افغانستان: قندھار کی امام بارگاہ میں دھماکا، 7 افراد جاں بحق

افغانستان کے شہر قندھار کی ایک امام بارگاہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران بم دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے کہا کہ حکام دھماکے کے مقام سے شواہد اکھٹے کررہے ہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں بہت سے افراد کو امام بارگاہ کے فرش پر دیکھا جاسکتا ہے جو شدید زخمی ہیں۔

صوبائی کونسل کے سابق رکن نعمت اللہ وفا نے کہا کہ دھماکا امام بارگاہ میں ہوا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے، تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

طالبان کی اسپیشل فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں جبکہ لوگوں سے زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دینے کی بھی اپیل کی گئی۔

واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے مسجد پر ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے۔

قبل ازیں گزشتہ جمعے کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبے قندوز کی ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 55 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

اس دھماکے میں بھی اہلِ تشیع برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

داعش کی جانب سے افغانستان میں طالبان کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کئی حملے کیے جاچکے ہیں اور ان کے علاوہ افغانستان میں دیگر برادریوں اور مکتب فکر کے افراد کو بھی نشانہ بنا یا گیا ہے۔

اس سے قبل 3 اکتوبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسجد کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

بم دھماکا کابل کی عیدگاہ مسجد کے دروازے کے قریب ہوا تھا جہاں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کا تعزیتی اجلاس ہو رہا تھا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ طالبان نے 15اگست کو کابل کا کنٹرول سنبھالا تھا جس کے بعد سے انہیں اندرونی طور پر داعش کے خطرے کا سامنا ہے۔

تاہم حال ہی میں ایک بیان میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ امارت اسلامیہ ان کا تعاقب کررہی ہے اور ہماری افواج داعش کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ ہفتے میں ہم نے داعش سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں کو گرفتار کیا اور ان کے کئی محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ ان کے کئی حملوں کو بے اثر کر دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: