افغانستان پر سوال اور نواز شریف کا جواب:’کیا ضروری ہے کہ ہم ہر معاملے میں دخل دیں، ہمیں کیوں انھیں بتانا ہے کہ وہ کیا کریں‘

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاکستان کے عوام، سیاسی جماعتوں، صحافیوں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

پیر کو لندن میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ نے ملکی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا شروع کردی تھی اور جب تک یہ بند نہیں ہوتی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوج کی موجودہ قیادت سے ان کا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ سیاست اور حکومت کے معاملات میں مداخلت بند کی جائے، آئین کے دائرے میں سب اداروں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے، انتخابات چوری نہ کیے جائیں اور ووٹ کو عزت دی جائے۔

پچھلے کچھ عرصے سے ان کے پاکستان جانے کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں لیکن نواز شریف نے کہا کہ جب وقت آئے گا تو وہ انشااللہ واپس بھی جائیں گے۔

جب ان سے افغانستان کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کیا یہ ضروری ہے ہم (پاکستان) ہر معاملے میں دخل دیں۔

گو پاکستان کی موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہی لیکن بظاہر میاں نواز شریف اس سے متفق نظر نہیں آتے۔ ’ان کا (افغانستان کا) حق نہیں کہ وہ اپنے فیصلے کریں، ہمیں کیوں انھیں بتانا ہے کہ وہ کیا کریں؟‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ افغان صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی انڈیا سے تو خوش ہیں لیکن پاکستان سے نالاں۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے سنہ 1999 سے جو بیانیہ اپنایا ہے اس پر قائم ہیں اور اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

کارگل کی لڑائی اور ڈان لیکس کے تناظر میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے کارگل کے خلاف بھی سٹینڈ لیا اور ہم نے شدت پسندی کے بارے میں جن اقدامات کا کہا وہ انھیں اب سب کرنے پڑ رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے پر کہا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ کون عدالتوں سے فیصلے کروا رہا تھا۔ ان کے مطابق جھوٹے کیسوں میں ان کو نااہل کروایا گیا اور وہ فیصلے اب واپس ہونے چاہییں۔

میاں نواز شریف نے مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کا الزام بھی اسٹیبلشمنٹ پر لگایا اور کہا کہ مجیب الرحمان کے چھ نکات ملک دشمن نہیں تھے۔ ان کے بقول ہم نے بنگالیوں کو الگ ہونے کے لیے مجبور کیا۔

سابق وزیراعظم نے ریٹائر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ سمیت ان تمام سے رسیدیں دینے کا مطالبہ کیا جنھوں نے کروڑوں ڈالر کی جائدادیں بنائی ہیں۔

میاں نواز شریف نے اپنے دور کے بارے میں کہا کہ ملک بہت ترقی کر رہا تھا اور وہ اب جسے لے آئے ہیں اس نے ملک کی ہر شعبے میں تباہی کر دی۔۔ ’سوال یہ ہے انھیں لانے والے کس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انھیں لائے ہیں؟‘

میاں نواز شریف نے میڈیا ہر مبینہ قدغنوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ سب کی آواز بند کی جارہی ہے لیکن ’ہم سر نہیں جھکائیں گے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *