اسما قتل کیس: مردان میں بچی کو ریپ اور قتل کرنے کے کم عمر مجرم کو مجموعی طور پر 88 برس قید کی سزا

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں چار سال قبل ایک چار سالہ بچی اسما کے ریپ کے بعد قتل کرنے والے کم عمر مجرم کو عدالت نے مجموعی طور پر 88 برس قید کی سزا سنا دی ہے۔

یہ سزا بچوں کے لیے قائم خصوصی عدالت کے جج نے سنائی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاکستان کے قانون کے سیکشن 302ب کے تحت جرم مکمل طور پر ثابت ہو چکا ہے لیکن چونکہ مجرم کم عمر ہے اس لیے مجرم کو جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے مطابق موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں زینب قتل کیس کے بعد خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں چار سالہ بچی اسما کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا جسے ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں سنہ 2017 کے بعد سے کم عمر بچوں کے ساتھ ریپ اور قتل کے واقعات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس کے بعد بچوں کے تحفط کے قانون، چائلڈ کورٹس اور جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ میں ترامیم کی گئی تھیں تاکہ قوانین کو زیادہ موثر بنایا جا سکے اور بچوں کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

عدالت کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں قائم چائلڈ کورٹ کے جج اعجاز احمد نے منگل کے روز فیصلہ جاری کیا ہے۔

اسما کے والد بہرام کے وکیل عدنان علی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے کل ملا کر مجرم کو 88 برس قید اور ایک لاکھ تیس ہزار روپے جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں اور یہ سزائیں بیک وقت جاری رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجرم نے جو تین سال سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزارا ہے وہ بھی سزا میں شامل ہو گا۔

عدالت نے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 302ب اور تعزیرات پاکستان کے سیکشن 376 کے تحت پچیس پچیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان دونوں سزاؤں میں 20 ہزار اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی شامل ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک لاکھ روپے مقتولہ کے قانونی ورثا کو دیے جائیں گے۔

عدنان علی ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت نے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 364 کے تحت 14 سال بامشقت سزا سنائی ہے جبکہ سیکشن 363 کے تحت سات سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے بچوں کے تحفظ کے قانون چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کے سیکشن 37 کے تحت تین سال بامشقت قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ جبکہ سیکشن 53 کے تحت 14 سال کی بامشقت سزا سنائی ہے۔

عدنان علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ سزائیں ’کنکرنٹ‘ ہیں یعنی ایک ساتھ جاری رہیں گی یعنی عام اصطلاح میں ان میں جو سب سے زیادہ سزا سنائی گئی ہے اتنا عرصہ قید میں گزارنا ہو گی۔

بچہ

جرم کب اور کیسے ہوا تھا؟

مردان کے گاؤں گجر ڑھی میں یہ واقعہ جنوری 2018 میں پیش آیا تھا جب چار سالہ بچی اسما گھر کے سامنے کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔

کافی تلاش کے بعد بچی کی لاش ان کے گھر کے قریب واقع گنے کے کھتیوں سے ملی تھی۔

شروع میں مقامی پولیس بچی سے ریپ کی سختی سے تردید کرتی رہی اور بعد میں مردان کے ضلعی ناظم نے ہسپتال میں تعینات لیڈی ڈاکٹر کے توسط سے بتایا تھا کہ بچی کے ساتھ ریپ کیا گیا تھا۔

مقامی علاقے کے لوگوں نے ملزم کی گرفتاری اور ایف آئی آر میں دہشت گردی اور جنسی زیادتی کی دفعات شامل کرنے کے مطالبات کیے تھے۔

عدنان علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مقدمہ پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں شروع ہوا تھا جس میں مجرم کو سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تھی اور پھر پشاور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ واپس چائلڈ کورٹس میں بھیجا تھا جس میں انسداد دہشت گردی کے سیکشن ہٹا دیے گئے تھے اور لڑکے کی عمر کم ہونے کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت مردان کے چائلڈ کورٹ میں شروع ہوئی تھی۔

عدنان علی ایڈووکیٹ کے مطابق عدالتی دستاویز میں مجرم کی عمر 14 سے 15 سال تک لکھی گئی ہے۔

اس بارے میں چار سالہ بچی اسما کے والد بہرام نے بی بی سی کو بتایا اس واقعے کے بعد سے ان کی زندگی یکسر بدل گئی ہے اور انھیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے ملزم گرفتار ہوا ہے تب سے ان پر دباؤ ڈالا جار رہا ہے اس لیے وہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

بہرام نے بتایا کہ وہ مزدوری کرتے ہیں اور اسما کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس سے تین ماہ پہلے وہ سعودی عرب مزدوری کے لیے گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب جانے کے لیے بڑی تگ و دو کی تھی پیسہ، پیسہ جمع کیا تھا اور اچانک یہ واقعہ پیش آیا جس کے بعد وہ واپس پاکستان آ گئے تھے اور اس دوران ان کا سعودی عرب کا ویزا بھی کینسل ہو گیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان کے چھوٹے بچے ہیں انھیں تعلیم بھی نہیں دلوا سکے اور اب ان کا گزر بسر بھی بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔‘

بچوں کا تحفظ اور سزائیں؟

پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور یلفیئر کے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں جبکہ وہ بچے جو کسی جرم میں ملوث ہوتے ہیں ان کے لیے بھی جووینائل جسٹس سٹسم کے تحت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے متحرک عمران ٹکر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے جتنا کام کیا ہے اس میں توجہ زیادہ تر روک تھام پر ہوتی ہے تاکہ ایسے واقعات پیش ہی نہ آئیں جس میں بچوں کے خلاف کوئی جرم ہو اور یا بچے کسی جرم میں ملوث ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق اب تک چائلڈ کورٹس سے جو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ سزا سنائی گئی ہے لیکن یہ قانون کے مطابق ہے۔

عمران ٹکر نے بتایا کہ اگر کوئی کم عمر کسی جرم میں ملوث ہو اور عدالت سزا سنا دے تو قانون کے تحت کم عمر مجرم کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے بحالی مراکز ہونے چاہییں جو بدقسمتی سے پاکستان میں کہیں نہیں ہیں اس لیے ایسے مجرم کو جیل کے اندر ایک الگ حصے میں رکھا جاتا ہے۔

ریپ اور قتل

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

بچوں کے حقوق کے حوالے متحرک وکیل عمر سجاد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 18 سال سے کم اور 18 سال یا اس سے زیادہ کا اگر کوئی مجرم ہو تو ان کی سزاؤں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن کم عمر مجرم کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی اور یہ کہ کم عمر مجرم کو بامشقت سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کے مقدمات کے بارے میں زیادہ حساس ہونا پڑتا ہے اس لیے بچوں کے مقدمات ایک تو ایسے مقام پر ہوں جہاں بڑے ملزمان یا مجرم نہ ہوں اور اگر کسی بچے کو سزا ہو تو اسے بڑوں کے ساتھ نہ رکھا جائے بلکہ ان کے لیے جیل کا تصور ہی نہیں ہونا چاہیے اور ان کے لیے بحالی مراکز ہونے چاہییں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کم عمر مجرم کے لیے قانون میں الگ بحالی مراکز قائم کرنا ضروری ہے اور یہ بحالی مراکز جیل کے اندر نہیں ہوں گے بلکہ یہ علیحدہ ہوں گے جہاں بچوں کو بہتر انسان بنانے کے لیے اقدامات ہوں گے مثال کے طور پر بچوں کو تعلیم، انھیں ہنر مند بنانا اور اور ان کی تربیت کرنا شامل ہوں گے۔

عمران ٹکر کے مطابق خیبر پختونخوا میں آٹھ اضلاع میں چائلڈ کورٹس بنائے گئے ہیں اور جووینائل جسٹس سسٹم 2018 کے تحت سزا کی نسبت کم عمر بچوں کی تربیت، فلاح اور ان کو معاشرے کا بہتر شہری بنانے پر توجہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا 'اس کے بر عکس عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے کیونکہ جووینائل جسٹس سسٹم کے تحت کہیں بھی کوئی بحالی مراکز نہیں ہیں اور مجبوراً ان بچوں کو جیل میں رکھا جاتا ہے۔

'اگرچہ ان جیلوں میں الگ بیرکس ہیں لیکن یہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.