الیکٹرِک ایل: اس برقی بام مچھلی کا کرنٹ 860 وولٹ کا ہے

سائنسی تحقیق کے لیے ایمازون کی برقی اِیل یا بام مچھلی کے نمونے حاصل کرنے کے دوران برازیل کے سائنسدان کارلوس ڈیوڈ ڈی سانٹا کو ندیوں اور دریاؤں میں اترتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا پڑا۔

اگرچہ وہ ہمیشہ ربڑ کے دستانے پہنے ہوتے تھے پھر بھی کچھ جھٹکے لگ ہی جاتے تھے۔

مگر اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی پانچ برس کی تحقیق کے دوران انھوں نے برقی بام مچھلی یا الیکٹرِک ایل کی دو نئی اقسام دریافت کر لیں۔ ان میں سے ایک 860 وولٹ کا کرنٹ لگانے کی طاقت رکھتی ہے جو کسی بھی جاندار میں سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

اس سے قبل کا برقی مچھلی میں کرنٹ ریکارڈ 650 وولٹ ہے۔

دفاع اور شکار

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم سمِتھسونین انسٹی ٹیوٹ کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ایک سائنسدان نے اس دریافت کے بارے میں نیچر کمیونیکیشنز میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔

پوراق مچھلی جنوبی امریکا میں رہتی ہے اور اس کی لمبائی 2.5 میٹر تک ہو سکتی۔ بجلی کا کرنٹ پیدا کرنے والی تقریباً 250 مچھلیاں ہیں جو ہلکا کرنٹ پیدا کرنے کی حامل ہیں۔ یہ کرنٹ وہ راستہ ڈھونڈنے اور آپس میں گفتگو کرنے کے لیے کام میں لاتی ہیں۔

صرف پوراق وہ مچھلی ہے جو انتہائی طاقتور کرنٹ پیدا کر سکتی ہے اور اسے وہ دفاع اور شکار کرنے کے لیے بروئے کار لاتی ہے۔ یہ بجلی اس کے جسم میں موجود تین اعضا سے پیدا ہوتی ہے۔

سانٹا اور پوراق
،تصویر کا کیپشنپوراق کو پکڑتے ہوئے کارلوس ڈیوڈ ڈی سانٹانا کو بجلی کے جھٹکے لگے

اب تک خیال تھا کہ پوراق کی ایک ہی قسم ہے جس کا نام الیکٹروفورس الیکٹرِکس ہے اور جس کا ذکر 1766 میں سویڈن کے فطرتداں کارل لِنیوس نے کیا تھا۔

مگر اب دو نئی اقسام دریافت ہو گئی ہیں۔ ان میں خارج ہونے والے کرنٹ کی طاقت اور ان کے ڈی این اے کی بنیاد پر فرق کیا جا سکتا ہے۔

سانٹانا کا کہنا ہے کہ ’250 برس بعد دو نئی انواع کی دریافت سے ایمازون میں موجود حیاتیاتی تنوع کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔‘

’اور صرف ایمازون ہی نہیں پوری دنیا میں پائی جانے والی حیاتیات گوناگونی کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ اور ان انواع کی حیاتیات کے بارے میں تو ہمار علم بالکل ہی کم ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم نے اسے تباہی سے نہ بچایا تو یہ بہت بڑا نقصان ہو گا۔‘

اس حیاتیاتی تنوع کے بارے میں تحقیق ناگزیر ہے۔ ’بہت سی ادویات جو ہم تجارتی پیمانے پر بناتے ہیں وہ ان انواع پر تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک جینیاتی خزانہ ہے۔

220 وولٹ کے ساکٹ
،تصویر کا کیپشنالیکٹروفورس وولٹائے سے نکلے والی بجلی 220 وولٹ کی گھریلو بجلی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے

ایک جھٹکا

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سانٹانا نے کہا کہ اگرچہ الیکٹروفورس وولٹائے 860 وولٹ کے برابر بجلی کا جھٹکا لگا سکتی ہے جو گھروں میں 220 وولٹ والی بجلی کا چار گنا ہے مگر یہ انسان کے لیے جان لیوا نہیں ہے کیونکہ اس میں برقی رو یا کرنٹ کا بہاؤ کم ہوتا ہے۔

اس سے انسان مر نہیں سکتا۔ اس مقابلے میں گھروں کی بجلی کی رو مستقل ہوتی ہے۔

سانٹانا کہتے ہیں کہ الیکٹروفورس وولٹائے میں ایک یا دو سیکنڈ کے بعد کرنٹ کا بہاؤ رک جاتا ہے اور اس خود کو پھر سے چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔‘ انھیں خود بھی ایک سے زیادہ مرتبہ اِیل نے برقی جھٹکا لگایا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’یقیناً تکلیف تو ہوتی ہے۔ آپ پٹھوں میں ایک طرح کی اینٹھن محسوس کرتے ہیں۔‘

بیلومونٹے ڈیم
،تصویر کا کیپشنبیلومونٹے بند کا متنازع منصوبہ دریا میں مچھلیوں پر اثرانداز ہوگا

لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ آپ دریا کے اندر ان مچھلوں کے گھیرے میں ہیں تو پھر صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

سانٹانا کہتے ہیں کہ جب ایک مچھلی کرنٹ چھوڑتی ہے تو تمام کی تمام ایسا ہی کرتی ہیں جس سے انسان کا دل کام کرنا بند کر سکتا ہے۔

’مگر میں نے نہیں سنا کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔‘

گزشتہ خیال کے برعکس، یہ نوع تنہائی پسند نہیں ہے اور 10 مچھلوں کے گروہ میں رہ سکتی ہے۔

الیکٹروفورس ورائے
،تصویر کا کیپشندوسری نئی دریافت ہونے والی نوع الیکٹروفورس ورائے ہے

الیکٹروفورس وولٹائے کا نام بجلی کی بیٹری کے موجد اور ماہر طبیعیات الیسانڈرو وولٹائے کے نام پر رکھا گیا ہے۔

نئی دریافت ہونے والی دوسری نوع، الیکٹروفورس ویرائے کو 2016 میں انتقال کر جانے والے ماہرِ حیاتیات اور سمِتھسونین محقق رچرڈ پی ویری کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان سے منسوب کیا گیا ہے۔

اگرچہ مچھلی کی ان نئی دریافت شدہ انواع کو سردست معدومیت کا کوئی خطرہ نہیں ہے تاہم ایمازن میں ماحول کی صورتحال کے پیش نظر ان کی نسل بھی مٹ جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: