امریکہ میں تبدیلی : مودی تیار مگر عمران حکومت…؟

سیاسی امور کی بابت رپورٹنگ کے متحرک برسوں کے دوران بے تحاشہ واقعات کا مشاہدہ کیا۔ ان میں سے ’’اچھے مال‘‘ کو اپنے ذہن میں غالبؔ کی طرح ’’الگ باندھ‘‘ رکھا ہے۔سوچا تھا کہ رزق کمانے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر قلم گھسیٹنے سے فرصت ملی تو ایک کتاب لکھوں گا۔ اپنی لکھی کتاب کو ان واقعات کے بیان کے ذریعے ’’مقبول‘‘ بنانے کی کوشش کروں گا۔وقت گزرنے کے ساتھ مگر یقین ہوتا جارہا ہے کہ میر ے ’’تلوں‘‘ میں تیل نہیں۔کتاب لکھے بغیر ہی اِس دُنیا سے رخصت ہوجائوں گا۔ذہن میں جمع ہوئے مشاہدات میرے ساتھ ہی دفن ہوجائیں گے۔

اتوار کی شام لاڑکانہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے حوالے سے ہوا جلسہ جاری تھا تو طویل عرصے کے بعد ریموٹ دباکر ٹی وی آن کرلیا۔ٹی وی سکرین پر مریم نواز صاحبہ کا خطاب Liveدکھایا جارہا تھا۔خوش گوار حیرت ہوئی کہ ان کے کسی فقرے کو Muteکرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔اپنے چینلوں کی ’’آزادی اور بے باکی‘‘ کے برعکس میں اس کاکریڈٹ مریم صاحبہ کو دینے کو مجبور ہوں۔حیران کن سرعت کے ساتھ انہوں نے اپنی جذباتی طبیعت پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔برجستگی کے بجائے کنایوں میں دل کی بات کہنے کا ہنر ان کی گرفت میں آگیا ہے۔

ان کی تقریر کے دوران کیمرہ اچانک آصف علی زرداری پر کٹ ہوا۔ وہ مریم نواز کے خطاب پر توجہ مرکوز کئے نظر آئے۔ان کے چہرے پر نمایاں تاثرات نے 2014کے دسمبر کی ایک انتہائی سرد رات یاد دلادی۔وہ اسلام آباد کے بلاول ہائوس میں اکیلے بیٹھے تھے۔اچانک مجھے یاد کرلیا۔میرے گھر سے ان کے ہاں پیدل چلتے ہوئے پانچ منٹ میں پہنچاجاسکتا ہے۔ہم دونوں تین گھنٹوں سے زیادہ بیٹھے رہے۔کوئی ’’تیسرا وہاں‘‘ موجود نہ تھا۔رات کا کھانا بھی وہیں بیٹھے ہوئے کھایا۔

اس طویل ملاقات کے دوران آصف صاحب نے اچانک استفسار کیا کہ مریم نواز صاحبہ سے میری ملاقات ہوئی ہے یا نہیں۔ہم دونوں کے درمیان رابطے کی کیا نوعیت ہے۔آصف صاحب میرے بے تکلف دوست بھی ہیں۔’’خبر‘‘ دینے کے معاملے میں اگرچہ بی بی کی شہادت کے بعدبہت کنجوس ہوگئے ہیں۔تنہائی میں انہیں گھیرگھار کر تاہم کچھ نہ کچھ اُگلوالیتا ہوں۔ ان سے کوئی بات چھپانا میرے لئے ممکن نہیں۔انہیں بتانے کو مجبور ہوا کہ مریم صاحبہ سے میری فقط دو سرسری ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد کبھی ٹیلی فون پر بھی گفتگو نہیں ہوئی۔ 

میرا جواب سن کر آصف صاحب کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔ ان کے چہرے کے تاثرا ت نے مگر عیاں کیا کہ ان کی دانست میں رپورٹنگ کے پیشے سے میں واقعتا ریٹائر ہوگیا ہوں۔اہم سیاسی کرداروں سے ایسی بے اعتنائی کی انہیں مجھ سے توقع نہیں تھی۔ان کے تاثرات پڑھنے کے بعد میں نے ایمانداری سے اعتراف کیا کہ عملی صحافت سے اب جی بھرگیا ہے۔’’صوفی تبسم والا‘‘ دیکھے ہیں بہت ہم نے…‘‘ والا شعر بھی سنادیا۔

آصف صاحب نے میری بات سن کر مگر مشورہ دیا کہ مجھے مریم صاحبہ سے رابطہ رکھنا چاہیے۔وہ انہیں مستقبل کی سیاست کا اہم کردار بنتا ہوا دیکھ رہے تھے اور باتوں باتوں میں انکشاف کیا کہ انہوں نے مریم نواز کا Potentialجدہ میں ہوئی اس ملاقات کے دوران دریافت کرلیا تھاجہاں وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے ابتدائی خدوخال طے کرنے نواز شریف سے مذاکرات کے لئے گئے تھے۔آصف صاحب کے مشورے پر میں نے ابھی تک عمل نہیں کیا۔مریم نواز کے ضمن میں ان کا مشاہدہ تاہم درست ثابت ہورہا ہے۔لاڑکانہ میں بی بی کی برسی کے حوالے سے ہوئی ان کی تقریر اس کا بین ثبوت ہے۔

آصف صاحب کی اس روز ہوئی مختصر تقریر بھی کلیدی اشاروں کی حامل تھی۔ عمران حکومت کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج یہ بیانیہ فروغ دینے کے لئے اسے بآسانی استعمال کرسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کو تیار نہیں۔وہ سینٹ کی مارچ 2021میں خالی ہونیوالی 52نشستوں میں سے اپنی عددی قوت کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نشستیں لینا چاہے گی۔سندھ میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کی ضد یا پیپلز پارٹی کے مخالفین کے بقول’’ہوس‘‘ بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی۔PDMان تمام وجوہات کی بناپر اپنے اہداف حاصل کئے بغیر ختم ہوتا نظر آئے گا۔

نظر بظاہر مریم نواز استعفوں کے ضمن میں پیپلز پارٹی کے تحفظات کو ’’بے اثر‘‘ بنانے کے لئے اب PDMکے جلسوں سے خطاب کے دوران عوام سے سوال کرنا شروع ہوگئی ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دئیے جائیں یا نہیں۔جذباتی ہجوم یقینا استعفوں کا مطالبہ کرتا سنائی دیتا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں مردان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم صاحبہ نے یہ سوال اٹھانا شروع کیا۔اسی سوال کو انہوں نے لاڑکانہ جاتے ہوئے سکھر میں اپنی جماعت کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بھی دہرایا۔اہم بات مگر یہ بھی ہے کہ بی بی کی برسی والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مذکورہ سوال کے ساتھ نہیں کھیلا۔غالباََ وہ اپنے ’’میزبانوں‘‘ کو ’’شرمندہ‘‘ نہیں کرنا چاہ رہی تھیں۔ ذاتی طورپر اگرچہ مجھے شبہ ہے کہ PDMیا مسلم لیگ (نون) کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ’’استعفیٰ دیا جائے یا نہیں‘‘ والا سوال بنیادی طورپر وہ اپنی ہی جماعت کے ان ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘ اراکین کو حوصلہ دینے کے لئے اٹھارہی ہیں۔جو استعفوں کے حوالے سے ابھی تک تذبذب کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

گزشتہ چند کالموں میں تواتر سے اصرار کررہا ہوں کہ عمران حکومت اور PDMکے مابین چپقلش کو T-20کی صورت نہ دیکھا جائے۔ان کے مابین جاری کش مکش کو ٹیسٹ میچوں کی ایک سریزکی صورت دیکھنا ہوگا جو بسااوقات ہار جیت کے فیصلے کے بغیر بھی ختم ہوجاتی ہے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا کی ’’صحافت‘‘ نے مگر ہمیں سیاست کو T-20والے معرکے کی صورت دیکھنے کا عادی بنا دیا ہے۔

سیاست کے بارے میں عملی رپورٹنگ میں دو سے زیادہ دہائیاں خرچ کرنے کے بعد میں نے فقط یہ سیکھا ہے کہ ہمارے ہاں ’’ووٹ کی طاقت‘‘ سے قائم ہوئی حکومتیں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے برپا ہوئی ’’تحاریک‘‘ کی بدولت فارغ نہیں ہوتیں۔حکومتوں کی فراغت کے بنیادی اسباب ہماری حکمران اشرافیہ کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات ہی فراہم کرتے ہیں۔ریاست کے دائمی ادارے بھی اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔’’مقامی‘‘ وجوہات کے علاوہ عالمی سیاست پر چھائی ریاستوں اور قوتوں کے مفادات اور ترجیحات بھی اس ضمن میں اہم ترین کردار کے حامل ہوتے ہیں۔خاص طورپر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو Regulateکرنے والے IMFاور FATFجیسے ادارے۔ PDMکا متحد رہنایا بالآخر منتشر ہوجانا عمران حکومت کے استحکام کی بابت حتمی کردار کا حامل نہیں۔اس کی بابت چسکہ فروشی سے ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر چھائے صحافی Ratingsاور Likesیقینا حاصل کرتے رہیں گے۔اقتدار سے جڑے کھیل کو Setکرنا یا اس کے حوالے سے کسی کو ناکام یا کامران کروانا ہم دو ٹکے کے رپورٹروں کے بس کی بات نہیں۔اندھی نفرت وعقیدت کے موسم میں ’’صحافت‘‘ ویسے ہی اپنی ساکھ سے محروم ہوچکی ہے۔اقتدار کے کھیل سے جڑے فریقین کے دلوں میں موجود خواہشات وتعصبات سے محض کھیلتے ہوئے آج کے ’’صحافی‘‘ اپنی ہٹی چلاتے ہیں۔

عمران حکومت کے استحکام کی بابت ڈھٹائی اور عقل کل ہونے کی رعونت دکھاتی ’’رائے‘‘ کے اظہار سے قبل ہمیں دیکھنا ہوگا کہ 20جنوری 2021کے روز حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن کی انتظامیہ جنوبی ایشیاء کے بارے میں کیا ترجیحات منظر عام پر لاتی ہے۔مودی سرکار نے ہمارے برعکس کچھ اندازے لگاتے ہوئے نئی گیم لگانا شروع کردی ہے۔گزشتہ ہفتے نریندرمودی نے سرسید احمد خان کی بنائی علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ سے خطاب کیا ہے۔ہندوانتہاپسندی کے جنونی پرچارک کا یہ خطاب غور طلب ہے۔مودی اس کے ذریعے اس تاثر کو جھٹلانے کی کوشش میں مبتلا نظر آیا کہ اس کی سرکار ’’مسلم دشمن‘‘ ہے۔یہ خطاب ہر حوالے سے جوبائیڈن اور اس کے ممکنہ پالیسی سازوں کے لئے مرتب ہوا تھا۔ہمارے میڈیا نے مگر اسے رپورٹنگ کے قابل بھی شمار نہیں کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *