افغانستان امریکہ کے انخلا کے بعد

جوبائیڈن کو امریکی صدر کا عہدہ سنبھالے چار مہینے گزر چکے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم کو مگر اس نے ابھی تک خیرسگالی والا فون کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ عمران خان صاحب کی بابت بائیڈن کی بے اعتنائی ہرگز یہ پیغام نہیں دے رہی کہ واشنگٹن کی نگاہ میں پاکستان اہم نہیں رہا۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو ’’منظم اور باوقار‘‘ دکھانے کے لئے ہمارا کردار بلکہ کلیدی تصور کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کو اس امر پر بھی رضا مند کرنا ہے کہ وہ افغانستان کے دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ’’’عبوری حکومت‘‘ کی راہ تلاش کریں۔ اس حکومت کی نگرانی میں کسی نہ کسی نوع کے ’’انتخابات‘‘ ہوں۔ان کے نتائج سیاسی فریقین کو اپنے جثے کے مطابق اقتدار میں حصہ کو یقینی بنائیں۔طالبان مگر اس بندوبست کے لئے آمادہ نہیں ہورہے۔ ان کی خواہش فقط اتنی ہے کہ غیر ملکی افواج جلد از جلد افغانستان سے نکل جائیں۔ان کی رخصت ’’امارات اسلامی‘‘ کی بحالی کو ازخود یقینی بنادے گی۔افغانستان کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلے بحال ہوئی’’اماراتِ اسلامی‘‘ ہی کرے گی۔

پروٹوکول کے تقاضوں کولہٰذا یکسر بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی وزرائے خارجہ اور دفاع پاکستان کے آرمی چیف سے براہ راست رابطوں میں مصروف ہیں۔ درخواست ہورہی ہے کہ طالبان کے مؤقف میں نرمی لانے کے لئے وہ اپنا اثرورسوخ بروئے کار لائیں۔امریکی وزراء کی جانب سے آئے فون درحقیقت Do Moreوالے تقاضے ہی کی ایک صورت ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کے حتمی فیصلہ ساز شمار ہوتے افراد سے گفتگو ہورہی ہے۔

ستمبر2021تک افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ہوئے فیصلے کو وہاں کی عسکری قیادت نے خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔کئی مؤثر امریکی اخبارات کے بااثر رپورٹر بلکہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پالیسی سازی کے لئے ہوئے اجلاسوں میں عسکری اداروں کے نمائندے بھرائی آواز میں فریاد کررہے ہیں کہ امریکی افواج کے کامل انخلاء کے چند ہی ماہ بعد طالبان ایک بار پھر افغانستان میں برسراقتدار آجائیں گے۔’’امارات اسلامی‘‘ کی بحالی اس ملک میں میڈیا کو ’’آزاد‘‘ نہیں رہنے دے گی۔ عورتوں کے حقوق کا بھی احترام نہیں ہوگا۔

ان موضوعات کے بارے میں ہوا واویلا مجھ جیسے جھکی صحافیوں کو منافقانہ محسوس ہوتا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکی فوج دُنیا کو یہ باور نہیں کروانا چاہ رہی کہ افغانستان میں 20برس تک موجود رہنے کے باوجود وہ اس ملک میں اپنے اہداف کے حصول میں شرمناک حد تک ناکام رہی۔ جدید ترین اسلحے کا استعمال اور کھربوں ڈالر بھی اس ضمن میں کام نہیں آئے۔ تین ہزار کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ان میں سے ہزاروں عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے ہیں۔ 

بائیڈن انتظامیہ مگر عسکری قیادت کو یہ کہتے ہوئے تسلی دے رہی ہے کہ اس کی حکمت عملی کی بدولت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء اس ذلت آمیز انداز میں نہیں ہوگاجس کا مظاہرہ 1970کی دہائی میں ویت نام میں ہوا تھا۔امریکی افواج افغانستان سے شکست خوردہ ہوکر ’’بھاگتی ‘‘ نظر نہیں آئیں گی۔

امریکہ کے دفاعی اداروں کے پاس اس دلیل کا معقول جواب موجود نہیں۔بائیڈن انتظامیہ کی توجہ لہٰذا اس خدشے کی جانب مبذول کروائی جارہی ہے کہ ’’امارات اسلامی‘‘ کی ممکنہ بحالی کے بعد القاعدہ افغانستان میں دوبارہ سرگرم ہوجائے گی۔القاعدہ ’’داعش‘‘ کی شکل میں بھی کئی اسلامی ممالک میں نمودار ہورہی ہے۔امریکی افواج کے انخلاء کے بعد اسے افغانستان میں بھی محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔ امریکہ کی لہٰذا کوشش ہونا چاہیے کہ افغانستان کے قریب ترین ممالک مثلاََ تاجکستان میں ایسے اڈ ے بنائے جائیں جہاں امریکی افواج کی مناسب تعداد ہمہ وقت موجو ہو۔ جدید آلات کی مدد سے وہ افغانستان پر کڑی نگاہ رکھے۔ تیزی سے منظم ہونے والی ’’داعش‘‘ کو اس اڈے سے بروقت ڈرون بھیج کر سنبھالا جائے۔ ’’ہنگامی صورتحال‘‘ سے نبردآزما ہونے کے لئے امریکی افواج کے انتہائی تربیت یافتہ دستے افغانستان میں کمانڈوآپریشن کرنے کو بھی تیار رہیں۔ بائیڈن انتظامیہ سنجیدگی سے اپنی عسکری قیادت کے ایسے مطالبات پر غور کررہی ہے۔

ہم پاکستانیوں کے لئے فکرمندی کا حقیقی سبب تاہم Do Moreکے وہ تقاضے ہونا چاہیے جو طالبان کو اپنے مؤقف میں نرمی دکھانے کے ضمن میں ہورہے ہیں۔زمینی حقائق کا پرخلوص انداز میں جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کی اس ضمن میں Limitationیا محدودات کا ادراک نہیں ہورہا۔ 

افغانستان میں خلفشار کی کہانی کا آغاز 1978میں نام نہاد ’’انقلابِ ثور‘‘سے ہوا تھا۔بائیں بازو کے کئی دانشوروں نے اسے ’’فوجی جمہوری انقلاب‘‘ پکارا۔’’انقلابیوں‘‘ نے تاہم افغانستان جیسے قدامت پرست ملک کو احمقانہ انداز میں انتہائی تیزی سے بدلنا چاہا۔ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ دھڑو ں میں تقسیم ہوکر ’’انقلابی‘‘ ایک دوسرے کی جان کے درپے بھی ہوگئے۔ان کے مابین موجود نفرت بالآخر دسمبر1979میں سوویت افواج کی افغانستان میں آمد کا سبب ہوئی۔امریکہ نے اس کے بعد افغانستان کو کمیونسٹ روس کا ’’ویت نام‘‘ بنانے کا تہیہ کرلیا۔ اس ہدف کے حصول کے لئے ’’مجاہدین‘‘ نمودار ہوئے۔ان کی جانب سے برپا جنگ نے بالآخر سوویت یونین کے انہدام کو یقینی بنادیا۔ برلن میں مغربی اور مشرقی جرمنی کو تقسیم کرتی دیوار بھی باقی نہ رہی۔سوویت یونین کا متعارف کردہ کمیونزم ’’آزاد‘‘ دُنیا کے ہاتھوں شکست کھاگیا۔ افغانستان کو مگر امن واستحکام نصیب نہیں ہوا۔

اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے افغانستان کو چالیس سے زیادہ برس گزرچکے ہیں۔ اس طویل عرصے میں بے روزگار نوجوانوں کی بے پناہ اکثریت کو مزاحمت یا جنگ کے علاوہ رزق کمانے کا کوئی اور طریقہ ہی نہیں آتا۔ ان کی کثیر تعداد یقینا طالبان کی حامی ہے۔’’میدان جنگ‘‘ میں متحرک نوجوان لیکن اپنی قیادت کے ہر فیصلے کو غلاموں کی طرح سرجھکا کر تسلیم کرنے کے عادی نہیں۔ پاکستان طالبان قیادت کو ہر نوع کا دبائو بڑھاکر اپنے مؤقف میں نرمی لانے کو قائل کر بھی دے تو افغانستان میں امن واستحکام یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔امریکہ کو بھی اس حقیقت کا بخوبی علم ہے۔اس کے پالیسی سازمگر ایسا ماحول بنانے کو مصر ہیں جو فقط پاکستان ہی کو افغانستان میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد یقینی نظر آنے والے انتشار کا حتمی ذمہ دار ثابت کرے۔مجھے ہرگز یہ خبر نہیں کے میرے ذہن میں اُبھرے خدشات کے تدارک کے لئے ہماری جانب سے کیا حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: