اسکروٹنی رپورٹ میں پی ٹی آئی کی اہم دستاویزات، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات چھپانے کا انکشاف

ایک دلچسپ پیش رفت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 4 جنوری کو فریقین سے شیئر کی گئی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کے ذریعے مانگی گئی دستاویزات اور بینک اسٹیٹمنٹس کی 8 جلدیں شامل نہیں ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے چھپائی گئی دستاویزات میں تمام اصل 28 بینک اسٹیٹمنٹس اور 13-2009 کے درمیان پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی غیر ملکی رقوم کی سال وار تفصیلات شامل ہیں۔

کمیٹی کی اپنی خواہشات کے مطابق شواہد کے اس اہم حصے کو خفیہ رکھا گیا ہے جس کا اظہار رپورٹ کے صفحہ 83 پر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’کمیٹی کی اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ رپورٹ کے وہ حصے جو (پی ٹی آئی) کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے حاصل کیے گئے بینک اسٹیٹمنٹس کو خفیہ رکھا جاسکتا ہے اور عوامی ڈومین میں جاری نہیں کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے انکلوژرز سیکشن میں کہا گیا ہے کہ ’کمیشن کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان-بینک اسٹیٹمنٹس (کتاب 1 سے 8) کے ذریعے طلب کی گئی دستاویزات‘ کو خفیہ رکھا گیا ہے اور وہ رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

کمیٹی کا پی ٹی آئی کی مالیاتی دستاویزات اور بینک اسٹیٹمنٹس کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ بظاہر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اپنے 30 مئی 2018 کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال ایک عوامی دستاویز ہے، جس کی کاپیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ای سی پی نے 14 اپریل 2021 کو بھی ایسا ہی حکم دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جب معاملہ (فارن فنڈنگ کیس) کمیشن کے سامنے آئے گا، اس وقت تمام فریقین کاپیاں لے سکتے ہیں یا دستاویزات کا استعمال کر سکتے ہیں۔

کمیٹی کی رپورٹ میں باور کرایا گیا کہ معلومات کے فرق کو ختم کرنے کے لیے کمیٹی نے ای سی پی کی منظوری سے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی کہ وہ 2009 سے 2013 تک ملک میں پی ٹی آئی کی جانب سے چلائے جانے والے بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات فراہم کرے۔

خیال رہے کہ کمیٹی کا مقصد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے موصول ہونے والی معلومات اور تفصیلات کا تجزیہ کرنا اور پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی مصدقہ، مستند اور قابل تصدیق معلومات کی بنیاد پر صورتحال واضح کرنا تھا۔

رپورٹ میں کمیٹی کے حوالے سے کہا گیا کہ اس نے فیصلہ کیا ہے کہ درخواست گزار اور مدعا علیہ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات سے نکلنے والا ڈیٹا رپورٹ کے غیر درجہ بند حصے میں ظاہر کیا جائے گا جبکہ اسٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا اپنی مرضی سے حاصل کرے گا۔

مزید یہ کہ ایک درجہ بند حصے میں واضح کیا جائے تاکہ بینک اکاؤنٹس اور بینکنگ کی معلومات کی رازداری کو کنٹرول کرنے والے قوانین، قواعد اور طریقہ کار کی خلاف ورزی نہ ہو۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس، جو اس نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے بینکوں سے مانگی ہیں، دیکھنے کے لیے فراہم نہیں کی جائیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.