اسلام آباد میں ڈکیتی کی واردات: ’ڈاکوؤں کو جانے دیتا تو سات گولیوں سے بچ جاتا جو مجھے قبول نہیں تھا‘

’تین مسلح ڈاکوؤں کا راستہ روکا تو انھوں نے مجھ پر براہ راست فائرنگ کر دی۔ میرے پاس پستول میں صرف چار گولیاں تھیں، جو پہلے لمحے ہی میں ختم ہوچکی تھیں۔ اگر ان کے راستے سے ہٹ جاتا تو سات گولیوں کا زخم سہنے سے بچ جاتا اور وہ فرار ہوجاتے جو مجھے قبول نہیں تھا۔‘

یہ کہنا ہے اسلام آباد پولیس کے ڈرائیور محمد ثقلین بلوچ کا، جو اتوار کو اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں ایک ڈکیتی کی واردات ناکام بناتے ہوئے سات گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔

محمد ثقلین بلوچ کے علاوہ ایک اور کانسٹیبل محمد ارشد بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا ہے۔ پولیس نے موقع سے دو ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جبکہ ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا

واقعہ اتوار کی شام چار بجے کے قریب پیش آیا اور اس وقت اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ محمد حسنات نے جو کہ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں، بتایا کہ پولیس کی موبائل پہنچنے پر ڈاکو فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کے مطابق اس موقع پر پولیس موبائل والے اہلکار نے ان کا پیچھا کر کے راستہ روکا تو انھوں نے براہ راست اس پر فائرنگ کر دی، لیکن زخمی ہونے کے باوجود پولیس اہلکار ان کا راستہ روکتا رہا۔ جس کے بعد مزید نفری پہنچی تو ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا۔

ایک اور عینی شاہد زبیر خان کا کہنا تھا کہ جس طرح ڈاکوؤں نے پولیس اہلکار پر فائرنگ کی تھی۔ ’اس موقع پر ہم نے آنکھیں بند کرلی تھیں کہ اس کے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ پولیس اہلکار موقع پر ڈٹا رہا تھا۔ جس کو ہم لوگوں نے انتہائی زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا۔‘

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

اسلام آباد پولیس کے ترجمان ضیا باجوہ کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے دونوں اہلکاروں کو بہادری کا مظاہرہ کرنے پر ڈیڑھ ڈیرھ لاکھ روپیہ نقد اور تعریفی سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں۔

زاہد باجوہ کے مطابق اتوار کی شام جی الیون کے ایک گھر سے ریسیکو 15 کو ایک کال موصول ہوئی کہ ان کے گھر میں ڈکیت گھس آئے ہیں۔ اس کال کے بارے میں وائرلیس کے ذریعے تھانہ رمنہ کی پولیس موبائل کو جو کہ گشت پر موجود تھی، اطلاع فراہم کی گئی۔

پولیس موبائل میں موجود اے ایس آئی عبدالجبار اور پولیس ڈرائیور محمد ثلقین بلوچ فوراً موقع پر پہنچے اور پولیس کی مزید نفری بھی متعلقہ تھانے سے ایس ایچ او کی قیادت میں جائے واردات کے لیے نکل پڑی۔

ضیا باجوہ کا کہنا تھا کہ پولیس موبائل کے پہنچتے ہی ڈاکوؤں نے موقعے سے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس ڈرائیور محمد ثقلین بلوچ نے ان کا راستہ روکا تو ان پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس سے انھیں سات گولیاں لگیں۔

تھانے سے ایس ایچ او کی قیادت میں پہنچنے والی پولیس نفری سے کانسٹیبل محمد ارشد ملزماں کو گرفتار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹانگ میں گولی لگنے سے انتہائی زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈاکو ہماری موجودگی میں فرار ہوجاتے تو یہ بڑی شرم کی بات ہوتی

اس وقت ہسپتال میں زیر علاج محمد ثقلین بلوچ کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کے روز شام چار بجے کے لگ بھگ وہ اپنے ساتھی اے ایس آئی عبدالجبار کے ساتھ جی الیون میں گشت کر رہے تھے۔

محمد ثقلین بلوچ کے مطابق وائرلیس پر ایک گھر میں ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملی تو اس گھر کے سامنے کافی تعداد میں لوگ اکھٹے تھے اور چند خواتین اور بچے رو رہے تھے کہ ان کے گھر میں ڈاکو گھس آئے ہیں۔ گاڑی سے اترتے ہی اے ایس آئی عبدالجبار صورتحال معلوم کرنے کے لیے گیٹ سے اندر ہوئے تو ڈاکوؤں نے یہ دیکھ کر گھر کے دوسری طرف سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے فی الفور گاڑی سے ان کا پیچھا کیا تو وہ گلیوں میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ گاڑی سامنے کھڑی کر کے ان کا راستہ روکا تو وہ دوسری طرف سے جی الیون مرکز کی طرف مڑ گئے۔‘

محمد ثقلین کہتے ہیں کہ اگر ’ڈاکو ہماری موجودگی میں فرار ہوجاتے تو یہ بڑی شرم کی بات ہوتی، اتنا موقع بھی نہیں تھا کہ گاڑی لے کر ان کا پیچھا کرتا، اتنے میں ایک موٹر سائیکل والے نوجوان کو دیکھا تو اس سے مدد کرنے کو کہا تو وہ بہادر نوجوان تیار ہوگیا‘۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ایک مرتبہ پھر ڈاکوؤں کا راستہ روکا۔

’ان کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ وہ تینوں مسلح تھے۔ چند لمحے کے لیے انھوں نے مجھے موقع دیا کہ میں راستے سے ہٹ جاؤں مگر میں ڈٹ کر کھڑا ہوگیا تو ان تینوں نے مجھ پر براہ راست فائرنگ کر دی۔ میرے پاس پستول میں صرف چار گولیاں تھیں جو پہلے لمحے ہی میں ختم ہوگئیں۔

’اس لمحے مجھے ایسے لگا کہ میرے جسم میں سوراخ ہو رہے ہیں۔ مجھے لگا کہ میرا آخری وقت آچکا ہے۔ اپنی تکلیف پر قابو پاتے ہوئے ان کو روکے رکھا، میں جانتا تھا کہ کسی بھی لمحے پولیس نفری موقعے پر پہنچ جائے گی۔‘

محمد ثقلین بلوچ
،تصویر کا کیپشنثقلین بلوچ اور کانسٹیبل محمد ارشد کو ڈیڑھ ڈیرھ لاکھ روپیہ نقد اور تعریفی سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں

تینوں ڈاکوؤں کے دونوں ہاتھوں میں نائن ایم ایم کے پستول تھے

فائرنگ میں زخمی ہونے والے دوسرے پولیس اہلکار کانسٹیبل محمد ارشد کو ٹانگ میں گولی لگی ہے۔ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انھیں ہسپتال سے رخصت دے دی گئی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ تھانے میں موجود تھے کہ وائرلیس پر اطلاع ملی کہ جی الیون کے گھر میں ڈاکو گھس گئے ہیں۔ ہم چار لوگ ایس ایچ او کی قیادت میں فی الفور موقع کی طرف روانہ ہوگئے‘۔

محمد ارشد کے مطابق ’چند ہی منٹوں میں ہم موقع پر تھے۔ ہمیں پولیس موبائل میں موجود اہلکار کی جانب سے ڈاکوؤں کو فرار سے روکے جانے کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ جہاں پر پولیس موبائل اہلکاروں نے ڈاکوؤں کو روک رکھا تھا وہاں کے ایک کونے پر ہم لوگوں نے مورچہ لگا لیا تھا۔‘

’تینوں ڈاکوؤں کے دونوں ہاتھوں میں نائن ایم ایم کے پستول تھے۔ انھوں نے اپنے جسم پر گولیوں کے اضافی بیلٹ بھی باندھ رکھے تھے۔ وہ براہ راست فائرنگ کر رہے تھے۔ پولیس کے لیے جوابی فائرنگ کرنا ممکن نہیں تھا کہ عام لوگ نشانہ بن سکتے تھے۔‘

پولیس کانسٹیبل محمد ارشد کا کہنا تھا کہ ہم آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ان کو گرفتار کرلیں۔ اس اثناء میں ایک گولی براہ راست میری ٹانگ پر لگی۔ ڈاکوؤں نے پاس ہی کھڑی موٹر سائیکل پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی، مگر غلطی سے اکسیلیٹر زیادہ دبا دیا جس سے آگلا ٹائر اوپر اٹھا تو اس موقع سے ہم نے فائدہ اٹھایا۔

’دو کو ہم سب نے دبوچ لیا جبکہ ایک ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جوش میں مجھے کافی دیر تک ٹانگ میں گولی لگنے کی تکلیف محسوس ہی نہیں ہوئی۔ جب ہماری مزید نفری پہنچی اور گرفتار ملزموں کو وہاں سے لے جایا گیا تو اس وقت تکلیف اور خون بہنے کا احساس ہوا تھا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: