اسرائیل کا تحفظ ہر جرمن حکومت کی ترجیح ہوگی، جرمن چانسلر

جرمن چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی ہر جرمن حکومت کے لیے اولین ترجیح رہے گی۔

اپنے 16 سالہ دور کے اختتام کے قریب یہودی ریاست کے الوداعی دورے کے دوران انجیلا میرکل نے یروشلم میں ہولوکاسٹ کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور وہاں کے مہمانوں کی کتاب میں لکھا کہ ’ ہر بار یہاں کا دورہ نئے سرے سے مجھے چھوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہودی عوام کے خلاف جرائم جنہیں یہاں دستاویزی شکل دی گئی ہیں، ہم جرمنوں کے لیے ذمہ داری کی ایک مستقل یاد دہانی اور انتباہ ہیں‘۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ، جنہوں نے انجیلا میرکل کے ایک روزہ دورے کے دوران ان کی میزبانی کی، نے انہیں ’اسرائیل کا سچا دوست‘ قرار دیا۔

جرمن لیڈر نے پہلے بھی اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ جو بھی چانسلر کے طور پر ان کی پیروی کرے گا وہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے یکساں طور پر پرعزم محسوس کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی ہمیشہ اہمیت اور ہر جرمن حکومت کے لیے مرکزی موضوع رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت اطمینان بخش تھا کہ اسرائیل نے جنگ کے بعد جرمنی پر بھروسہ کیا تاہم اس ’اعتماد کو ہمیشہ ثابت کرنا پڑے گا‘۔

نفتالی بینیٹ نے انجیلا میرکل کو دونوں ملکوں کے درمیان بے مثال تعلقات کو فروغ دینے کا سہرا دیا اور اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے انہیں ’یورپ کا اخلاقی مرکز‘ قرار دیا۔

انجیلا میرکل نے ابتدائی طور پر اگست میں دورہ کرنے کا ارادہ کیا تھا تاہم افغانستان سے جرمن اور اتحادی افواج بشمول جرمنوں کے انخلا کی وجہ سے اپنے سفر میں تاخیر کی۔

دو ریاستی حل

جرمن چانسلر کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات طے نہیں تھی۔

انجیلا میرکل کی قیادت میں جرمنی نے اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی وکالت کی ہے تاہم انہیں 1967 میں فلسطینی سرزمین پر فوجی قبضہ ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ نہ ڈالنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بات پر اختلاف کر سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل ہونا چاہیے یا نہیں تاہم اس یقین میں متحد ہیں کہ ہمیشہ ’جمہوری یہودی ریاست اسرائیل‘ ہونی چاہیے۔

نفتالی بینیٹ نے ایک فلسطینی ریاست کے خلاف اپنی مخالفت کی تصدیق کرتے ہوئے الزام لگایا کہ }یہ میرے گھر سے تقریبا سات منٹ کے فاصلے پر ایک دہشت گرد ریاست بن جائے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے معاشی حالات کو بہتر بنانے پر مرکوز ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) میں اسرائیل اور فلسطین کے ڈائریکٹر عمر شاکر نے انجیلا میرکل کو اسرائیل کے 54 سالہ قبضے کو ’عارضی‘ قرار دینے پر تنقید کی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس افسانے کو برقرار رکھنے نے انجیلا میرکل کی حکومت کو لاکھوں فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی حقیقت سے نمٹنے کی راہ فراہم کی ہے‘۔

جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سلامتی امور میں پولیٹیکل سائنسدان پیٹر لنٹل نے کہا کہ انجیلا میرکل کی بعض اوقات سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسی پر تنازع رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تاہم انہوں نے اسے زیادہ تر بند دروازوں کے پیچھے رکھا‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: