اقوامِ متحدہ پر جنسی ہراس کے خلاف شکایات پر کم دھیان دینے کا الزام: ’تنظیم نیچے سے لے کر اوپر تک بدعنوانی میں ملوث ہے‘

اقوامِ متحدہ کی جنسی ہراسگی کے موضوع پر بات کرنے والی سابق ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے میں وسل بلوؤرز (غلط کاموں کی نشاندہی کرنے والوں) کے ساتھ ہونے والے سلوک کی کسی بیرونی پینل کو تحقیقات کرنی چاہیئیں۔

پورنا سین کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ میں بدعنوانی اور غلط کاموں کی نشاندہی کرنے والے افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

پورنا سین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھے اور پینل کی طرف سے کی گئی کسی بھی طرح کی تجاویز کو اپنائے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ حقیقی وِسل بلوؤرز کو تحفظ دینے اور قصور وار عملے کو سزا دینے کے لیے پرعزم ہے۔

بی بی سی کی دستاویزی فلم ’دی وسل بلوؤرز: انسائیڈ دی یو این‘ عملے کے ارکان کے بیانات پیش کرتی ہے جنھوں نے الزامات کی اطلاع دینے کی کوشش کی تھی، جن میں فراڈ اور جنسی استحصال بھی شامل تھا۔ سبھی افراد نے کہا کہ انھیں بولنے کی سزا جھیلنا پڑی تھی اور کچھ کو برطرف کر دیا گیا تھا۔

پورنا سین کو 2018 میں ہراسگی، حملوں اور امتیازی سلوک پر بات کرنے کے لیے ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ایسی خواتین بھی تھیں جنھیں ’تعلق بنانے کا کہا گیا، ان پر الزام لگایا گیا اور ان کی عصمت دری‘ کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جتنا زیادہ مردوں کو اس سے بچ جانے کی اجازت دی گئی، اتنا ہی زیادہ وہ یہ کرتے رہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ کو بتایا ہے کہ وہ ’انتہائی پریشان کن‘ شہادتوں پر حیران نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ بعض اوقات ہر تنظیم کے اندر سینیئر لوگوں کا تحفظ اس بات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ کمزوروں کو نقصان نہ پہنچے۔

’اس کا مطلب ہے کہ ایک ایسی تنظیم کے اندر ایک حقیقی تناؤ ہے جو نہ صرف انسانی حقوق کی حمایت کرتی ہے اور اس کی وکالت کرتی ہے، بلکہ درحقیقت ان میں سے زیادہ تر انسانی حقوق (کے قوانین) کی جائے پیدائش ہے۔ پھر بھی اس نے انھیں ان لوگوں تک پہنچانا نہیں سیکھا جو اس کے لیے کام کرتے ہیں۔‘

پورنا سین کہتی ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس ایک متنوع بیرونی پینل کا تقرر کریں تاکہ عملے کے تجربات پر غور کیا جا سکے اور جامع کارروائی کی سفارش کی جا سکے۔

ایک بیان میں انتونیو گوتیرس کے دفتر نے کہا کہ وہ ’کسی بھی قسم کی بدانتظامی کا مقابلہ کرنے‘ کی کوششوں کے کسی بھی بیرونی جائزے کے لیے تیار ہے۔

سفارتی استثنیٰ

اقوام متحدہ کو ایک محفوظ قانونی حیثیت حاصل ہے اور سینیئر عملے کو تمام قومی قوانین سے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔

یہ تنظیم کو اس لیے دیا گیا ہے کہ بغیر کسی مداخلت کے اپنا کام جاری رکھ سکے۔ لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ عملے کے ذاتی فائدے کے لیے نہیں دیا گیا، اس لیے جنسی زیادتی جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو یہ تحفظ نہیں دیتا۔

UN headquarters in New York, 2021
،تصویر کا کیپشننیو یارک میں اقوامِ متحدہ کا صدر دفتر

عملے کی تمام شکایات اندرونی طور پر حل کی جاتی ہیں۔ آفس آف انٹرنل اوور سائیٹ سروسز (او آئی او ایس) انتہائی سنگین الزامات کو دیکھتا ہے، جن میں جرائم کے دعوے بھی شامل ہیں، لیکن اس کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔

بی بی سی کو دی جانے والی ایک خفیہ ریکارڈنگ سے پتا چلتا ہے کہ او آئی او ایس ہمیشہ موثر طور پر کام نہیں کرتا۔ اس میں تحقیقاتی ڈویژن کے ڈائریکٹر بین سوانسن کو عملے کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے عملے کی ایک سینیئر خاتون ان کے پاس آئی تھی، جنھوں نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ کس طرح ایک اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل نے اپنا ہاتھ ان کی پتلون میں ڈالا تھا۔

اقوام متحدہ کے کئی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل ہیں۔

ریکارڈنگ میں سوانسن کہتے ہیں کہ انھوں نے سیکریٹری جنرل اور دیگر سینیئر حکام کو جنسی زیادتی کے الزام کے بارے میں بتایا تھا، لیکن انھیں فوری طور پر خاموش کرا دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اپنے اوپر مبینہ حملے کی اطلاع دینے کی وجہ سے اس خاتون کی حوصلہ شکنی کی گئی اور کہا گیا کہ اس پر بات کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ زیر بحث آدمی ایک ’پسندیدہ بیٹا‘ ہے۔

Peter Gallo
،تصویر کا کیپشن" پیٹر گالو: ’میں سمجھتا ہوں کہ تنظیم نیچے سے لے کر اوپر تک کرپشن میں ملوث ہے‘

پیٹر گالو وہ وسل بلوؤر ہیں جنھوں نے آڈیو ریکارڈنگ شیئر کی تھی۔ انھوں نے دستاویزی فلم میں بتایا ’میں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک تفتیش کار کے طور پر چار سال گزارے ہیں۔ اور اس تجربے کے نتیجے میں، مجھے یقین ہے کہ یہ تنظیم نیچے سے لے کر اوپر تک بدعنوانی میں ملوث ہے۔‘

پورنا سین کہتی ہیں کہ ان کا بیان سننے کے بعد ’سیکرٹری جنرل یہ کیوں نہیں کہہ رہے کہ یہ اشتعال انگیز ہے، ہمیں اس کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟ میری زیرو ٹالرنس پالیسی کا مطلب ہے کہ ہمیں عمل کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے ہمیں نہ کا درس ملتا ہے، نہیں ہم وہاں نہیں جا رہے۔‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ ’عملے کے کسی بھی، جونیئر یا سینیئر، رکن کو جو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث پایا گیا، سزا دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایڈ کی سابق سینیئر مشیر مارٹینا بوسٹروم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھی کام کے دوران جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں پیر سے لے کر جمعہ تک جنسی زیادتی، استحصال اور ہراسانی ہوتی ہے۔ یہ کام کے باقاعدہ اوقات کے دوران ہوتی ہے، یہ ہر جگہ ہوتی ہے۔‘

Martina Brostrom
،تصویر کا کیپشنمارٹینا بوسٹروم: ’میں اس کی منتیں کرتی رہی کہ رک جاؤ، مجھے جانے دو۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں ایو این ایڈز کے ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل لویز لوریز نے نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ 2015 میں بینکاک میں ایک دفتری دورے کے دوران لوریز نے زبردستی ان کا بوسہ لیا اور لفٹ میں انھیں چھوا۔ اس کے بعد وہ انھوں نے کوشش کی وہ لوریز کو گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لے جائیں۔

’میں نے ان سے التجا کی کہ وہ رک جائیں، مجھے جانے دیں۔ میں نے لفٹ کے دروازے کو پکڑ کر وہاں ڈٹ کے کھڑی رہی تاکہ وہاں رہوں کیونکہ مجھے لمبی راہداری نظر آ رہی تھی۔ میرا دماغ واضح طور پر بہت، بہت، تیزی سے کام کر رہا تھا اور اس بات سے ڈر رہا تھا کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔‘

مارٹینا نے باقاعدہ شکایت درج کرائی اور اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور یو این ایڈز نے ’انتہائی گھٹیا اور تکلیف دہ طریقوں سے ردِ عمل دکھایا۔‘

’یہ بہت تکلیف دہ ہے جیسے ایک مرتبہ پھر زیادتی کی گئی ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کو سانس لینے کا موقع ہی نہیں دینا چاہتے۔‘

سنہ 2018 میں لوئز لوریز اقوامِ متحدہ سے ریٹائر ہو گئے اور ’ان کی 22 سال کی خدمات‘ کو سراہا گیا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے کبھی کسی کو ہراساں نہیں کیا اور نہ ہی کسی پر حملہ کیا۔ جو الزامات لگائے گئے وہ بے بنیاد تھے۔‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے ’ڈاکٹر لورز کے خلاف ہراساں کرنے کے الزامات کی چھان بین کی گئی ہے، لیکن اس وقت وہ ان دعوؤں کی سچائی پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔‘

اگست 2021 میں مارٹینا کو اقوام متحدہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں قبول کیا گیا تھا کہ انھیں ’طویل عرصے کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا گیا’ لیکن، 2015 میں ان پر جنسی زیادتی کے الزام کے حوالے سے، انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’آپ کے ساتھ کچھ تکلیف دہ ہوا جو آپ کے بیان سے مطابقت رکھتا ہے، لیکن (تفتیش کے) نتائج ’ثبوت کے معیار پر پورا نہیں اترے۔‘

زیرو ٹالرینس

پورنا سین کہتی ہیں کہ مارٹینا کا معاملہ اقوام متحدہ میں ایک وسیع تر مسئلے کی علامت ہے۔

انھوں نے دستاویزی فلم میں بتایا کہ ’حیران کن‘ طور پر اقوام متحدہ کا ایک تہائی عملہ کہتا ہے کہ انھیں کام کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔

’اگر مجھ پر حملہ کیا جاتا یا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا، تو میں شاید اس کی اطلاع نہ دیتی۔ میں خود کو اس عمل سے نہیں گزارتی۔‘

Antonio Guterres
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنسی ہراسانی کی لعنت سے لڑنے کے خلاف، جس سے کوئی بھی ادارہ محفوظ نہیں ہے۔‘

اس میں کہا گیا ہے کہ اس کے لیے کیے گئے اقدامات میں خواتین تفتیش کاروں کو الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے رکھنا، بدانتظامی کی اطلاع دینے کے لیے عملے کے لیے ہاٹ لائن اور سینیئر مینجمنٹ کی بہتر تربیت شامل ہے۔

لیکن بی بی سی نیوز نائٹ سے بات کرتے ہوئے پورنا سین نے کہا کہ دستاویزی فلم میں لوگوں کی باتوں سے پتا چلتا ہے کہ اقوام متحدہ نے زیرو ٹالرینس کے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور اسے آگے جانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

’چاہے یہ کرپشن ہو، فراڈ ہو یا جنسی ہراس ہو، (اقوام متحدہ کا عملہ) محسوس کرتا ہے کہ وہ اتنا آگے بھی نہیں جا سکا کہ رپورٹ بنا سکے اور شکایات کو ابتدائی طور پر بہت جلد ہی خارج کر دیا جاتا ہے۔ انھیں متبادل طریقہ کار اور اپیلوں تک رسائی نہیں دی گئی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یقیناً اقوام متحدہ نے پہلے کی کچھ بڑی ناکامیوں کا ازالہ کیا ہے، لیکن یہ کافی حد تک آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ میں نے ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو بہت پریشان کن ہیں، جنھیں فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے، صرف الفاظ میں نہیں بلکہ اعمال کے ذریعے۔‘