بج رہے تھے اور زیادہ تر دکانیں کھل چکی تھیں۔آج میں نے دنیا کا قدیم ترین بازار ’گرانڈ بازار‘ دیکھنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔گرانڈ بازار دنیا کا پہلا شاپنگ مال کہلاتا ہے۔ اس میں چار ہزار سے زیادہ دکانیں ہیں اور اس کے اندر اکسٹھ گلیاں ہیں۔سلطان مہمت دوئم نے جب قسطنطنیہ کو فتح کیا تو اس نے 1455؁ میں گرانڈ بازار کی تعمیر کا حکم دیاجو 1730؁کے بعد مکمل ہوا تھا۔گرانڈ بازار استنبول کا ایک ایسا معروف اور مقبول بازار ہے جہاں 250,000سے لے کر 400,000لوگ روزانہ خریداری یا سیرکے لئے آتے ہیں۔2014میں گرانڈ بازار دنیا کا سب سے زیادہ دیکھنے اور پسند کرنے والی جگہ تھی۔جب لگ بھگ 91,250,000 سیّاح دنیا بھر سے گرانڈ بازار دیکھنے آئے تھے۔

گرانڈ بازار میں داخل ہونے کے لئے بائیس دروازے ہیں۔بازار کی اونچی چھت اور جگمگاتی دکانوں سے اس بات کا صاف پتہ چلتا ہے کہ استنبول کا گرانڈ بازار ایک تاریخی اور باوقار جگہ ہے۔ پورا بازار لوگوں سے بھرا ہوا تھا اورتمام دکانیں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔میں نے چند ہی منٹ میں اس بات کو محسوس کیا کہ گرانڈ بازار میں تمام چیزیں دستیاب ہیں۔ خاص کر قالین، کپڑیں، چمڑے سے بنی چیزیں، رنگ برنگے ترکی لیمپ اور دیگر چیزیں بازار میں دکانوں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔گرانڈ بازار کی لمبائی اور چوڑائی کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ایک گھنٹے کے بعد تھکان محسوس ہونے لگی۔ بازار کی ایک حصّے میں ایک ریستواران تھا۔ ریستوران لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور لوگ ترک کھانوں کا مزہ لوٹ رہے تھے۔میں بھی گرانڈ بازار کے عالیشان ریستوران کے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور تصویروں کی مدد سے آرڈر دے ڈالا۔ ریستوران سلطنتِ عثمانیہ کے دور کی پینٹنگ سے سجی ہوئی تھی۔ جگہ جگہ لال ترکی جھنڈا بھی ٹنگا ہواتھا۔کھا پی کر جب دم میں دم آیا تو دوبارہ میں گرانڈ بازار کی سیر کو نکل پڑا۔

رات کی تاریکی نے استنبول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن استنبول بھی کہاں سونے والا۔سلطان احمد ٹرام اسٹاپ کے پاس ہی بیٹھے ہم لوگوں کوآتے جاتے دیکھ رہے تھے کہ عشاء کی اذان کی آواز نے ہمیں آیا صوفیہ میں نماز پڑھنے کی دعوت دی۔قدم تیزی سے آیا صوفیہ کی جانب بڑھنے لگے اور الحمداللہ اس تاریخی آیا صوفیہ میں ہم نے بھی عشا ء کی نماز ادا کی۔آپ کو کو تو علم ہی ہوگا کہ 2020 ء ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے اورآیا صوفیہ یونیسکو کے عالمی تاریخی ورثے میں شامل اس مقام کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔جس کے بعد سے عالمی سطح پر اُن کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

آیا صوفیہ کو 1500سال پہلے باز نطینی عہد میں گرجا گھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا اور یہ مشرقی رومن سلطنت (باز نطینی سلطنت) اور مشرقی آرتھوڈکس گرجا کا سب سے بڑا عیسائی چرچ تھا۔900سال بعد سلطنت عثمانیہ کی فوج نے استنبول پر قبضہ کیا اور اسے مسجد میں بدل دیا گیا۔ 80سال قبل خلافتِ عثمانیہ جب ختم ہوئی تو1935 ء میں، مصطفی کمال اتاترک کی ہدایت پر سیکولر جمہوریہ ترکی نے اسے عجائب گھر بنا دیاتھا۔بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے اس کی تعمیر کا حکم 532 دیا تھا جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ 1453ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان محمد دوئم نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر کے شہر کا نام استنبول رکھا اور بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔آیا صوفیہ کو دیکھنے کے لیے ہر سال تیس لاکھ سیاح آتے ہیں۔

دوسرے روزہوٹل کی جانب سے ہم نے بس اور بوٹ ٹرپ کے لئے 55 یورو کاٹکٹ خریدا اور بس پر سوارہو کر ہم استنبول شہر کو دیکھنے کے لئے نکل گئے۔جس میں ہمیں دولما باچی پیلس، گولڈن ہارن اور بوسفارس میں پانی کے جہاز کے ذریعہ سفر اور پیرے لوٹی کی اونچائی پر کیبل کار کے ذریعہ گھومنا پھرنا شامل تھا۔دولما باچی پیلس میں داخل ہونے سے قبل کلاک ٹاور کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد پیلیس کے اندر داخل ہونے کے بعد پیلیس کی خوبصورتی نے دل جیت لیا۔ دولما باچی پیلیس کو سلطنتِ عثمانیہ کی اکتیسویں سلطان عبدالمجید کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سلطان توپ کاپی پیلیس میں رہا کرتے تھے۔ لیکن توپ کاپی پیلیس میں سلطان کو نئی آرائش اور سہولیات فراہم نہیں ہوتی تھیں۔ جس کی وجہ سے دولما باچی پیلیس کی تعمیر کا حکم دیا گیا۔ دولما باچی پیلیس میں بھی عام محلوں کی طرح بڑے بڑے فانوس اور اونچے اونچے دروازے نمایاں ہیں۔ جس سے سلطنتِ عثمانیہ کی شان کا پتہ چلتا ہے۔ دولما باچی کے مرکزی دروازے کی زمین پر جو سنگِ مر مر نصب ہیں ان پر سلطان کے گھوڑوں کے نال کے داغ آج بھی دِکھتے ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ سلطان کی سواری کتنی بھاری بھرکم اور مظبوط ہوگی۔

اس کے بعد ہمیں دیگر سیاحوں کے ساتھ بوٹ پر سوار کر دیا گیا اور ہم گولڈن ہارن اور بوسافارس کی سمندروں سے گزر تے ہوئے استنبول کی تاریخی عمارتوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ کچھ گھنٹے کے بعد بوٹ ایمی نونو پر جا کر رکی اور ہم تمام سیاّح ٹور گائیڈ کے ہمراہ دی اسپائیس بازار(The Spice Bazaar) پہنچے جسے(Egyptian Bazaar)’ایجپشین بازار‘ بھی کہتے ہیں۔ یہاں تمام قسم کے مسالے، زعفران اور ترکی مٹھائیاں بکتی ہیں۔دی ایجپشین بازار کی تعمیر 1660؁ میں ہوئی تھی۔

جمعرات کو ہم ابو ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کے لئے گئے۔ آپ کا پورا نام خالد بن زید اور آپ مدینہ منورہ کے قبیلہ خجرج کے خاندان نجار سے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ اوٹنی بیٹھے گی وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اوٹنی ابو ایوب انصاری کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم نے نیچے قیام فرمایا اور سات ماہ تک ان کے گھر پر رہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر جہاد میں عام وبا پھیلی اورمجاہدین کی بڑی تعداد اس کے نذر ہوگئی۔ابو ایوب بھی اس وبا میں بیمار ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم دشمن کی سر زمین میں جہاں تک جا سکو میرا جنازہ لے جا کر دفن کرنا، چنانچہ وفات کے بعد اس کی تعمیل کی گئی۔ آپ کی وفات 42ہجری میں ہوئی اورآپ کو قسطنطنیہ میں دفن کیا گیا۔ابو ایوب انصاری کے مزار کے احاطے میں ایک عالیشان مسجد ہے جہاں ہم نے ظہر کی نماز ادا کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عصرکی نماز میں ہم نے اتنے لوگوں کو مسجد میں پایا جسے دیکھ کر محسوس ہوا کہ یہ عصر کی نماز نہیں بلکہ جمعہ کی نماز کا منظر ہے۔نمازیوں کی بھیڑ کو دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں اور دل سے ’اللہ اکبر‘ جاری ہونے لگا۔

جمعہ کی شام علی بخش بلوچ کا واٹس اپ کے ذریعہ پیغام آیا کہ کیوں نہ ہم ان کے ہمراہ ایک شام شہر گھومنے نکلیں۔ علی بخش کا تعلق سندھ، پاکستان سے ہے۔ پچھلے دس برسوں سے وہ استنبول میں مقیم ہیں اورایک کاروبار ی ہیں۔ہم دونوں پیری لوٹی کی اونچائی پر پہنچ کر ترکی چائے پیتے ہوئے روشنی میں ملبوس استنبول شہر کی خوبصورتی کا نظارہ کافی دیر تک کرتے رہے۔

سنیچر 6/نومبر استنبول میں ہماراآخری دن تھا۔ ہم استنبول کے معروف تقسیم میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ سامنے گلاتا ٹاور پر نظر پڑی۔اگرچہ یہ معلوم نہیں ہے کہ گلاتا ٹاؤر کب بنایا گیا تھا۔ لیکن عام طور پر اس بات پر اتفاق کیا جاتا ہے کہ 507ء کے آس پاس باز نطینی شہنشاہ جسٹینینس کے دورِ حکومت میں گلاتا ٹاؤر کی تعمیر ہوئی تھی۔ اس وقت اس ٹاؤر کو کرسٹیا ٹورس، یا ٹاور آف کرائٹس کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔جہاں تک گلاتا ٹاؤر کے بارے میں کچھ دلچسپ کہانیوں کا تعلق ہے، سب سے مشہور کہانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک عثمانی ہوا باز ہیزار فین احمد چیلیبی اپنے بازوؤں کے ساتھ پروں سے جڑے ہوئے ٹاؤر کی چوٹی سے ایشیائی استنبول کے اوسکودرعلاقے تک پرواز کرتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس شاندار کارنامے کی وجہ سے سلطان مراد خان کو مبینہ طور پر اس شخص پر شک ہوا اور اسے الجزائر میں جلا وطن کر دیا۔ گلاتا ٹاؤر کے اندر اس شخص کا ویڈیو ایک بہت بڑے پروجیکٹر اسکرین پر لگایا گیا ہے جہاں لوگ اس کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ پیر ہلا تے ہیں جس سے ویڈیو والا شخص سمندر کے اوپر سے اڑتا ہوا اسکودر میں اترتا ہے۔

اتوار7/نومبر کو ہم اپنا سوٹ کیس تیار کر کے ہوٹل کے باہر ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر اپنے بوجھل دل سے استنبول کو خدا حافظ کہتے ہوئے استنبول ائیر پورٹ کی جانب چل پڑے۔ تھوڑی دیراستنبول ائیر پورٹ کے ڈیوٹی فری شاپ میں سامان خریدنے کے بعدبرٹش ائیر ویز میں سورا ہوئے اور جہاز اپنی تیز رفتاری سے لندن کی جانب گامزن ہوگیا۔ اس طرح استنبول کا ایک اوریاد گار سفر اختتام کو پہنچا۔

error: