افغانستان: تیز بارشوں کے باعث سیلاب میں 20 افراد ہلاک

افغانستان کے کئی صوبوں میں گزشتہ 5 روز کے دوران شدید سیلاب اور طوفان سے20 افراد ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق موسلا دھار بارشیں میں ہر سال سینکڑوں افغانیوں کی جانیں لےلیتی ہیں۔

اسے واقعات خاص طور پر غریب اور دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں جہاں ہمیشہ ناقص تعمیر شدہ مکانات منہدم ہونے کا خطرہ غالب رہتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سیلاب سے متاثر ہونے والے صوبوں میں قندھار، ہلمند، ہیرات، بدخشاں، تخار، پروان، قندوز، میدان وردک، بغلان، فریاب اور جوزجان صوبے شامل ہیں۔‎

تاہم، بغلان، پروان اور بدغیز سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین صوبے ہیں۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نائب وزیر شرف الدین مسلم کا کہنا ہے کہ تازہ ترین سیلابوں نے فریاب اور پروان کے صوبوں کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

ایک ویڈیو بیان میں، شرف الدین مسلم نے کہا کہ ’10 صوبوں میں 18 سے 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں‘ اور 100 سے زائد مکانات بھی تباہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2 افراد لاپتا ہیں جبکہ 30 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیموں کو خیموں اور خوراک کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے اور حکام ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں میں نقد رقم تقسیم کر رہے ہیں۔

خیال رہے گزشتہ سال اگست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے غیر ملکی امداد سے چلنے والی معیشت کی امدادی اسکیموں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سال سیلاب ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان میں ہفتہ کو رمضان کے روزے ختم ہونے کے بعد ملک میں عید الفطر کی چھٹیاں منائی جارہی تھی۔

رمضان کے اختتامی ہفتوں کے دوران افغانستان کو کئی مہلک بم دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں بنیادی طور پر اقلیتی شیعہ اور صوفی برادریوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔