امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی رحمان ملک کے خلاف درخواست مسترد، عدالت جانے کا فیصلہ

امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک کے خلاف ریپ کرنے کے الزامات کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد انھوں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے امریکی شہری اور بلاگر سنتھیا رچی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست جس میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک پر عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا، شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔

اسلام آباد کی سیکریٹریٹ پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی بلاگر کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں کسی قسم کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور ان میں ایسا کوئی مصدقہ مواد نہیں تھا کہ اس پر ایف آئی آر درج کی جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار محمد صہیب نے جب اسی حوالے سے سنتھیا رچی کے وکیل عمران فیروز سے بات کی گئی تو انھوں نے اس بارے میں کہا کہ پولیس نے ثبوت نہ ہونے پر ایف آئی آر اندراج نہیں کی مگر ہمارا موقف ہے کہ دنیا میں کہیں بھی یہ نہیں ہوتا کہ درخواست کنندہ سارے ثبوت لے کر آئے۔

'ہم نے پولیس کو وقت اور جگہ بتایا، پولیس کا کام ہے کہ تفتیش کرے۔ ہم نے جس شخص پر الزام لگایا اور جس جگہ کا ذکر کیا، اسے تفتیش کرنا بہت آسان ہے۔ وہ ایک حساس جگہ ہے اور وہاں پر ریکارڈ رکھے جاتے ہیں، وہاں سی سی ٹی وی فوٹیج ہوتی ہے، وہاں پر تعینات عملہ بطور گواہ مل سکتا ہے، پولیس تفتیش کیوں نہیں کر رہی اور ہم سے کیوں ثبوت مانگ رہی ہے ہیں؟'

عمران کا کہنا تھا کہ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ پولیس نے جو کرنا تھا وہ کر لیا، اب ہم عدالت جائیں گے اور وہاں درخواست جمع کرائیں گے کہ وہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حکم دے۔

ایف آئی اے میں جاری کیس کے حوالے سے عمران فیروز کا کہنا تھا کہ وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے جو کہ سنتھیا رچی کی ٹویٹس کے حوالے سے اور وہ پی پی پی کے رہنما کی جانب سے درج کرایا گیا ہے۔

سنتھیا رچی نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے افراد انھیں ہراساں کر رہے ہیں اور انھیں دھمکیاں دے رہے ہیں تاہم پولیس کے مطابق نہ کوئی فون نمبر دیا گیا نہ کسی کا نام دیا گیا ہے۔

رچی

پولیس نے سنتھیا رچی کی درخواست پر مزید یہ بھی کہا کہ رحمان ملک کے خلاف 2011 میں زنا بالجبر کے الزام کے حوالے سے سنتھیا رچی نے کسی بھی فورم پر زبانی یا تحریری شکایت درج نہیں کرائی۔

پولیس نے مزید کہا کہ اس درخواست پر 'رپٹ' درج ہوگی اور اور دریافت عمل میں لائی جائے گی جس کے بعد مزید کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔

سنتھیا رچی نے فیس بک لائیو کے دوران کیا الزامات لگائے؟

سنتھیا رچی نے جون کے پہلے ہفتے میں فیس بک لائیو اور پھر ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مبینہ طور پر اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ان کا ریپ کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ سنہ 2011 میں اس وقت پیش آیا جب وہ اہنے ویزے سے متعلق بات چیت کے لیے منسٹرز انکلیو میں وزیر داخلہ کے گھر گئی تھیں۔

’میں سمجھی تھی کہ یہ ملاقات میرے ویزے سے متعلق ہے لیکن مجھے پھول اور نشہ آور مشروب دیا گیا۔ میں چپ رہی، پی پی پی کی حکومت میں پی پی پی کے وزیر داخلہ کے خلاف میری مدد کون کرتا؟‘

سنتھیا رچی کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ اسی وقت کے آس پاس پیش آیا تھا جب ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی تھی اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سازگار نہیں تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے سنہ 2011 میں اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق امریکی سفارت خانے میں کسی کو بتایا تھا لیکن امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اتنے پیچیدہ تھے کہ انھیں ملنے والا ’ردعمل زیادہ مناسب نہیں تھا۔‘

انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام کے آغاز میں متنبہ کیا کہ جو معلومات وہ بتانے والی ہیں وہ ایسی ’حساس نوعیت‘ کی ہیں کہ صرف بالغ افراد ہی ان کی نشریات کو دیکھیں۔

رحمان ملک

سنتھیا رچی کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی روز سے جو کچھ ہو رہا ہے ’درحقیقت اس جنگ کی وجہ وہ ٹویٹ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جو جانتے ہیں کہ میرے پاس اس ملک کے بہت سارے لوگوں کے بارے میں بہت کچھ ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں انھوں نے جو کچھ ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے اس کے ان کے پاس شواہد موجود ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ انھیں جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

سنتھیا رچی نے الزام عائد کیا کہا کہ اِن دھمکی آمیز پیغامات میں سے کئی نمبر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے ہیں اور وہ بظاہر پیپلز پارٹی کے حمایتی تھے اور ساتھ ہی وہاں کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ’فوری اور بروقت ان معاملات سے نمٹ رہے ہیں۔‘

فیس بک لائیو کے بعد سنتھیا رچی نے اپنے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کے منگیتر نے ان کو یہ سب باتیں کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ سنتھیا رچی کا کہنا ہے کہ ’میری ایک شاندار آدمی سے منگنی ہوئی ہے۔ اس نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں بولوں تاکہ ہم ایک جوڑے کے طور پر آگے بڑھ سکیں۔‘

انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ اور بھی بہت کچھ ہے اور وہ قانون کے مطابق تحقیق کاروں سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔ ’اور بھی بہت کچھ ہے۔ لیکن اب مجھے آرام اور اپنے منگیتر کے ساتھ تنہائی میں کچھ دن چاہییں۔ میں تھک گئی ہوں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *