امریکی صدارتی انتخاب: اٹارنی جنرل نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا حکم دیدیا

امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے وفاقی اٹارنیز کو امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹنگ میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دھوکا دہی کے سبب صدارتی انتخاب ہارے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ٹرمپ کے قریبی ساتھی ولیم بار نے ملک بھر کے اٹارنیز کے لیے لکھے گئے مراسلے کے حوالے سے کہا کہ ان کے مراسلے کا یہ مقصد نہیں کہ محکمہ انصاف کے پاس ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے متعلق انتخاب میں دھوکے کے ثبوت موجود ہیں۔‎

تاہم ولیم بار نے اس طرح کی تحقیقات پر گزشتہ پابندیوں سے پراسیکیوٹرز کو آزاد قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ری پبلکنز کی جانب سے متعدد ریاستوں میں انتخابی دھاندلی سے متعلق دعوؤں کے بعد وہ حقائق سے متعلق تاحال ٹھوس شواہد کے منتظر ہیں۔

ولیم بار نے اپنے خط میں کہا کہ موجودہ انتخاب میں ووٹنگ کا عمل اختتام ہوچکا ہے، میں آپ کو اختیار دیتا ہوں کہ بعض معاملات میں آپ انتخاب کی سند سے قبل ووٹنگ اور ووٹ کی جابجا بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بے ضابطگیوں کے واضح اور معتبر شواہد ہیں تو انتخاب کے نتائج کو ممکنہ طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ کی دھوکا دہی کی تحقیقات عام طور پر انفرادی ریاستوں کے دائرہ اختیار میں ہوتی ہیں جو اپنے انتخابی قواعد کو قائم کرتی ہیں۔

ولیم بار نے اٹارنیز سے کہا کہ 'یہ عمل کبھی بھی سخت اور تیز نہیں ہوتا'۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر انہیں کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے جو انتخاب کے نتائج کو مسترد کر سکتی ہے تو انہیں اس کا سراخ لگانا چاہیے۔

امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے لکھا کہ اگرچہ سنگین الزامات کو بڑی احتیاط کے ساتھ نمٹایا جانا چاہیے لیکن انکشاف، قیاس آرائیوں، فرضی یا دعوؤں کو وفاقی انکوائری شروع کرنے کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخاب میں ریپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔

ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے دو روز بعد وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے ایک غیر معمولی بیان میں کہا تھا کہ ’وہ انتخاب چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

error: