اسلام آباد میں ’خود سوزی کی کوشش‘: شاہراہ دستور پر ایک شخص اقدامِ خودکشی کے الزام میں سپریم کورٹ کے سامنے سے گرفتار، مقدمہ درج

وفاقی دارالحکومت میں آج جمعے کا دن بظاہر معمول کے مطابق تھا جب یہاں ملک کی شاید سب سے اہم سڑک شاہراہِ دستور پر ایک شخص دو کم عمر بچیوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہا تھا۔

اچانک یہ شخص پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے اپنی بائیک روکتا ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کہلائے جانے والے اس علاقے میں عام طور پر ہائی پروفائل شخصیات کی نقل و حرکت کے باعث سکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے۔ شاہراہِ دستور پر سپریم کورٹ کے علاوہ کئی ملکوں کے سفارتخانے، پارلیمان، ایوان صدر اور دفتر خارجہ سمیت کئی اہم عمارتیں موجود ہیں۔

کسی عام سڑک کے برعکس یہاں موٹر سائیکل سواروں کی زیادہ تعداد بھی نہیں ہوتی۔ مگر یہ شخص اپنی موٹر سائیکل سپریم کورٹ کے سامنے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دفتر پر کھڑی کر دیتا ہے اور اپنی آٹھ اور پانچ سال کی بیٹیوں کو موٹر سائیکل سے نیچے اتار کر خود بھی اتر جاتا ہے۔

پھر اس کا ہاتھ بائیک کی ٹینکی کے ساتھ لگے پیٹرول کے پائپ کی طرف جاتا ہے۔ کسی دیکھنے والے کو شاید یہ لگتا کہ بیچارے کا پٹرول ختم ہوگیا ہوگا۔ اس طویل سڑک پر ویسے بھی زیادہ پیٹرول پمپ موجود نہیں ہیں۔ لیکن آگے جو ہوا اس کی وہاں کسی کو توقع نہ تھی۔

سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ملزم وحید نے دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ شاہراہ دستور پر اپنی موٹر سائیکل سپریم کورٹ کے سامنے کھڑی کی تھی

اسلام آباد پولیس کی سپیشل برانچ اور انٹیلیجنس بیورو کے اہلکاروں کے مطابق اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ موجود ملزم وحید بلوچ نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی موٹر سائیکل کھڑی کرنے کے بعد اس کی ٹینکی سے پیٹرول نکال کر اسے اپنے اور اپنی بچیوں کے اوپر چھڑکنا شروع کر دیا تھا۔

یہاں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ فوراً اس شخص کی جانب بڑھے۔

ان کے مطابق انھوں نے ملزم کو ’عین اس وقت قابو میں کرلیا‘ جب وہ اپنی ’جیب سے ماچس نکال کر خود کو اور اپنی کمسن بچیوں کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے خود کو قانون نافد کرنے والے اہلکاروں کے چنگل سے چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔

اس صورتحال کے تناظر میں سپریم کورٹ کے مرکزی گیٹ کے باہر پولیس اہلکاروں نے تھانہ سیکرٹریٹ کو فون کیا اور کچھ ہی دیر میں مقامی تھانے کی پولیس وہاں پر پہنچ گئی جس کے بعد اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

ملزم کون ہے اور اس نے سپریم کورٹ کے سامنے خود سوزی کی کوشش کیوں کی؟

پولیس ابتدائی طور پر ملزم وحید بلوچ اور ان کی دو کسمن بچیوں کو اپنے ساتھ تھانے لے گئے۔ یہاں جا کر معلوم ہوا کہ ملزم وحید بلوچ صوبہ سندھ کے شہر نوشہرہ فیروز کا رہائشی ہے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ملازم تھا۔ پولیس کی جانب سے وحید کی اہلیہ سے رابطہ کیے جانے پر انھوں نے بتایا کہ وہ ’ہمیں کہہ کر آیا کہ میں لڑکیوں کو سیر کروانے لے کر جا رہا ہوں۔‘

وحید نے پولیس کو بتایا کہ وہ ان سینکڑوں ملازمین میں شامل ہیں جن کو ’سپریم کورٹ کے حکم پر ان کی نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے۔‘

مقامی پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم کا یہ کہنا تھا کہ چونکہ ان کے پاس اب روز گار بھی نہیں ہے اور وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے تو انھوں نے ایسے حالات میں خودکشی کرنا ہی مناسب سمجھا۔

انھوں نے کہا کہ جتنا عرصہ انھوں نے این ایچ اے میں کام کیا ہے اس کا پراویڈنٹ فنڈ بھی نہیں ملے گا۔

اسلام آباد، شاہراہ دستور

پولیس نے ملزم کے گھر والوں کو فون کیا ہے کہا ہے کہ وہ ان کمسن بچیوں کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف اقدام خودکشی کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور فی الحال وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

دریں اثنا پولیس نے ان بچیوں کو شکریال کے رہائشی وحید کے ایک رشتہ دار کے حوالے کر دیا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ان کے ہمراہ لڑکیوں کی والدہ بھی آئیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ قبل سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں آنے والے ایمپلائرز ایکٹ سنہ 2010 کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا کہ کہ یہ ایکٹ ’سیاسی بھرتیوں کے لیے لایا گیا‘ تھا۔

پاکستان کے قوانین کے مطابق اقدامِ خودکشی کے مقدمے میں ایک سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ توقع ہے کہ ملزم وحید کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: