اسلام آباد کا مزید ویکیسینز کیلئے بیجنگ سے رابطہ

اسلام آباد: ملک میں مسلسل ساتویں روز کورونا وائرس کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ فعال کیسز 3 ماہ کے عرصے میں دگنے ہو کر 36 ہزار 849 تک جا پہنچے چانچہ پاکستان نے مزید ویکسین کے لیے چین سے رابطہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اپنی خریدی ہوئی چینی ویکسین کین سائنو اور سائنو فارم کی 10 لاکھ سے زائد خوراکیں مارچ کے اختتام تک وصول کرلے گا۔

 رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی کونسل اور وزیر خارجہ وینگ یی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

انہوں نے یہ بات اجاگر کی کہ پاکستان نے اس وبا کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر میں ویکسینیشن کے لیے ایک وسیع منصوبہ تیار کیا تھا۔

مؤثر طریقے سے اور تیزی سے وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کی صلاحیت کو تقویت دینے کے لیے شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ چین سے مارچ اور اپریل کے دوران کورونا ویکسین کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا۔

چینی وزیر خارجہ نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ چین اس عالمی وبا کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی مؤثر حمایت جاری رکھے گا اور اور اپنے دوست کی ضروریات کو اعلیٰ ترجیح دے گا۔

وزیر خارجہ نے پاکستان کو 15 لاکھ ویکسین کا تحفہ دینے پر چین کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ اس نے انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزارت صحت کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ چین سے ملنے والے عطیہ سے پاکستان میں ویکسین کا اسٹاک بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 'دریں اثنا ہمیں کوویکس سے بھی مفت ویکیسن ملے گی جس نے پاکستان کی 20 فیصد آبادی کے لیے ویکسین کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے، ہم نے 10 کروڑ ڈالر ویکسین کی خریداری کے لیے اکٹھے کیے تھے جو جلد پاکستان پہنچ جائے گی۔

اس ضمن میں وفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا کہ چینی ویکسین سائنو فارم وار کین سائنو کی خریدی گئی 10 لاکھ خوراکیں مارچ کے اختتام تک پاکستان پہنچ جائیں گی۔

خیال رہے کہ یہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی پہلی کھیپ ہے جو حکومت نے کسی مینوفیکچرر سے خریدی۔

اسد عمر نےکہا کہ ہم نے 10 لاکھ خوراکیں سائنو فارم اور 6 لاکھ کین سائنو کی خریدی ہیں جو مارچ کا مہینہ ختم ہونے سے قبل مل جائے گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت انہی چینی کمپنیوں سے ویکسین کی مزید 70 لاکھ خوراکیں خریدنے کے لیے رابطے میں تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: