اقرار الحسن: حکومتی ترجمان شہباز گل نے یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت خود مقدمہ درج کروائے گی

پاکستان کے شہر کراچی میں پیر کی شب معروف صحافی اقرار الحسن پر مبینہ طور پر انٹیلیجنس بیورو کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے بعد ادارے کی جانب سے پانچ اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے تاہم تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

اقرار الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے انھیں یقین دلایا ہے کہ ان پر تشدد کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں دائر کیا جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر وہ خود ایف آئی آر درج کرائیں گے۔

اقرار الحسن کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی ترجمان شہباز گِل نے کروائی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں حکومت خود فریادی بنے گی۔

پیر کی شب جب یہ خبر سوشل میڈیا پر سامنے آئی تو اس کے بعد سے اقرار الحسن کی زخمی حالت میں تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی تھیں اور اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے۔

اے آر وائی نیوز چینل سے منسلک صحافی کا پروگرام اپنے سٹِنگ آپریشن کی وجہ سے مقبول ہے اور ان کے مطابق وہ اسی سلسلے میں آئی بی کے اہلکاروں پر رپورٹنگ کر رہے تھے جب ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔

اقرار الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گذشتہ کئی روز سے آئی بی کے اہلکاروں کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے تھے اور انھیں ایک بنگالی خاندان نے بتایا تھا کہ ایک سب انسپیکٹر ان سے پاسپورٹ کی تصدیق کے لیے مبینہ طور پر 60 ہزار روپے رشوت مانگ رہا ہے۔

ان کے مطابق نادرا اتھارٹی کسی مشکوک فرد کی تحقیقات آئی بی سے کراتی ہے۔

اقرار الحسن کے مطابق ’پروگرام کی فلم بندی کے دوران ان کی ٹیم نے مختلف اوقات میں 20 اور 24 ہزار روپے رشوت دی جبکہ 12 ہزار روپے آئی بی کے صدر میں واقع دفتر کے مرکزی گیٹ پر‘ دینے کا طے ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے خفیہ کیمروں سے ریکارڈنگ کی اور پیر کو شام چار بجے وہ خود بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں موجود تھے اور مبینہ طور پر جب اہلکار کی جانب سے رشوت لی گئی تو انھوں نے اس کی ریکارڈنگ کی اور گیٹ کے اندر گئے جہاں انھیں باہر نکالنے کے لیے دھکے دیے گئے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام مناظر وہاں کی سی سی ٹی وی کیمرے میں موجود ہوں گے۔

ان کے مطابق اس ریکارڈنگ کے دوران ان کے ہمراہ کیمرہ مین، اسسٹنٹ پروڈیوسر سمیت سات افراد موجود تھے۔

اقرار الحسن نے الزام عائد کیا ہے کہ ’اسی دوران ان کے ڈپٹی ڈائریکٹر آئے جنھوں نے سائیڈ پر پستول لگایا ہوا تھا‘ جن کے حکم پر انھیں اور ان کی ٹیم کو ٹارچر سیل لے جایا گیا جہاں ان پر تشدد کیا گیا اور ان کی ویڈیو بنائی گئی۔

اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے کے بعد اے آر وائی کے مالک نے رابطے کیے اور اس کے بعد انھوں نے ’ہمیں نئے کپڑے منگوا کر دیے، جوس منگوایا اور کہا کہ ’غصہ آ جاتا ہے‘۔ اس کے بعد ہم نکلے میرے سر سے جو خون نکلا وہ بالوں میں جم گیا تھا۔‘

انٹیلی جنس بیورو نے پیر کی شب ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ شب ڈائریکٹر سید محی الدین رضوان، اسٹینو ٹائپسٹ محبوب علی، اسٹینو ٹائپسٹ انعام علی، سب انسپیکٹر رجب علی اور ہیڈ کانسٹیبل خاور کو معطل کردیا ہے۔ آئی بی کے اعلامیے کے مطابق جے ڈی جی کی منظوری سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

انٹیلی جنس بیورو وفاقی وزارتِ داخلہ کے ماتحت ادارہ ہے۔ بی بی سی نے اس بارے میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا لیکن تاحال جواب نہیں ملا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی رابطے کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا۔

اے آر وائی کے ایک پروگرام میں شہباز گل نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل اقرار الحسن سے رابطے میں تھے اور اس واقعے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کالی بھیڑیں ہیں ان کو نہ صرف معطل کیا گیا ہے بلکہ ان کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔‘

اقرار الحسن کے ماضی میں بھی کئی پروگرام متنازعہ رہے ہیں، انہیں عام شہریوں کے علاوہ پولیس تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ کسی وفاقی سطح کے ادارے کے دفتر کے اندر ان کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پہلی بار پیش آیا ہے۔