افغانستان سے لوگوں کے انخلا میں مدد کررہے ہیں، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان سے لوگوں کے انخلا میں مدد کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری خواہش تھی کہ افغانستان میں مختلف اقوام رہتی ہیں، کوشش تھی کہ ان سب سے اپنی مشاورت جاری رکھیں، آج ان میں سے اکثریت کے ساتھ نشست میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع ملا'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نشست بروقت تھی کیونکہ آج وزیر اعظم نے قومی سلامتی کا اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے جس میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس صورتحال میں درپیش چیلنجز پر بحث کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'تھوڑی دیر پہلے ڈنمارک کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے، کابل میں ڈنمارکت کے سفارتخانے کے عملے اور دیگر 380 افراد کے افغانستان سے انخلا کی تشویش تھی اور ان تمام کو پاکستان لایا جاچکا ہے اور جلد انہیں ڈنمارک روانہ کردیا جائے گا'۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان جلد مزید پروازیں بھیج کر وہاں سے محفوظ انخلا کا مطالبہ کرنے والے میڈیا، بین الاقوامی این جی اوز اور تنظیموں کو سہولت فراہم کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کی صورتحال سے لاتعلق نہ ہو اور مشغولیت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ اس کے علاوہ وہاں لوگوں میں افراتفری کو قابو میں لایا جائے عوام کی تشویش کو ختم کیا جائے اور امن و عامہ کے صورتحال بہتر ہو۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کوئی فوجی حل نہیں، مناسب راستہ سیاسی حل ہی ہے تاہم قومی سلامتی کے اجلاس میں وزیر اعظم کی ہدایات پر پاکستان آگے بڑھے گا۔

قبل ازیں وزارت خارجہ میں شاہ محمود قریشی نے افغان رہنماؤں کے وفد سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ضروری ہے کہ ہم مل کر افغانستان اور خطے کی بہتری کے لیے لائحہ عمل وضع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا حتمی مقصد پرامن، متحد، جمہوری، مستحکم اور خوشحال افغانستان ہے، مجھے قوی اُمید ہے کہ ہم مل کر امن اور مفاہمت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ عالمی برادری افغانستان میں امن چاہتی ہے، افغان قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ اس تاریخی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، افغانستان کے وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کی راہ ہموار کرے، ہم سمجھتے ہیں کہ جامع مذاکرات، افغان مسئلے کے پرامن سیاسی حل کا واحد راستہ ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان میں بدامنی ہو اور اندرونی انتشار سے ہمسایہ ممالک متاثر ہوں، ہمیں امن مخالف ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی جو پاکستان کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ مصالحانہ کردار کو غلط رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی حتمی منزل کے حصول میں افغان معاشرے کا ہر طبقہ یکساں اہمیت کا حامل ہے، پاکستان، افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا تعمیری اور مصالحانہ کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے۔