Site icon Dunya Pakistan

اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچے سکول کیوں نہیں جا رہے؟

اسلام آباد شہر اور مضافات میں چلنے والی زیادہ تر سکول بسوں میں آج کل آپ کو بچے دکھائی نہیں دیں گے۔ استاد سکول تو آتے ہیں لیکن انھوں نے کلاسز کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور بچوں سے کہا ہے کہ ہم آپ کو رابطہ کر کے بتائیں گے کہ کب سکول آنا ہے۔

اس صورتحال کے باعث سکولوں میں ہونے والے امتحان بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

جمعے کی صبح میں ایک سکول کے باہر گئی تو وہاں لگے تین چارٹس پر لکھا تھا:

نامنظور، نامنظور، نامنظور!

’ہم اسلام آباد کے سکولوں کو مینوسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، والدین ہمارا بھرپور ساتھ دیں۔‘

دوسرے چارٹ پر کچھ خدشات درج ہیں کہ ’بجٹ کی صورت میں اساتذہ کے ساتھ والدین بھی متاثر ہوں گے اور والدین کو فیس دینے کے ساتھ ساتھ کتابوں کے اخراجات بھی خود برداشت کرنا ہوں گے۔ ‘

وزیر تعیلم شفقت محمود نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ بچے پیر سے سکول جانا شروع کر دیں گے۔

انھوں نے اساتذہ کے نمائندوں کے ہمراہ اپنی تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ انھوں نے اسلام آباد میں اساتذہ کے نمائندوں سے ایف ڈی ای کو میئر کے ماتحت کرنے کے معاملے پر بات کرنے کے لیے ملاقات کی ہے۔

دراصل ہوا یہ کہ 23 تاریخ کو صدر پاکستان نے اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے آرڈیننس کی منظوری دی۔ اس کی شق نمبر 166 میں لکھا گیا ہے کہ اب سے تمام سرکاری سکول مئیر کے ماتحت ہوں گے اور فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے چیئرمین کی تعیناتی میں مئیر کی رضامندی کو بھی شامل کیا جائے گا۔

اساتذہ کے مطابق انھیں 25 نومبر کو یہ خبر ملی جس کے بعد انھوں نے فوری طور پر ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی۔

منگل سے اساتذہ نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور جمعرات کو ایک بڑی تعداد میں ٹیچرز اور سکولوں کے عملے کے اراکین نے دارالحکومت کے مرکز میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر ایک بڑا مظاہرہ کیا۔

جمعرات کو صبح نو بجے شروع ہونے والا یہ احتجاج سورج غروب ہونے کے بعد بھی جاری رہا۔

اس میں شرکت کرنے والی ایک ٹیچر آمنہ نے مجھے بتایا کہ ’آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے جب سے یہ خبر سنی ہے ہم نہ ٹھیک سے کھانا کھا پا رہے ہیں اور نہ ہی سو پا رہے ہیں‘۔

وہ ہر روز دارالحکومت کے ایک مضافاتی سکول میں پڑھانے کے لیے کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے دیکھا کہ پریڈ گراؤنڈ سے شہید ملت روڈ تک مرد ہی مرد اور عورتیں ہی عورتیں تھیں۔ ان میں بیمار اساتذہ کو دیکھ کر میں سوچ رہی تھی اس ملک میں ہم اساتذہ کی کیا عزت ہے؟'

لیکن استاد آخر اس حکومتی آرڈینینس کی شق نمبر 166 پر اس قدر احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟ ان کے خدشات کیا ہیں کیونکہ شق 166 تو بس سکولوں کو فقط میئر کے ماتحت کر رہی ہے۔

اس حوالے سے آپ ٹیچرز سے بات کریں یا اس احتجاج کے منتظمین سے، ہر ایک یہی سوال کرتا ہے کہ ’ہمارے ملک میں بلدیاتی نظام اتنا کمزور ہے، ابھی تو ہم منسٹری کے ماتحت ہیں تو ہمیں فنڈز میں مشکلات ہوتی ہیں اور اگر آرڈیننس واپس نہ لیا گیا اور یہ مسلط کیا گیا تو کیا گارنٹی ہے کہ میونسپل کارپوریشن اپنا فرض ادا کر پائے گی یا نہیں۔‘

اسلام آباد کے ایک سکول کی پرنسپل نے جو اس احتجاج میں شریک بھی تھیں مجھے بتایا کہ ’ہمارے خدشات یہی ہیں کہ میونسپل کارپوریشن کے پاس تو اتنے فنڈز ہی نہیں ہوتے، ایسے میں وہ سکولوں کی ذمہ داری کیسے نبھائیں گے۔ایسے میں مستقبل میں بچوں کو دی جانے والے مفت تعلیم اور کتابیں دیے جانے کا سلسلہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں یہ بھی سوال ہے کہ اساتذہ کی تنخواہوں اور پینشنز اور ہاؤس رینٹ کا کیا ہو گا۔‘

سکول ٹیچر آمنہ کہتی ہیں کہ ’ہم روز سکول جاتے ہیں لیکن خالی سکول میں بیٹھ کر واپس گھرآ جاتے ہیں، بچوں کی غیر موجودگی ایسے ہی ہے کہ سکول ایک ویران باغ ہو۔‘ جب نیلے پیلے اور گلابی اور سفید پلے کارڈز اٹھائے خواتین اور مرد اساتذہ احتجاج کر رہے تھے تو پولیس کی جانب سے انھیں منتشر کرنے کی کوشش نہیں کی گئیں لیکن پولیس وہاں موجود رہی۔ ایک مرد استاد نے پولیس کے ایس ایچ او کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھی تو ہم سے ہی پڑھ کر یہاں تک پہنچے ہیں، تو یہ ہمیں کیوں کچھ کہیں گے؟‘شہر کے میئر گذشتہ ماہ انتظامی اختیارات کے ایک معاملے پر پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں اور ان کی جگہ فی الحال میئر کی اضافی ذمہ داریاں ڈپٹی کمشنر کو سونپی گئی ہیں۔

اساتذہ کے خدشات کے حوالے سے ہم نے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات سے بات کی کہ شہر میں تعلیم کا انتظام اس بائیکاٹ سے کیسے متاثر ہو رہا ہے اور اس پر ان کے دفتر کی جانب سے کیا اقدامات کیے گئے ہیں تو انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں تعلیم تو مقامی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے، پاکستان میں بھی ایسے ہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ آرڈینینس باقاعدہ کابینہ سے پاس ہوا ہے اور تین ایم این ایز نے اس پر متفقہ طور پر اتفاق کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’قانون کے خلاف مذمت نہیں کی جا سکتی اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو وہ منسٹری کے پاس جائے، عدالت میں جائے۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اساتذہ کا یہ خدشہ کہ مستقبل میں میئر کے ماتحت جانے سے انھیں اور بچوں کو نقصان ہوگا تو ’ایسا کچھ بھی نہیں‘۔ وہ کہتے ہیں کہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا۔

لیکن اساتذہ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان ضیا یوسفزئی نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ حکومتی اراکین سے بات کی ہے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ ’ان کے پاس وقت نہیں تھا اور انھیں جلدی میں یہ آرڈیننس جاری کرنا پڑا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پوری دنیا میں سسٹم ایک ہوتا ہے اور جو بھی کیا جاتا ہے مشاورت سے کیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ کے ڈی جی کے پاس گئے اور سیکریٹری ایجوکیشن سے بھی بات کی تاہم انھوں نے بھی یہی کہا کہ ’حکومت کی جانب سے انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔‘

اساتذہ کے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے اس معاملے کو سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کے سربراہ ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے اور ’ہم نے کمیٹی کے جاری شدہ ایجنڈے میں ترمیم کر کے اس مسئلے پر بات کو بھی شامل کیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سات تاریخ کو ہونے والے اجلاس میں امید ہے کہ وزارت تعلیم کی جانب سے نمائندگی ہوگی اور صورتحال کو واضح کیا جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں یہ عجلت میں لیا گیا فیصلہ ہے۔ حکومت معطل شدہ بلدیاتی نظام کو عدالت کے حکم پر بحال کر رہی ہے، یہ اتنا مضبوط سسٹم نہیں ہے۔‘

ماہر تعلیم اور کالم نگار اصغر سومرو کہتے ہیں کہ اگرچہ دنیا میں یہ اچھی پریکٹس موجود ہے کہ پرائمری ایجوکیشن میئر کے ماتحت ہوتی ہے اور سلیبس، گرانٹس، جائزہ لینا، یہ سب صوبائی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں زیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے کہ بلدیاتی نظام فوجی حکومت کے دور میں سامنے آتا ہے اور ’جمہوری حکومتیں اس پر سیاست زدہ دکھائی دیتی ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں ایک آرڈینس کے ذریعے سکولوں کو مئیر کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیسے لیا گیا اسے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ’یہ الیکشن کو دیکھ کر لیا گیا فصیلہ ہے اور یہ بھی سوال ہے کہ اس پر طویل مدتی کیوں نہیں سوچا گیا۔‘

Exit mobile version