اعتماد سے آنا قبول ہے تو جانا کیوں نہیں؟

پہلی بار ریاستِ مدینہ میں ہی یہ بتایا گیا تھا کہ ’بولو کہ پہچانے جاؤ‘۔ یہ قولِ علی بھی وہیں سنا گیا تھا کہ ’آدمی زبان تلے پوشیدہ ہے‘۔ یا ’خاموشی عالم کا زیور اور جاہل کا پردہ ہے۔‘

اور پھر بیسیوں نصیحتیں ہمارے مشرقی ڈی این اے کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ مثلاً ’پہلے تولو پھر بولو‘، ’زبان/منھ سے نکلی کوٹھوں چڑھی‘، ’کمان سے نکلا تیر اور منھ سے نکلی بات واپس نہیں آتے‘ وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح غصے کا بھی بیان ہے۔ یعنی غصہ انسان کو ایسے بھسم کرتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو۔ غصے کا اختتام ہمیشہ ندامت پر ہوتا ہے۔

غصے کے عالم میں فیصلے مت کرو۔ غصے میں انصاف ناممکن ہے۔ حالتِ طیش میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔ غصے کو بے لگام مت چھوڑو اس سے پہلے کہ غصہ تم پر سواری گانٹھ لے اور وہاں پہنچا دے جہاں سے واپسی مشکل ہو۔

یا یہ کہ طاقت سے بڑی کوئی آزمائش نہیں۔ اصل طاقت دھیمے لہجے میں مختصر بات ہے۔ طاقت عاقل کے ہاتھ میں نشتر اور چچھورے کے ہاتھ میں خنجر۔

قوتِ فیصلہ اور قوتِ نافذہ ثابت کرنے کے لیے چیخنے کی ضرورت نہیں۔

کبر بس خدا کو زیب دیتا ہے۔ زمین پر اکڑ کے مت چلو۔ تم دھرتی سے ہو دھرتی تم سے نہیں۔ قبرستان ناگزیر شخصیات سے اٹے پڑے ہیں۔ جتنی بلندی چھو لو اترنا تو زمین کے پیٹ میں ہی ہے۔ شعلے کا انجام راکھ ہے۔

ایک بات ہم سب جتنی جلد سمجھ جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ جمہوریت کا پودا بے صبری کے کھیت میں جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ کیا تم آم کا پودا بھی لگانے کے بعد ہر صبح اکھاڑ کے دیکھتے ہو کہ جڑ پکڑی یا نہیں۔

جمہوریت تو اس نخریلے پھول کی طرح ہے جسے ہر آن توجہ اور دیکھ بھال چاہیے۔ غفلت ہوئی نہیں اور پھول مرجھایا نہیں۔

تم باعزت عوامی اعتماد کے ذریعے منتخب ہونا زیادہ پسند کرو گے یا کسی کی کٹھ پتلی بن کر سنگھاسن پر براجمان ہونا پسند کرو گے۔ تم ووٹ کے ذریعے ہار کے پھر سے جیتنا پسند کرو گے یا کسی طالع آزما کے ہاتھوں ڈنڈہ ڈولی ہو کر ہیلی کاپٹر میں ٹھنس کر دور دراز ریسٹ ہاؤس کے صحن میں اترنا پسند کرو گے۔

ووٹ کے بل پر آنا قبول ہے تو ووٹ کے راستے جانا کیوں قبول نہیں۔

(اضافی نوٹ) ہم جب گلی میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ تو اس بچے کو دوبارہ نہیں کھلاتے تھے جو اپنی باری لینے کے بعد وکٹیں اٹھا کے بھاگ جائے۔

یا آخری گیند جان بوجھ کر کسی ایسی چھت پر اچھال دے جہاں کوئی کھڑوس بڈھا گیند ضبط کرنے کے لیے تیار بیٹھا رہتا ہو۔

error: