الارم بج اٹھا

کراچی پولیس نے الارم بجا دیا؛ تاہم اگر آپ کا گمان ہے کہ کوئی منصب دار اپنے منصب سے رضا کارانہ طور پر الگ ہو جائے گا تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ یہ روایت جمہوری ریاستوں میں ہوتی ہے۔
سندھ پولیس کا ردِعمل ایک منفرد واقعہ ہے اور نہ یہ سب کچھ اچانک ہوا ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے، اسے اگرکسی نفسیاتی معالج کی نہیں تو سیاسیات کے کسی استاد کی بہرحال ضرورت ہے۔ یہ واقعہ اس بیانیے کی شرح ہے جو نوازشریف نے پیش کیا اور مولانا فضل الرحمن جس کی طرف متوجہ کرتے آئے ہیں۔ مولانا کوبھی مجبوراً ہر بات شکار پور کی پریس کانفرنس میں کھولنا پڑی۔ بے حجابی کے اس موسم میں مجھے ان پر حیرت ہے جواب بھی اس بیانیے سے اختلاف کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو اس موقع پر جس شان کے ساتھ سامنے آئے، وہ ان کے اور جمہوریت کے مستقبل کے لیے نیک شگون ہے۔ انہوں نے کسی تذبذب اور ابہام کے بغیر واقعات بیان کر دیے اور اس نظام کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ دی۔ جہاں رات دو بجے آئی جی کے گھر کا گھیراؤ ہو اور پولیس کو ادارہ جاتی سطح پر ردِعمل دینا پڑے، وہاں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ نظام موجود ہے تو اسے لازماً کسی نفسیاتی معالج کے پاس جانا چاہیے۔
اس نظام میں کہنے کو ایک وزیراعظم بھی پایا جاتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں وہ حکومت کا سربراہ ہے۔ اتنا بڑا واقعہ ہوگیا مگر تادمِ تحریر کہیں ان کی موجودگی کا سراغ نہیں ملا۔ محض تخت نشینی کا نام حکومت ہوتا تو انگریز نہیں، بہادر شاہ ظفر ہندوستان کاحکمران ہوتا۔ مغل خاندان کے چشم وچراغ خلعتِ شاہی زیب تن کیے، اس گمان میں گلیوں کی دھول بن گئے کہ وہ حکمران ہیں۔
یہ المناک داستانیں تاریخ ہی نہیں، ہمارے ادب کا بھی موضوع ہیں۔ نورالہدیٰ شاہ کا ایک ٹی وی ڈرامہ ''اب مرا انتظار کر…‘‘ ، میں کبھی نہیں بھولتا‘ جس میں اس المیے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دیکھنے والا خود کہانی کا ایک کردار بن جاتاہے۔ ڈرامے کا مرکزی کردار، ایک حواس باختہ مغل شہزادہ، بہادر شاہ، پیوند زدہ شاہی لباس پہنے، گلیوں میں پھرتا، کشکول میں کنکر جمع کرتا اور خود کلامی کرتا رہتا ہے ''…باقی سب فانی ہے‘‘۔ بچے اس کا مذاق اڑاتے اور اور اس کے گرد جمع ہو کر کورس میں پکارتے ہیں ''باقی سب فانی ہے‘‘۔
اقتدار سے محرومی نے مغل بچوں کو حواس سے بھی محروم کر دیا۔ یہ کم ازکم اس بات کی نشانی تو ہے کہ احساسِ زیاں موجود تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اقتدار قوتِ نافذہ کا نام ہے، پروٹوکول کا نہیں۔ اگر کوئی اختیار سے محروم ہے اور اسے اس محرومی کا احساس بھی نہیں۔ وہ بادشاہوں کی طرح کا لباس پہن کر یہ خیال کرتا ہے کہ وہ بادشاہ ہے تو پھر اس کا حال مغل شہزادوں سے بھی بدتر ہے۔
یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں کہ وزیراعظم صاحب کو عام آدمی کی طرح واقعہ رونما ہوجانے کے بعد، اس کی خبر ملی۔ کم وبیش سوا سال پہلے، 26 جولائی 2018ء کو عرفان صدیقی کو چند باوردی اور بے وردی افراد نے رات ساڑھے گیارہ بجے گھر سے اٹھا لیا تھا۔ بعد میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے بتایا کہ انہیں تو اس کی کچھ خبر نہ تھی۔ چند روز پہلے وزیراعظم آزاد کشمیر‘ تین ریٹائرڈ جنرل حضرات اور کم و بیش تین درجن دیگر افرادکے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہو گیا تو اطلاع دی گئی کہ وزیراعظم کو اس اہم واقعے کا کوئی علم نہ تھا۔ یہ اس شخصیت کے اقتدار کی حقیقت ہے جو حکومتِ وقت کی سربراہ ہے۔
اگر اس اقتدار کا کوئی بھرم باقی تھا تو وزرا کے تبصروں نے اسے بھی ختم کر دیا۔ انہوں نے بتا دیا کہ وہ بھی اپنے لیڈر کی طرح اس زعم میں مبتلا ہیں کہ حکومت ان کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنے وزیر اتنی باتیں۔ کوئی چاہے کہ ان کے بیانات سے کوئی ایک موقف مرتب کر سکے تو ہمیشہ بھٹکتا رہے۔ یہ لوگ اس بندوبست کو حکومت کہتے ہیں۔ اس پہ یہ خوش گمانی کہ ''میں چھوڑوں گا نہیں‘‘۔
کراچی کا واقعہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں۔ بعض واقعات اور کردار خودناطق ہوتے ہیں، خاموش فلموں کی طرح۔ آئی جی کو گھر سے اٹھانے، مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنے، کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے اور پھر پولیس افسران کے استعفے تک، اس کا ایک ایک ایکٹ بول رہا ہے۔ اس واقعہ کو کسی ترجمان کی ضرورت نہیں۔ عاقلوں کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ یہ تو اشارے سے بہت آگے کا معاملہ ہے۔
کراچی کے واقعے نے چند متعین سوالات اٹھا دیے ہیں:
1۔ اس واقعہ سے کس کی عزت بڑھی ‘ کس کا وقار مجروح ہوا؟
2۔ نوازشریف کے بیانیے کو اس واقعہ سے تقویت ملی یا ضعف پہنچا؟
3۔ اس سیاسی بندوبست کیساتھ ریاست کتنا عرصہ چلائی جا سکتی ہے؟
4۔ سیاسیات میں 'بنانا ریپبلک‘ سے کیا مراد لی جاتی ہے؟ ہمارے حکمران طبقے کو اس کے بارے میں کیا علم ہے؟
5۔ آج ہمارے اہلِ دانش اور میڈیا کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا وہ قوم کی رہنمائی کررہے ہیں؟
کراچی کے واقعے کی صدائے بازگشت تادیر سنی جاتی رہے گی۔ میراسیاسی شعور یہ کہتا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ نوازشریف کے ماضی میں کھونے اور انکی کرپشن کے مبینہ واقعات کو مسلمات سمجھنے والے لوگ صورتحال کی سنگینی کا ادراک نہیں کررہے۔ ملک کا اوّلین مسئلہ نہ پہلے کرپشن تھا نہ آج کرپشن ہے۔ لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ یہ کرپشن مسئلہ نہیں، ایک سیاسی بیانیہ ہے جس سے ایک گروہ کے سیاسی مفادات وابستہ ہیں۔
کرپشن بہت سے جرائم کی طرح ایک جرم ہے‘ جس سے ملکی قوانین کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔ اسے سیاسی بیانیہ بنانا، پاپولسٹ (populist) سیاست کا ایک تقاضا تھا۔ گزشتہ دو سالوں میں یہ بات ثابت ہو چکی۔ ہماری سیاست کی تہہ میں خطِ انتشار (Fault line) کچھ اور ہے اور نوازشریف صاحب نے اس کو اس طرح واضح کردیا ہے کہ اس بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔
کراچی کا واقعہ، اہلِ دانش کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ کر رہاہے۔ جمہوریت میں اقتدار اداروں میں منقسم ہوتا ہے لیکن ان میں توازن پیدا کرنے کیلئے ایک اتھارٹی کو مانا جاتا ہے جو پارلیمانی نظام میں وزیراعظم اور صدارتی نظام میں صدر ہوتا ہے۔ جمہوریت میں معاملات مشورے ہی سے طے ہوتے ہیں۔ طاقت کے مراکز میں اختلافِ رائے کا پیدا ہونا بھی جمہوریت میں کوئی انہونی بات نہیں۔ مسئلہ اختلاف نہیں، نظام کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ اختلاف کا فیصلہ کیسے کرتا ہے؟
نوازشریف کا بیانیہ یہ نہیں ہے کہ کسی ریاستی ادارے کی کوئی اہمیت نہیں یااس سے مشورہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیانیہ صرف یہ کہتا ہے کہ فصلِ نزاع کے لیے عوام کے نمائندے کی رائے کو فیصلہ کن مانا جائے جو پارلیمانی جمہوریت کی روح ہے۔ اس کا اظہار پارلیمان اور وزیراعظم کی صورت میں ہوتا ہے۔ جب ملک میں ہونے والے اہم ترین واقعات کا وزیراعظم کو علم ہی نہ ہو اور وہ ریاستی فیصلوں سے غیر متعلق ہو جائے تو پھر سوچنا چاہیے کہ فالٹ لائن کہاں ہے اورکیوں ہے؟
نوازشریف کا بیانیہ اس کی نشاندہی کر رہا ہے اور اصلاحِ احوال کی دعوت دے رہا ہے۔ جنہیں نوازشریف کا نام پسند نہیں، انہیں صرف اس بیانیے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ کراچی کا واقعہ بتا رہا ہے کہ تاریخ کا عمل ایک خاص سمت میں چل نکلاہے۔ اسے اب روکا نہیں جا سکتا۔ کراچی پولیس نے الارم بجا دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.