اسلامک بینکنگ: پاکستان میں سود سے پاک نظام نافذ ہو سکتا ہے؟

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے جمعرات کو سود پر مبنی معاشی نظام کو اسلامی شریعت کے برخلاف قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملک کے بینکاری نظام کو دسمبر سنہ 2027 تک مکمل طور پر سود سے پاک کیا جائے۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ تمام قرض سود سے پاک نظام کے تحت لیے جائیں۔

سود پر مبنی نظام کے خلاف یہ درخواستیں 19 برس سے زیرِ سماعت تھیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 1992 میں بھی وفاقی شرعی عدالت حکومتِ پاکستان کو حکم دے چکی ہے کہ ملک کے نظام کو چھ ماہ میں سود سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔

اس حکم نامے کے بعد پاکستان میں ایک مرتبہ پھر اسلامی بینکاری کا نظام زیرِ بحث ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی آئین کی شق 38 (ف) کے تحت ’ربا‘ کا ’جلد از جلد خاتمہ‘ لازم قرار دیا گیا ہے۔

ربا کا عمومی تصور ایسے سود کا ہے جو کسی قرض کے بدلے حاصل کیا جائے۔ اسے اسلامی بینکاری میں استحصال پر مبنی تصور کیا جاتا ہے اور وفاقی شرعی عدالت نے جمعرات کو کہا کہ بینکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے۔

کیا اگلے پانچ برس میں سود سے مکمل طور پر پاک بینکاری رائج کرنا ممکن ہے؟ اس حوالے سے پاکستان کے صفِ اول کے بینکوں میں سے ایک کے اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ مالیاتی نظام کو تبدیل کرنا آسان کام نہیں کیونکہ پاکستان میں فی الوقت قرضوں کے لین دین سے متعلق جو بھی قوانین ہیں وہ روایتی یا کنونشنل بینکاری پر مبنی ہیں۔

اُنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کہ اسلامی بینکاری کی فنانسنگ بھی ان ہی قوانین کے تحت جاری کی جاتی ہے، تبدیلی یہ کی جاتی ہے کہ روایتی بینکاری میں اسے قرض قرار دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی بینکاری میں اثاثے کی ملکیت بینک اور صارف مشترکہ طور پر کر لیتے ہیں اور شراکت داری کے اصول کو اپنایا جاتا ہے۔

اسلامک بینکنگ، پاکستان

روایتی اور اسلامی بینکاری میں فرق کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ان عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسلامی بینکاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب بھی کوئی قرض جاری کیا جائے تو اس کی بنیاد پر کوئی اثاثہ بطور گارنٹی موجود ہو۔

اس کی مثال دیتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ جیسے حکومت کی جانب سے سکوک بانڈز جاری کیے جاتے ہیں جن میں حکومت اپنا کوئی اثاثہ بطور گارنٹی رکھ کر بینکوں اور دیگر قرض خواہوں سے قرض حاصل کرتی ہے۔

اس کے بدلے جاری کیے جانے والے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز یعنی پی آئی بی کی پشت پر صرف حکومت کی ساکھ ہوتی ہے جس کے تحت قرض حاصل کر لیا جاتا ہے۔

اگر عام صارفین کی بات کی جائے تو بہت سے لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ اسلامی بینکاری آخر کتنی اسلامی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامی بینکاری جب بھی کسی گاڑی یا کسی گھر کی فنانسنگ کرتی ہے، تو اس کی بنیادی شرحِ منافع کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ (کائبور) کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔

چاہے کوئی قرض روایتی بینک سے لیا جائے یا پھر کسی اسلامی بینک سے کسی اثاثے کے لیے فنانسنگ کی جائے، صارف بینک کو کتنے پیسے دے گا اس کی شرح کائبور سے ہی طے ہوتی ہے۔ بینک عموماً کائبور کے اوپر کچھ فیصد رقم اضافی چارج کرتے ہیں جو صارف کو ہر ماہ ادا کرنے ہوتے ہیں یہاں تک کہ اُن کا قرض مکمل طور پر ادا نہیں ہو جاتا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر بینکاری کو مکمل طور پر اسلامی ہونا ہے تو اگر کوئی شخص اسلامی بینک کی اجارہ پراڈکٹ کے ذریعے لینڈ کروزر خریدتا ہے اور ایک کوئی عام گاڑی خریدتا ہے تو دونوں کا ’رینٹل‘، یعنی وہ ماہانہ رقم جو صارف نے بینک کو ادا کرنی ہوتی ہے اس کی شرح ایک ہی جتنی طے ہوتی ہے حالانکہ اس میں فرق ہونا چاہیے۔

اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ ڈمینشنگ مشارکہ کی بنیاد پر اگر گھروں کی فنانسنگ کی جارہی ہے تو مہنگے اور سستے علاقوں میں لیے جانے والے گھروں کے درمیان شرحِ منافع میں فرق ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہے۔

اسلامک بینکنگ، پاکستان

ڈمینشنگ مشارکہ وہ اصول ہے جس کی بنا پر اسلامی بینکاری میں گھروں کی فنانسنگ کی جاتی ہے۔ فنانسنگ کی قیمت کو اس کے دورانیے پر تقسیم کر کے ’یونٹس‘ تیار کیے جاتے ہیں اور بینک اور صارف مشترکہ مالک بن جاتے ہیں۔

پھر ہر قسط کی ادائیگی پر مذکورہ شخص ایک یونٹ کا مالک بنتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر میں آ کر صارف گھر کے تمام یونٹس لے لیتا ہے اور یوں گھر اس کے نام ہو جاتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے والی بات ہے کہ اسلامی بینکاری کا نظام کائبور کا اسلامی متبادل کتنی جلدی تیار کرے گا اور کتنی جلدی نافذ کرے گا کیونکہ یہی پورے بینکاری نظام کی بنیاد ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر واقعی اسلامی بینکاری کرنی ہے تو پھر نیا بینچ مارک یعنی کائبور تیار کرنا پڑے گا۔

سنہ 1992 میں کیوں اس پر عمل نہیں ہوا؟

سنہ 1992 میں وفاقی شرعی عدالت کے اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ اس سوال پر وہ کہتے ہیں کہ اس وقت اسلامی بینکاری اتنی زیادہ بالغ نہیں تھی لیکن آج اسلامی بینکاری بہت زیادہ ترقی پا چکی ہے۔

’حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قرضوں کو نئے خطوط پر کیسے استوار کرے گی۔ اگر سکوک جاری کیے جائیں گے تو ان کے لیے اثاثے درکار ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ حکومت کے پاس اتنے اثاثے ہیں کہ وہ اتنے زیادہ تعداد میں سکوک جاری کر سکے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کا اسلامی نظام رائج کیا جا سکتا ہے لیکن یہ چیلنجنگ ہو گا، اتنا آسان نہیں ہو گا۔

شرعی عدالت کے فیصلے کے تناظر میں جب ہم نے ماہرِ اسلامی بینکاری اور پاکستان کے مختلف بینکوں کے شریعت بورڈز کے رکن ارشاد احمد اعجاز سے پوچھا کہ اسلامی بینکنگ کیسے رائج کی جا سکتی ہے اور اس میں کتنا وقت لگے گا، تو اُنھوں نے کہا کہ اسلامی بنیادوں پر معاشی نظام اگر رائج کرنا ہے تو اس کے لیے متعدد قوانین میں ترامیم کی ضرورت پڑے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد اس پر مزید تبصرہ کیا جا سکتا ہے مگر بنیادی طور پر بینکاری عدالتوں، ثالثی کے قوانین، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس اور مرکزی بینک کے نظام میں ترمیم کرنا شامل ہے۔

بی بی سی سے تفصیلی گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک قومی پالیسی سازی کرنی ہو گی اور اُن کے نزدیک سنہ 2027 تک اس پر خاصی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

اسلامک بینکنگ، پاکستان

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت مکمل طور پر اثاثوں کی بنیاد پر قائم قرض کی طرف جاتے ہوئے صرف سکوک بانڈز پر آ جاتی ہے تو کیا ملک کے پاس اتنے اثاثے ہیں، تو اس سوال پر اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کئی مختلف اثاثوں کی کیٹیگریز موجود ہیں جن میں انفراسٹرکچر، انٹرپرائز یعنی حکومتی کمپنیاں، قدرتی ذخائر اور اتھارٹیز شامل ہیں جن کے بدلے قرض حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ نظام رائج کرنا کتنا ممکن ہے؟

اسلامی بینکاری پر عام اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ صرف الفاظ کی تبدیلی ہے اور حقیقت میں اس میں اور روایتی بینکاری میں فرق نہیں ہے۔

مگر ارشاد احمد اعجاز اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب بھی اسلامی بینکاری نظام روایتی نظام کے اندر کسی حد تک موجود ہے اور اگر مکمل طور پر قانون سازی اور پالیسی سازی کی جائے تو مزید ایسی پراڈکٹس بنائی جا سکتی ہیں جو سود کے بجائے تجارت کے اصولوں پر قائم ہوں۔

ارشاد احمد اعجاز کہتے ہیں کہ جب آپ کی معیشت روایتی نظام پر چل رہی ہو تو آپ اس کے اندر مکمل طور پر اپنا الگ تھلگ نظام نہیں بنا سکتے لیکن متبادل پراڈکٹس کی طلب ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔

مگر کیا پاکستان کے پاس ایسے کسی نظام کے مکمل نفاذ کے لیے بطور مثال کوئی ملک موجود ہے، تو اُنھوں نے کہا کہ کوششیں کی گئی ہیں لیکن ایسا کوئی مکمل نظام موجود نہیں۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ’اس حوالے سے بہت سا کام ہو چکا ہے اور حکومت کو اس حوالے سے فریم ورک میں اصلاحات کرنی پڑیں گی۔‘

ارشاد کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ یہ پیش رفت اگر سو فیصد نہ بھی ہو تب بھی وقت کے ساتھ یہ ارتقا پا کر مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.