اسلام آباد ہائی کورٹ: نیو یارک فلیٹ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کا منظر آج عام دنوں سے مختلف دکھائی دے رہا تھا، چاروں اطراف سکیورٹی لگا دی گئی تھی اور کسی غیر متعلقہ شخص کو کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں تھی اور یہ تمام انتظامات اس لیے کیے گئے تھے کہ سابق صدر آصف علی زداری کو ایک مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری لینے کے لیے عدالت میں پیش ہونا تھا۔

رینجرز کی گاڑیاں صرف عدالت کے باہر ہی نہیں بلکہ احاطہ عدالت میں بھی موجود تھیں اور اس کے علاوہ ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر کچھ گاڑیاں ایسی بھی تھیں جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ نیب کے اہلکاروں کی ہیں۔

منگل کے روز آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے مؤکل کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اس لیے انھیں پہلے ائیرایمولینس میں اسلام آباد لایا جائے گا اور وہاں سے ایمبولینس میں ڈال کر عدالت کے احاطے تک پہنچایا جائے گا جہاں سے انھیں وہیل چیئر پر بیٹھا کر کمرہ عدالت میں لے جایا جائے گا۔

تاہم بدھ کے روز آصف علی زرداری نے ایمبولینس کی بجائے ایک عام گاڑی میں عدالت کے احاطے میں پہنچنے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے گاڑی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔

گیٹ پر موجود سکیورٹی کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے ایسا کوئی حکم نامہ نہیں ملا کہ سابق صدر کی گاڑی کو عدالت کے احاطے میں جانے دیا جائے، اس کے بعد آصف علی زرداری گاڑی سے اترے اور لاٹھی کے سہارے چل کر گیٹ سے تقریباً پانچ سو قدم کے فاصلے پر واقع اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں پہنچے۔

IrfanAl53197096

کمرہ عدالت میں آصف علی زرداری دوسری صف میں بیٹھے تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق کمرہ عدالت میں آئے اور صرف ڈیڑھ منٹ کی عدالتی کارروائی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سابق صدر کو پانچ لاکھ روپے کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری دے دی۔

واضح رہے کہ نیب نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک فلیٹ کا سراغ لگایا ہے اور نیب کے حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری اس فلیٹ کے مالک ہیں جس کی بنیاد پر گذشتہ ماہ نیب نے انھیں طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

سابق صدر جتنی دیر تک کمرہ عدالت میں موجود رہے ان کی پارٹی کے مختلف رہنما انھیں باری باری سلام کرنے آئے۔

عدالت ختم ہونے کے بعد بھی سابق صدر کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور واپسی پر صحافیوں کو ان سے گفتگو کرنے کا موقع مل گیا اور سوال و جواب کا دلچسپ سلسلہ بھی ہوا۔

نیب

ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا مفاہمت ہوگئی ہے یا مزاحمت جاری رکھیں گے جس پر آصف علی زداری کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ کمانڈر کرتا ہے اور یہ سوال آپ بلاول بھٹو زرداری سے کریں۔

ایک سوال یہ داغا گیا کہ کیا وہ اسٹیبلشمنٹ کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں جس پر سابق صدر نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے بھی تو ان کے توسط سے نہیں دیں گے۔

صحافی مطیع اللہ جان نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ تین سال والے بیان پر قائم ہیں جس پر آصف علی زرداری نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو اٹھائے گئے تھے اور آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اٹھائے جائیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں سابق صدر آصف علی زرداری نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی تعیناتی صرف تین سال کے لیے ہوتی ہے اور اگر وہ ان کی کردار کشی کرنے سے باز نہ آئے تو وہ قیام پاکستان سے لے کر تمام جرنیلوں کا کچا چٹھا کھول دیں گے۔

Scial Media

واپس جاتے ہوئے ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مشورہ دیں گے کہ وہ بھی عدالت میں پیش ہوں، جس پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ وہ کون ہوتے ہیں کسی کو مشورہ دینے والے۔

ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کے لیے کوئی اور قانون ہے اور آپ کے لیے کوئی اور، جس پر سابق صدر نے جواب دیا کہ ’میرے اور نواز شریف کے ڈومیسائل میں فرق ہے۔‘ اس سوال کا جواب دینے کے بعد سابق صدر مسکرائے تو ضرور ہوں گے لیکن چہرے پر ماسک کی وجہ سے ان کے چہرے کے تاثرات نظر نہیں آئے۔

گاڑی کی جانب واپس جاتے ہوئے سابق صدر کی پرائیویٹ سیکیورٹی پر مامور ایک شخص نے انھیں سہارا دیا ہوا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: