اللّٰہ کو جان دینی ہے!

انسان کسی بھی حال میں خوش نہیں ہے، گرمیوں میں سردی کو یاد کرتا ہے اور سردی میں دانت کچکچاتے ہوئے اسے گرمیوں کی یاد ستاتی ہے، ہم آپ تو ان موسموں کی شدت کی وجہ سے کبھی گرمی اور کبھی سردی کو یاد کرنے لگتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ان موسموں کے حوالے سے اپنے نئے ڈریسز کی نمائش کے لیے بے چین ہوتے ہیں، میں دوسروں کی بات کیوں کروں میرا اپنا معاملہ بھی یہی ہے، میں نے چار نئے برانڈڈ سوٹ خرید تھے مگر گرمیاں جانے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں اور یوں میں سخت بے چینی سے اپنے ان برانڈڈ سوٹوں کی نمائش کے موسم کا انتظار کر رہا تھا۔ بالآخر اللّٰہ نے میری سن لی اور موسم سرما کا آغاز ہوگیا۔ اب میں ہوں اور میرے انتہائی اعلیٰ درجے کے سوٹ ہیں، پانچ سات اسی ’’نسل‘‘ کے سوٹ پہلے بھی پڑے ہوئے تھے چنانچہ روزانہ نت نیا سوٹ پہن کر گھر سے نکلتا ہوں اور اس دوران ’’شریکوں‘‘ سے ملنے ضرور جاتا ہوں، وہ اپنے آنسو اور آہیں ’’سائیلنٹ‘‘ پر لگا دیتے ہیں۔ چنانچہ آنسو آنکھ سے باہر نہیں آ پاتے اور آہیں اندر ہی اندر دم توڑ دیتی ہیں۔

ان کے علاوہ میرے جو حقیقی دوست ہیں وہ رشک کی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہیں، میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ چند دنوں تک میں نیوائیر منانے لندن جا رہا ہوں، ان کے لیے بھی ایک ایک سوٹ لیتا آئوں گا۔ بس وہ اپنی پسند کے رنگ اور تراش خراش کے بارے میں مجھے بتلا دیں، چنانچہ اس سرما کے لیے میں نے اپنے دوستوں کی پسند کی تفصیلات نوٹ کرلی ہیں، میں انہیں بتاتا ہوں کہ برطانیہ میں کوویڈ کی صورت حال اب بھی بہترنہیں ہے، میں نے چونکہ لندن سے پہلے مانچسٹر جانا ہے ۔ لندن میں احسان شاہد اور مسقط میں قمر ریاض کے لیے سوٹ مانچسٹر سے خریدوں گاوہ ابھی اپنے لیے کوئی ونٹر ڈریس نہ خریدیں۔ قمر ریاض کو میں نے لندن آمد کی تاریخ سے آگاہ کردیا ہے، وہ ان شاء اللّٰہ ان تاریخوں میں لندن کی سیاحت کے دوران میرے ساتھ ہوں گے۔ پاکستان میں بھی اعلیٰ سے اعلیٰ برانڈ کے ڈریسز مل جاتے ہیں مگر یہاں دو نمبری بہت چلتی ہے اور میری عادت ہے کہ جب کسی کو تحفہ دیتا ہوں تو جس طرح بکرا خریدتے وقت بہت جانچ پڑتال کرتا ہوں، اسی طرح دوستوں کے لیے تحفہ خریدتے وقت بہت جانچ پڑتال سے کام لیتا ہوں! چنانچہ اب متذکرہ بیرونی دوستوں کے لیے خریداری لندن ہی سے کروں گا۔

میں ابھی یہ کالم لکھ ہی رہا تھا کہ ابرار ندیم میرے پاس آیا ایک انتہائی اعلیٰ برانڈ کا لش پش کرتا سوٹ اس کے ہاتھ میں تھا، بولا میں کل اپنے لیے ونٹر ڈریسز خرید نے کے لیے گیا تھا آپ کی خوش لباسی کی وجہ سے مجھے یہ سوٹ آپ کے شایانِ شان لگا، میری طرف سے قبول فرمائیں۔ میں نے جب حسب عادت بہت عمیق نظروں سے اس کا جائزہ لیا، وہ صحیح کہتا تھا بلکہ مجھے سچ بولنے دیں، ایک سے ایک مہنگا سوٹ الحمدللّٰہ میری وارڈ روب میں موجود ہے لیکن یہ سب پر بازی لے گیا تھا۔ ابرار نے قیمت بتائی تو وہ حیرت ناک حد تک بہت کم تھی، چنانچہ میں نے کالم درمیان ہی میں چھوڑ دیا اور ابرار سے کہا ’’مجھے بھی اس شاپ پر لے چلو، میں ملک سے باہر جا رہا ہوں، دوستوں کے لیے دو چار سوٹ میں بھی خرید لوں گا‘‘۔چنانچہ میں ابرار کی گاڑی میں بیٹھ گیا، اس نے حسب معمول ہزار دو ہزار سال پرانے گیتوں کی کیسٹ آن کردی۔ کچھ دور جانے کےبعد مجھے محسوس ہوا کہ گاڑی ایم ایم عالم روڈ کی طرف جانے کی بجائے ریلوے اسٹیشن والی روڈ پر جارہی ہے، کار ایک جگہ پر رکی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو لنڈا بازار ہے۔ابرار مجھے ایک دکان پر لے گیا، یہ جمشید کی دکان تھی، وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور بولا ’’سرجی! میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آج ہی نئی گانٹھ کھلی ہے، اس میں سے تین چاراعلیٰ درجے کے سوٹ نکال کر آپ کے لیے رکھ لیے تھے۔ میں آپ کو فون کرنےوالا تھا۔ ابرار صاحب کا شکریہ کہ وہ آپ کو ساتھ لے آئے۔ اس مرتبہ آپ کے لیے جو ’’دانے‘‘ میں نے چنے ہیں ، اللّٰہ کو جان دینی ہے، مجال ہے کسی کو شک بھی گزرے کہ انہیں آپ سے پہلے بڈھے انگریز پہن چکے ہیں۔ آپ اگر باہر جا رہے ہیں وہاں کے دوستوں کے لیے حسب سابق یہ سوٹ لیتے جائیں، وہ آپ کی خوش ذوقی کی داد دیں گے‘‘۔

پس نوشت: برخوردار انیق بٹ اپنا تعارف میرے بھانجے کے طور پر کراتا ہے،جو صحیح نہیں ہے، مجھ سے متعارف احباب کے لیے یہ وضاحت ضروری تھی۔

error: