اصغر ندیم سید کا دشتِ امکاں !

(گزشتہ سے پیوستہ)

میں ابھی تک اصغر ندیم سید کے ناول’’دشتِ امکاں‘‘ کے سحر میں گم ہوں ،ناول کیا ہے ایک طلسم ہوشربا ہے، ساری دنیا کی بلند قامت اور پست قامت شخصیات ، ان کے کردار کی عظمت اور ان کے کردار کی پستیوںسے ہم روشناس ہوتے ہیں، ناول کا ہیرو ’’آنس‘‘ جو ایک مورخ ہے اور زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہو چکا ہے وہ یہ سب کچھ دیکھتا ہے ،سنتا ہے اور پھر کہیں روتا اور کہیں ہنستا دکھائی دیتا ہےمجھے خود پر بار بار غصہ آ رہا ہے کہ میں نقاد کیوں نہیں کاش میں نقاد ہوتا اور محض ایک قاری کی طرح اپنے تاثرات بیان کرنے کی بجائے اس ناول کی پرتیں کھول کر دکھا سکتا ۔ اس ناول کا کینوس بہت وسیع ہے آپ پڑھتے چلے جائیں آپ کو ہر بار ایک نئی دنیا نظر آئے گی، اس ناول کے ساتھ بہت سے لوگ انصاف کر سکیں گے خصوصاً ایک تگڑا تخلیقی نقاد انوار احمد اس ناول کے حوالے سے وہ کچھ بیان کر سکے گا جو میں نہیں کر سکا !

اب آخر میں آپ مختلف شخصیات سے ’’آنس‘‘ کی مزید ملاقاتوں میں شریک ہوں اور مجھے اجازت دیں!

جون ایلیا سے ملاقات

مجھے ملا تو فوراً میرے سامنے لیٹ گیا کہا نہیں اٹھوں گا مولا کی قسم جب تک آپ احمد فراز کو برا شاعر نہیں کہتے۔ میں نے کہا ،ہاں فراز واجبی سا شاعر ہے تو زقندبھر کر اٹھا اور درخت پر چڑھ گیا اور کہا اب درخت سے تب اتروں گا جب تک تم احمد ندیم قاسمی کو گھٹیا شاعر نہیں کہو گے ۔میں نے وہ بھی کہہ دیا۔تو موصوف اتر تو آئے مگر پھر میرے کندھے پر سوار ہوگئے کہ فیض احمد فیض کو بھی اوسط درجے کا شاعر کہو، میں نے وہ بھی کہہ دیا پھر کندھے سے اترے ضرور مگر گلے پڑ گئے کہ پیارے بھائی جب تک جمیل الدین عالی سے سارے ایوارڈ واپس نہ لو میں تو گلے سے لٹکا ہوں میں نے کہا یہ بھی ہو جائے گا لیکن پہلے تم یہ تو بتائو کہ جب تم نے اپنے بھائیوں رئیس امروہوی اور سید محمد تقی کو جمیل الدین عالی کے گھر سے نشے میں دھت ہو کر دو بجے رات کو فون کیا تھا اور ان سے مکان کا قبضہ لینے کے لئے مارشل لاء کا فوجی افسر بن کر بات کی تھی تو کیا ہوا تھا۔

وہ تو ہم سے بھول ہو گئی زبان کے جو میٹھے ہیں ہم نے فون پر فوجی افسر بن کے کہہ دیا بھائی جان ہم مارشل لاء کے افسر بول رہے ہیں تو آگے سے پتہ ہے کیا کہا ۔ابے او...، مجھے ... سمجھتا ہے اور فون بند کر دیا۔

تو پھر جون ایلیا تم نے خود کو برباد کیوں کر دیا، خود کو تباہ کرکے بھی تجھے ملال نہیں ہے ۔

ارے بڑے بھیا ہم خالص شاعر ہیں اندر سے برباد نہ ہوں تو بڑے بھائی شاعری نہیں ہوتی وہ بھڑبھونچے کی بھاڑ ہوئی ناں۔

غالب سے ملاقات

مسٹر غالب آپ اپنے مطلب کے پکے ہیں خواہ مخواہ بے چارے ابراہیم ذوق کو آپ نے ولن بنا کے رکھا۔ وہ شریف آدمی تھا آپ کو جس سے کام ہوتا تھا آپ اس تک پہنچنے کی سیڑھی بناتے تھے یہ آپ کے خطوط سے واضح ہوتا ہے پہلے کس کو خط لکھنا ہے پھر اس نے کس کو خط لکھنا ہے پھر اس کے ذریعے سے بات کہاں تک جائے گی، ویسے یہ بری بات نہیں ہے ،کلکتے کا سفر اسی مقصد کے لئے تھا البتہ اس کا آپ نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا شاید ایک دو غزلیں اس حوالے سے ہوں مگر یہ سفر تو رائیگاں تھا ۔

پھر مجھے پتہ نہیں کہ غالب نے ان سے کیا کہا میں تو صرف آنس کو سن رہا تھا تو آنس نے کہا جناب عالی! آپ کے دیوانوں نے بہت غل مچایا عبدالرحمن بجنوری ہوں کہ حالی ہوں کہ گوپی چند نارنگ ہوں آپ کی غزل کا حق ادا نہیں ہوا آپ جیسا جینئس اردو زبان نے پیدا نہیں کیا کس ادا سے اللہ میاں سے میچ ڈال لیتے ہیں، گرو یہ آپ کا ہی حصہ ہے لیکن جناب آپ ہیں دنیا دار، ویسے اس میں کوئی حرج نہیں ہے آپ لاکھ فقیری دعویٰ کریں آپ کو یہ دعویٰ سجتا ضرور ہے لیکن دنیاداری آپ کو نبھانی آتی تھی صرف ایک بار چوک ہوئی جب کالے خان نے آپ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا حالانکہ ہم تو یہ کام پولیس کے تھانے میں کرتے رہے ہیں میں نے کئی بار پولیس افسر کے ساتھ تھانے میں شراب پی ہے جو ا تو معمولی بات ہے ویسے آپ خط بھی بے مقصد نہیں لکھتے تھے سوائے ان خطوط کے جو غدر کے ہنگامے کے بعد تنہائی بہلانے کے لئے لکھے ۔ایک خط میں آپ نے لکھا کہ میرے گھر میں سترہ بوتلیں شراب کی رکھی ہیں ،روٹی میسر ہے اس لئے میں دن رات فکرومستی میں رہتا ہوں میں نے آپ پر رشک کیا کہ میرے گھر میں کبھی اکٹھی سترہ بوتلیں جمع نہیں ہوئیں پھر ایک اور خط میں آپ نے لکھا ہے کہ پینے کو قطرہ شراب نہیں بس روٹی پر گزارا ہے ۔روٹی میسر ہے مجھے یہ ذرا حسن طلب لگتا ہے ، جس کو آپ نے لکھا ہو گا وہ آپ کے حضور کرفیو توڑ کر ضرور شراب لایا ہو گا نہیں لایا ہو گا تو مردود ٹھہرا ہو گا‘‘۔

پنڈت نہرو سے ملاقات

پنڈت جی آپ کیوں مجھے ملنے آئے ہیں میں جانتا ہوں مگر ایک بات کا اعتراف مجھے کرنا ہے آپ نے ہندوستان کو آزادی ملتے ہی ادب اور فنون لطیفہ میں خود مختار کرنے کا جو کام کیا وہ دنیا دیکھ رہی ہے آپ نہ بولیں میں بتاتا ہوں آپ نے قلم کے میڈیم کو بچانے کے لئے کئی ادارے بنائے جو بیوروکریسی سے آزاد تھے۔ ایسے ہی ادب، رقص، موسیقی اور تھیٹر کے ساتھ مختلف زبانوں کی ترقی کے ادارے بھی خود مختار اور مالی طور پر آزاد بنا دیئے تاکہ سرکار کا عمل دخل نہ ہو اور آپ کے وہ سب ادارے پھل پھول گئے ہم نے بھی ادارے بنائے اور انہیں تیسرے درجے کی بیورو کریسی کی گود میں بٹھا دیا وہ ڈائن اپنے ہی بچے کھا گئی۔آپ کے سیکولر انڈیا کو جو نقصان مودی پہنچا رہا ہے اس سے مسلمانوں کو برما کے مسلمانوں، روہنگیا کی طرح سرحد سے باہر پاکستان میں نقل مکانی پر مجبور کرنے کا اسکرپٹ وہ بنا چکا ہے لیکن اس سکرپٹ پر عمل سے پہلے ہی آپ کے انڈیا میں جو کچھ ہو گا اس کا کارپوریٹ سیکٹر کو علم ہی نہیں ہے پوری دنیا سے کارپوریٹ سیکٹر جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ گلوبلائزیشن کا عفریت ایک جرثومے سے خوفزدہ ہو کر پوری دنیا کی مارکیٹوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے کے لئے بند کر دے گا نہ کوئی برانڈ باقی بچے گا نہ کوئی مارکیٹ۔ ایک نیا ورلڈ آرڈر بنے گا جس میں مودی اور ٹرمپ کی گنجائش نہیں ہو گی۔