اسلاموفوبیا

اسلاموفوبیا انگریزی کا ایک ایسا لفظ ہے جو پچھلے کچھ برسوں سے پوری دنیا میں منفی طور پر سنا جارہا ہے۔جس میں ایک مرد یا عورت مسلمان ہونے کی بنا پر اپنے اوپر بھید بھاؤ ہونے پر ایسے لفظ کا استعمال کرکے اپنے ادارے یا کسی فرد کے خلاف شکایت کرتا ہے۔

اس کے علاوہ اسلاموفوبیا کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ مذہب اسلام یا عام طور پر مسلمانوں کے خلاف خوف، نفرت یا تعصب ہے۔خاص طور پر جب اسے جغرافیائی، سیاسی قوت یا دہشت گردی کے ذریعہ کے طور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔تاہم اسلاموفوبیا کی اصطلاح کی گنجائش اور درست تعریف بحث کا موضوع ہے۔کچھ دانشور اسے زینو فوبیا یا نسل پرستی کی ایک شکل سمجھتے ہیں، کچھ اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کو گہرا تعلق یا جزوی طور پر ایک مانتے ہیں، جبکہ کئی لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

میں اپنے قارئین سے معافی کا بھی طلبگار ہوں کیونکہ مجھے اسلاموفوبیا کو کوئی اردو لفظ نہیں مل سکا۔ دراصل اگر میں یوں کہوں کہ جس طرح انگریزی میں آکسفورڈ ڈکشنسری پورے سال کی محنت اور ریسرچ کے بعد ہر سال آکسفورڈ ڈکشنری میں نئے نئے لفظوں کو شامل کرتے ہیں جو کسی وجہ کر اب تک آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل نہ ہوپائے تھے۔تاہم اس کے لیے آکسفورڈ کا ایک مرکز اور ادارہ ہے جو انگریزی زبان میں نئے لفظوں کے شامل اور اس کے فروغ کے لیے پورے سال کام کرتاہے۔ اس کے برعکس ہمارے اردو زبان میں ہندوستان اور پاکستان جنہیں اردو زبان کا مرکز مانا جاتا ہے، نہ تو کوئی تال میل ہے اور نہ ہی اس پر اب تک کوئی بحث یا تبادلہ خیال ہوتاہے۔ یا میں یہ کہوں کہ یہ بات میری علم میں ہی نہیں ہے۔ممکن ہے اردو بیچاری دو ملکوں کے بیچ سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی ہو یا اردو کے پروفیسر اور دانشور کے سر اتنے بڑے ہیں کہ ان کا مل جل کر بیٹھنا یا اس پر غور و فکر کرنا ایک ناممکن عمل ہے۔تاہم قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ہندوستان کی چند مطبوعات اس حوالے سے اہم ہیں۔ جن میں ’زبان اور قواعداردو‘،’صرف و نحو‘اور’صحّتِ الفاط‘ وغیرہ قابل تعریف ہیں۔ رشید حسن خان جیسے لوگ نے اردو زبان کے حوالے سے کئی اہم کتابیں ضرور لکھی ہیں جن میں ان کی کتاب ’اردو اِملا‘ پڑھنے کے بعد اپنی اردو پر تو شرمندگی ہوتی ہی ہے اور ان اردو پروفیسر پر افسوس بھی ہوتا جنہیں ہم جانتے ہیں۔اس کے علاوہ اردو کے کئی نامی ادارے ہندوستان اور پاکستان میں قائم بھی ہیں جن کا نام سنتے ہی بدن میں ایک حرارت سے ہونے لگتی ہے لیکن ان کے یہاں بھی سوائے کتاب چھپائی اور کانفرنس کے اور کچھ حاصل نہیں ہے۔ ویسے جب ہاتھ دعا کو اٹھتے ہیں تو کبھی کبھی میں کہتا ہوں کہ اے اللہ کاش ان اداروں سے مجھے بھی کانفرنس کی دعوت مل جائے۔ آمین۔

برطانیہ میں ہر سال نومبر اسلاموفوبیا سے متعلق آگاہی کا مہینہ ہوتاہے۔اسلاموفوبیا سے آگاہی کا مہینہ اسلاموفوبیا جرائم کے خطرے کو اجاگر کرتا ہے اور معاشرے میں برطانوی مسلمانوں کی مثبت شراکت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی عقیدے کے خلاف امتیازی سلوک سے آگاہ کرنا ہے۔اس کا ایک مقصد دقیانوسی تصوارات کو چیلنج کرنا ہے جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایک خاص منفی سوچ رکھتے ہوں۔اور ان مثبت شراکتوں کو اجاگر کرنا ہے جو برطانوی مسلمان ہمارے معاشرے میں اپنے اپنے طور پر کرتے ہیں۔ ان میں کئی لوگوں نے رکاوٹوں کو توڑا، دقیانوسی تصورات کو توڑا اور کھیل، سیاست میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر سال نومبر مہینے میں اسلاموفوبیا مہینے کا اہتمام کر کے برطانیہ اور دنیا کو مسلمانوں کی کامیابی اور ترقی کے متعلق آگاہ کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ لیکن کیا اسلاموفوبیا کا منفی اثر سال کے باقی مہینوں میں مسلمانوں کی زندگی کو عذاب بنا رہا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس پر شاید حکومت اور دیگر تنظیمیں ناکام ہیں۔

اسلاموفوبیا سے آگاہی کا مہینہ MEND-Muslim engagement & development))مسلم انگیجمینٹ اینڈ ڈیلوپمنٹ نے دیگر برطانوی تنظیموں کے ساتھ مل کر 2012میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دقیانوسی تصوارات کو ختم کرنے اور چیلنج کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس مہم کا مقصد پولیس اور کرائم کمشنرز، مقامی کونسل، خاص طور پر نفرت پر مبنی جرائم یا کمیونٹی کی حفاظت، صحافیوں اور مقامی میڈیا، کونسلرز، اور مقامی اراکین پارلیمنٹ، مساجد، یونیورسٹیوں، اسکولوں، کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا ہے۔اس کے علاوہ دوسروں کو اسلامو فوبیا کی لعنت کے بارے میں بیداری کرنے اور پولیس کو واقعات کی بہتر رپورٹنگ کی ترغیب دینے کے لیے بھی میٹنگ اور ٹریننگ کا انتظام کیا جاتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ ہر سال نومبر میں اسلاموفوبیا مہینہ منانے سے کچھ حد تک اسلاموفوبیا کے نظریہ کے لوگوں میں بے چینی اور مایوسی ضرور ہوجاتی ہے۔

معروف انگلش اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ میں ایک مسلمان رکن پارلیمنٹ نے ایک خط لکھ کر برطانیہ میں ایک بار پھر اسلاموفوبیا کاموضوع چھیڑ دیا ہے۔ جس سے ایک بار پھر برطانیہ کی سیاسی گلیاری میں بحث چھڑ گئی ہے۔ نصرت غنی کا کہنا ہے ان کے عقیدے کے معاملہ کو ایک حکومتی وہیپ کے ذریعہ اٹھایا گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں 2020میں وزیر کے عہدے سے بر طرف کیا گیا تھا۔سنڈے ٹائمز کے مطابق کنزرویٹیو پارٹی کی نصرت غنی کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنی شکایت کی وضاحت طلب کی تو ان سے کہا گیا کہ’ان کے مسلمان ہونے کے وجہ کو مسئلہ کے طورپر اٹھایا گیا‘۔جبکہ وہیں کنزرویٹیو چیف وہیپ مارک اسپینسر نے کہا کہ محترمہ نصرت غنی ان کا حوالہ دے رہی ہیں اور مزید کہا کہ ان کے دعوے مکمل طور پر جھوٹے ہیں اور وہ انہیں ہتک آمیز سمجھتے ہیں۔لیکن کابینہ کے وزیر ندیم زہادی جو ایک عربی نژاد ہیں کہا کہ اس الزام کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ جسٹس سیکریٹری ڈومینک راب نے کہا کہ الزامات ’انتہائی سنگین‘ ہیں لیکن جب تک محترمہ نصرت غنی باظابطہ شکایت نہیں کرتیں اس کی باقاعدہ تحقیقات نہیں ہوں گی۔نصرت غنی کو 2018میں محکمہ ٹرانسپورٹ میں ایک عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ پارلیمنٹ میں تقریر کرنے والی پہلی خاتون مسلم وزیر بن گئیں۔ وہ فروری 2020میں وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت میں ایک چھوٹے سے ردو بدل میں انہیں ہٹا دیا گیا تھا۔

پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ نصرت منیر الغنی، جو کہ ’نص غنی‘ کے نام سے بھی مشہور ہیں اور جنہوں نے اردو میں حلف اٹھا کر بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عظیم محب وطن اور عظیم رکن پارلیمنٹ ہونے پر بہت فخر ہے۔ہمارے ملک میں تمام زبانوں کی گنجائش ہے جو ہماری دنیا کو جاننے میں ہماری مدد کرتی ہے۔

اگر میں اپنی زندگی کے سیاسی پہلو پر روشنی ڈالوں تو مجھے نصرت غنی کی شکایت پر کوئی حیرانی نہیں ہورہی ہے۔میں نے 1997میں لیبر پارٹی جوائن کیا تھا اور بڑے جوش و خروش سے پارٹی کے کام و کاج کو بحسن خوبی انجام بھی دیا تھا۔ پھر 2010 میں مجھے لیبر پارٹی ویمبلڈن کا وائس چئیر بھی منتخب کیا گیا جس پر پانچ سال تک میں قائم رہا۔ لیکن مجھے کہیں نہ کہیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ مسلمان ہونے کے ناطے مجھے کانسلر یا ایم پی کے انتخاب میں میرے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا۔ کیونکہ کونسلر اور ایم پی کے لیے میرا درخواست باقی امیدواروں سے مضبوط تھی اور میری تقریر بھی زبردست تھی جس کا اعتراف پارٹی کے کئی سنئیر لوگوں نے کیا تھا۔خیر 2015میں جب میں نے سیاست سے مکمل طور پر سنیاس لے لیا تو مجھے اس بات سے کوئی پچھتاوا نہیں ہوا۔ا لیکن مجھے اس بات کا دکھ ضرور ہو ا کہ میں برطانوی سیاست میں چند لوگوں کی تنگ نظری کا شکار ہوگیا جسے ہم اسلاموفوبیا کہہ سکتے ہیں۔

میں آج بھی اسی بات کو سوچتا ہوں کہ’کیا اس کی وجہ میرا مسلمان ہوناتھاجس کی وجہ سے مجھے نظر انداز کر دیا گیا‘۔ شاید اس کا جواب ہمیں کبھی بھی نہ مل پائے گا کیونکہ میں نے نصرت غنی کی طرح کبھی شکایت نہیں کی۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ سیاست سمیت روزگار،اورسماج میں انسان کو اس کی قابلیت اور صلاحیت کے بنا پر اسے موقعہ ملنا چاہیے، نہ کہ مذہبی عقیدے کے تحت اس کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.