امریکی کمپنی کی کووڈ ویکسین کا بچوں پرٹرائل شروع

امریکی کمپنی موڈرنا نے 6 سے 12 سال تک کے بچوں پر کووڈ 19 ویکسین کا ٹرائل شروع کردیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس ٹرائل میں 6 ہزار 750 بچوں کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

کمپنی کے سی ای او اسٹیفن بینسل نے ایک بیان میں بتایا کہ ہم ایم آر این اے 1273 کووڈ ویکسین کا ٹرائل امریکا اور کینیڈا میں صحت مند بچوں شروع کررہے ہیں۔‎

انہوں نے بتایا کہ بچوں پر ہونے والی اس تحقیق سے اس عمر کی آبادی میں کووڈ 19 ویکسین کی افادیت اور محفوظ ہونے کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بالغ افراد کے مقابلے میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد بہت کم ہے، مگر وہ اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں اور وائرس کو آگے پھیلا سکتے ہیں۔

اس سے قبل فائزر نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 5 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں پر ایک کووڈ ویکسین کی آزمائش کرے گی جبکہ آکسفورڈ/ایسٹرا زینیکا نے بھی 6 سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں ویکسین سے پیدا ہونے والے مدافعتی ردعمل کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی طرح جانسن اینڈ جانسن بھی نومولود سے لے کر 18 سال کی عمر کے بچوں پر ایک سنگل ڈوز کووڈ ویکسین کی آزمائش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ عالمی سطح پر بالغ اور معمر افراد کے لیے تو کووڈ ویکسینز کو متعارف کرایا جاچکا ہے مگر بچوں کے لیے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں۔

بچوں کی اکثریت میں کووڈ 19 کی شدت معمولی ہوتی ہے اور اموات کی شرح بھی بہت کم ہے، مگر کچھ میں سنگین پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔

رواں ہفتے موڈرنا نے ایک اور نئی کووڈ 19 ویکسین کی ابتدائی تحقیق کا آغاز بھی کیا جس کو فریزر کی بجائے عام فریج میں محفوظ کیا جاسکے گا۔

کمپنی کے مطابق اس نئی ویکسین کی تقسیم آسان ہوگی بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں، جہاں سپلائی چین کے مسائل سے ویکسین مہمات متاثر ہوتی ہیں۔

ابتدائی تحقیق میں اس نئی ویکسین ایم آر این اے 1283 کے محفوظ ہونے اور افادیت کا تجزیہ کیا جائے گا