اسحٰق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل، احتساب عدالت نے وطن واپسی پر گرفتاری سے روک دیا

احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اسحٰق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کے حوالے سے مقدمے میں درخواست منظور کرتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے اور انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر جج محمد بشیر نے سماعت کی۔

دوران سماعت اسحٰق ڈار کے وکیل قاضی مصباح، نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ پراسیکیوٹر افضل قریشی کدھر ہیں جس پر ڈیوٹی پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے جواب دیا کہ وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

وکیل نے اسحٰق ڈار کو گرفتار کرنے سے روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل ایئرپورٹ سے سیدھا عدالت آئیں گے، لہٰذا ان کی گرفتاری سے نیب کو روکا جائے۔

عدالت نے وکیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کر دیے۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اسحٰق ڈار کو سرینڈر کرنے کا موقع دیتے ہیں، انہیں پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے اور وہ پاکستان واپس آجائیں پھر وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔

احتساب عدالت اسلام آباد نے اسحٰق ڈار کے دائمی وارنٹ 7 اکتوبر تک معطل کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اسحٰق ڈار کے وکیل نے جمعرات کو وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ اسحٰق ڈار کو وطن واپس آنے پر گرفتار نہ کیا جائے کیونکہ وہ مقدمے میں شامل ہونے کے لیے عدالت میں سرینڈر کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے بعد احتساب عدالت نے نیب کو 23 ستمبر کو اپنا ورژن دائر کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اس سے قبل اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت کے اس حکم کے خلاف بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے دوران انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اپنے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں اسحٰق ڈار نے عدالت عظمیٰ سے انہیں پاکستان واپسی سے استثنیٰ کا حکم اور ان کے وکیل کو احتساب عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ خرابی صحت کے سبب انہیں ہوائی سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

تاہم 21 ستمبر کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.