افغانستان: خواتین والی بال کھلاڑی کے قتل کے بعد دوسری کھلاڑیوں کے خدشات اور خطرات

افغانستان کی خواتین کی والی بال ٹیم کی دو سابق کھلاڑیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی ٹیم کی باقی کھلاڑی طالبان سے چھپی ہوئی ہیں اور گذشتہ ماہ ٹیم کی ایک کھلاڑی کو قتل بھی کر دیا گیا تھا۔

تقریباً 30 کھلاڑی کہتی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور ان کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح افغانستان سے فرار ہو جائیں۔

گذشتہ ماہ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ٹیم کی کچھ کھلاڑی طالبان سے بچنے کے لیے مختلف صوبوں میں منتقل ہو گئی تھیں۔

زہرہ فیاضی افغانستان سے فرار ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد برطانیہ پہنچی تھیں۔ وہ سات سال تک افغان خواتین والی بال ٹیم کے لیے کھیلنے کے بعد اس کی کوچ بن گئی تھیں۔

زہرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ٹیم کی ایک کھلاڑی قتل کی جا چکی ہیں لیکن ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہوا کہ ان کی موت کن حالات میں واقع ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ باقی لڑکیوں کے ساتھ بھی یہ دہرایا جائے۔‘

زہرہ اب بھی اپنی سابقہ ​​ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں ہے، جو جان بچانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ چھپتی پھرتی ہیں۔

’یہاں تک کہ انھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے خاندانوں کو بچانے کے لیے اپنا کھیلوں کا سامان بھی جلا دیا ہے۔ وہ نہیں چاہتیں کہ وہ کھیل سے متعلق اپنے پاس کوئی چیز رکھیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔‘

’صوبوں سے تعلق رکھنے والی ہمارے بہت سے کھلاڑیوں کو ان کے رشتہ داروں نے جو خود طالبان ہیں یا طالبان کے پیروکار ہیں، کئی مرتبہ دھمکیاں دی ہیں۔

طالبان نے ہماری کھلاڑیوں کے خاندانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو کھیلنے کی اجازت نہ دیں ورنہ انھیں غیر متوقع تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Zahra Fayazi
،تصویر کا کیپشنزہرا قومی ٹیم کے لیے سات سال تک کھیلتی رہی ہیں

صوفیہ، جو افغانستان میں اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے یہ فرضی نام استعمال کر رہی ہیں، افغان والی بال ٹیم کی ایک اہم رکن تھیں۔ لیکن دو سال قبل جب کابل میں دو افراد نے ان پر چاقوؤں سے حملہ کیا تو وہ ایک پڑوسی ملک منتقل ہو گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان نے انھیں پہلے ہی دھمکیاں دی تھیں کہ وہ والی بال کھیلنا بند کر دیں۔

صوفیہ کے اہل خانہ نے ان کے وہ سب تمغے اور کٹ تباہ کر دی تھیں جو وہ فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ نہ لے جا سکیں کیونکہ انھیں خوف تھا اگر وہ چیزیں غلط ہاتھوں میں پہنچ گئیں تو انھیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

صوفیہ اپنی ٹیم کی سابقہ ​​ساتھیوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں۔ انھوں نے بھی کہا کہ گزشتہ ماہ ایک کھلاڑی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، اگرچہ اس قتل کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔

صوفیہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ طالبان ہی تھے۔ اس وقت طالبان سارے شہروں پر قبضہ کر رہے تھے اور وہاں کوئی اور گروہ نہیں تھے جو ایسا کر سکیں۔ وہ صرف ایک کھلاڑی تھیں اور انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ لوگ ان پر حملہ کریں۔‘

’ہم سب حیران ہیں کہ یہ کیسے ہوا، ہمیں اس پر یقین نہیں آ رہا۔ شاید ہم دوسرے دوستوں کو بھی کھو دیں گے۔‘

والی بال افغانستان کے مشہور کھیلوں میں سے ایک ہے۔

خواتین کی پہلی قومی ٹیم کی بنیاد تقریباً چار دہائیاں پہلے رکھی گئی تھی لیکن جب 1996 میں طالبان کا دور آیا تو اسے تحلیل کر دیا گیا۔ طالبان نے پانچ سال تک حکومت کی۔ سنہ 2001 میں امریکی قیادت والی افواج کی طرف سے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ٹیم کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔

لیکن اگست کے وسط میں جب طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تو افغانستان کی خواتین کھلاڑیوں کی زندگیاں ایک مرتبہ پھر خطرے میں آ گئیں۔

طالبان نے ابھی تک کھیلوں اور خواتین کے بارے میں کوئی ٹھوس قانون منظور نہیں کیا ہے لیکن طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب سربراہ احمد اللہ واثق نے حال ہی میں ایس بی ایس ریڈیو پشتو کو بتایا تھا کہ خواتین کے لیے کھیل کھیلنا ضروری نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے قومی جونیئر فٹ بال ٹیم کی خواتین کھلاڑیوں نے طالبان سے ہفتوں چھپے رہنے کے بعد بالآخر پاکستان کی سرحد پار کر لی تھی۔

اس ماہ کے آغاز میں، خواتین کرکٹ ٹیم کی ممبران نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی جانوں کو خطرہ ہے اور وہ خوف کی وجہ سے روپوش ہیں۔

دریں اثنا، طالبان نے ابھی سیکنڈری سکولوں میں لڑکیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی ہے، اور صرف لڑکے اور مرد اساتذہ ہی کلاس روموں میں واپس جا سکتے ہیں۔

زہرہ اور صوفیہ نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) اور انٹرنیشنل والی بال فیڈریشن (ایف آئی وی بی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ والی بال ٹیم کی افغانستان سے نکلنے میں مدد کریں، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔

آئی او سی کے ترجمان نے کہا کہ وہ ’بہت سے مرد اور خواتین کھلاڑیوں اور افغانستان میں کھیلوں کے منتظمین کی مدد کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’واضح وجوہات کی بنا پر ہم کسی بھی انفرادی کیس پر تبصرہ نہیں کریں گے، خاص طور پر ان کے متعلق جن پر فی الحال کام ہو رہا ہے۔‘

ایف آئی وی بی کی ترجمان نے کہا: ’افغان والی بال فیملی میں سے کسی کی بھی مدد کرنے کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس میں شامل تمام افراد کی پرائیویسی اور حفاظت کا احترام کرتے ہوئے، مزید تفصیلات نہیں دی جائیں گی۔

Female Afghan prisoners play volleyball at a prison in the eastern Afghan city of Herat on July 2, 2010
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں والی بال ایک مقبول کھیل ہے

زہرہ اور صوفیہ دونوں کو امید ہے کہ وہ ایک دن اپنی ٹیم کی دیگر ساتھیوں سے والی بال کورٹ میں دوبارہ مل سکیں گی، لیکن انھیں اس کی بہت کم امید ہے کہ ایسا افغانستان میں ہو گا۔

زہرہ نے کہا کہ ’ہم ایک تاریک دور میں پھنس چکے ہیں۔‘

’مجھے افغانستان میں والی بال کا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا ہے۔ خوش قسمتی سے اگر ہم ان کی نکلنے میں مدد کریں تو افغانستان سے باہر ایک ٹیم بنانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔‘

صوفیہ نے کہا کہ ’ہم نے ایک دن میں سب کچھ کھو دیا، لیکن ہم مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ان اہداف اور امیدوں کے حصول میں ہماری مدد کرے جن کے لیے ہم نے کام کیا ہے۔ یہ ہمارا خواب ہے، ہم ہار نہیں مان سکتے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *