امریکہ: پولیس اہلکار ڈکیتی روکنے کے بجائے اپنے موبائل پر گیم کھیلتے رہے

امریکہ کی عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ لاس اینجلس کے دو پولیس اہلکار فرار ہوتے ہوئے ڈاکوؤں کو پکڑنے کے بجائے موبائل گیم پوکیمون گو کے ایک کردار کی تلاش میں لگے رہے۔ دونوں اہلکاروں کو اسی جرم میں نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

یہ دونوں پولیس اہلکار اپنی گاڑی میں اس دکان کے قریب ہی موجود تھے جہاں ڈکیتی کی واردات ہو رہی تھی۔ ان پولیس اہلکاروں کو موقع پر پہنچنے کے لیے ریڈیو کال موصول ہوئی۔

تاہم ان کی پولیس کار میں لگے ہوئے کیمرے کی فوٹیج سے یہ معلوم ہوا کہ یہ دونوں ’پوکیمون گو‘ کھیل رہے تھے اور واردات کے موقع پر پہنچ کر مدد کرنے کے بجائے اس کھیل کے ایک کردار سنورلکس کو ڈھونڈتے رہے۔ پوکیمون گو کھیل میں سنورلکس نامی کردار بڑی مشکل سے ملتا ہے۔

دونوں پولیس اہلکاروں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ یہ گیم کھیل رہے تھے لیکن تحقیقات کے بعد دونوں کو نوکری سے برخواست کر دیا گیا۔

پوکے مون گو نامی کھیل
،تصویر کا کیپشنپوکے مون گو نامی کھیل میں جیسے ہی صحیح جگہ پر پہنچتے ہیں ایک ورچوئل کردار آپ کے موبائل فون میں ظاہر ہو جاتا ہے۔

'پوکیمون گو' کھیل ہے کیا؟

چند برس قبل ورچوئل ریئلٹی پر مبنی گیم پوکیمون گو بہت تیزی سے مقبول ہوا تھا۔

پوکیمون گو میں لوگ اپنے سمارٹ فون کے کیمرہ ایپ کی مدد سے اصل دنیا میں چھپے پوکیمون کے غیرحقیقی کردار ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جنھیں مختلف جگہوں پر چھپایا جاتا ہے۔ ان کرداروں کو دنیا بھر کے اصلی مقامات میں جا کر پکڑنا ہوتا ہے۔ صحیح مقام پر پہنچتے ہی ایک ورچوئل کردار آپ کے موبائل فون میں ظاہر ہو جاتا ہے۔

اس گیم نے زبردست مقبولیت حاصل کی تھی اور صرف امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی میں ریلیز ہونے کے باوجود یہ آئی فون کے ایپ سٹور اور اینڈروئڈ کے گوگل پلے پر سرِ فہرست آ گیا تھا۔

چند سال قبل ایسی کئی اطلاعات آئی تھیں کہ لوگ اپنے فون پر سکرین پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے چیزوں سے الجھ کر گر پڑے اور انھیں چوٹیں آئیں۔

پوکیمون کے کردار سب سے پہلے سنہ 1990 کی دہائی میں ننٹینڈو کی گیم بوائے ڈیوائس پر آئے تھے۔ پوکیمون گو کے لیے ننٹینڈو نے امریکی کمپنی نیانٹک اور پوکیمون کمپنی کے ساتھ اشتراک کیا تھا، جو ان کرداروں کے حقوق کی مالک ہے۔

جس کیس میں پولیس اہلکاروں کو سزا ملی ہے اس کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب ان پولیس اہلکاروں کی جانب سے اپنی سزا کے خلاف کی گئی اپیل کی دستاویزات گیمنگ کے مشہور نیوز لیٹر ایگزیوس کی نظر میں آ گئیں۔

ان دستاویزات کے مطابق ’ریڈیو کال کو نظر انداز کرنے کے بعد یہ پولیس اہلکار اگلے 20 منٹ تک پوکیمون گو سے متعلق بات کرتے رہے اور کھیل کے کرداروں کو پکڑنے کے لیے مختلف جگہوں پر گئے جہاں یہ کردار یعنی مختلف ورچوئل مخلوق ان کے موبائل فون پر ظاہر ہوتی رہی۔‘

پوکے مون گو

یہ واقعہ 15 اپریل سنہ 2017 میں پیش آیا جب میسیز ڈپارٹمنٹ سٹور پر ڈکیتی کی واردات ہو رہی تھی اور اس وقت پولیس اہلکار لوئس لوزانو اور ایرِک مچِل گشت پر تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس موقع پر ایک پولیس اہلکار کیپٹن ڈیون پورٹ نے بھی یہ ریڈیو کال سنی تھی۔ وہ اس ڈپارٹمنٹ سٹور اور قریب ہی گلی میں موجود پولیس کار کو دیکھ سکتے تھے۔

جب دونوں پولیس اہلکار ریڈیو کال کے بعد دکان پر نہیں گئے تو کیپٹن ڈیون پورٹ وہاں پہنچے اور قریب ہی گلی میں موجود پولیس کار کو ریورس ہو کر وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا۔

دونوں پولیس اہلکاروں نے بعد میں ان سے رابطہ کرنے اور موقع پر بلانے کی کوشش کر رہے ایک سارجنٹ کو بتایا کہ انھوں نے ریڈیو کال سنی ہی نہیں۔ لیکن ان کی کار میں لگے ہوئے کمرے کی فوٹیج سے یہ ثابت ہو گیا کہ انھوں نے ریڈیو کال سے متعلق آپس میں بات چیت کی اور اس کال کا کوئی جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

کال کا جواب دینے کے بجائے فوٹیج میں یہ سنا جا سکتا ہے کہ پانچ منٹ کے بعد وہ دونوں پوکیمون کردار سنورلکس کو پکڑنے کے بارے میں بات کر رہے تھے اور اس کے بعد وہ اپنی کار میں اس سمت میں چلے جاتے ہیں جہاں وہ سنورلکس کو پکڑ سکتے تھے۔ کھیل کے اس سارے سیشن اور گفتگو میں انھوں نے 20 منٹ لگائے۔

انھیں کامیابی سے سنورلکس کو پکڑنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھیل کے ایک دوسرے کردار ٹوجیٹک کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ اسے پکڑنا کتنا مشکل تھا۔ گفتگو کے دوران آفیسر مچِل کہتے ہیں ’وہ لوگ اب ہم سے کتنا جلیں گے۔‘

دونوں پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی پر گیم کھیلنے کے الزام سے انکار کیا تھا اور تفتیشی افسر سے کہا تھا کہ مچِل ایک کتاب سے دوسرے کھلاڑیوں کے گروپ کے بارے میں بلند آواز میں پڑھ رہے تھے اور ان کے سکور کی تعریف کر رہے تھے۔ عدالت کی دستاویزات کے مطابق دونوں اہلکاروں نے سچائی سے کام نہیں لیا۔

ڈیوٹی کی خلاف ورزی سے متعلق محکمہ جاتی بورڈ کی سماعت میں انھیں ڈکیتی کی کال پر جواب نہ دینے، جھوٹے بیانات دینے، رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہ دینے، ڈیوٹی کے دوران پوکیمون گو کھیلنے اور تفتیش کے دوران جھوٹے بیان دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

محکمہ جاتی بورڈ کے فیصلے کے بعد دونوں اہلکاروں نے عدالت میں اپیل کی تھی جہاں ان کی مشترکہ اپیل کو مسترد کر دیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.