امید ٹوٹنے نہ پائے

ہم جیسے لوگ جنہیں والدین اور اساتذہ نے غریب، بیمار، بچے اور بزرگوں سے پیار کرنا سکھایا ہو، جانوروں اور پودوں کو بچا بچا کر رکھنے اور ہر اس شخص سے ہمدردی کا سبق دیا ہو جو مظلوم ہے؛ ذرا سوچئے ہماری زندگی کیسی ہوتی ہوگی۔ ہر چوراہے پر، ہر گلی میں، ہر موڑ پر اور ہر راستے پر ہم ڈر جاتے ہیں، دکھی ہو جاتے ہیں یا غصہ ہو جاتے ہیں۔ پھر تنہائی میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ماں باپ نے ہمیں کس دنیا کے لیے تیار کیا تھا۔ یہ لوگ جو سر عام بدتمیزی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے والدین اور اساتذہ نے کیا انہیں انسانیت کی اقدار اور اخلاقیات نہیں سکھائے ہوں گے۔  ایسا نہیں ہو سکتا۔ پھر آخر وہ کیا محرکات ہیں جو انسان کو انسانیت کے درجہ سے گرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ وہ کس حد تک نفرت انگیز رویہ ہے جوایک انسان کو کسی دوسرے انسانکے لیے تکلیف اور دکھ کا باٰعث بنا دے۔ جب بھی کسی قتل کی کہانی سنتی ہوں تو سوچتی ہوں کوئی نارمل انسان ایسا کیسے کر سکتا ہے۔

ایسی ہی تمام باتوں سے دلبرداشتہ ہوتے ہوتے ہر بار بچ جاتی ہوں کبھی کوئی کانفرنس، کبھی کوئی سیمینار اور کبھی کوئی ایسی ٹریننگ جس سے ایک امید بندھ جاتی ہے۔ ہم اکثر یہ سنتے رہتے ہیں کہ ان کانفرنسز اور سیمینارز کا کیا فائدہ۔ لیکن مجھے ہمیشہ یہ سب ایک امید کی کرن لگتا ہے۔ یوتھ امپیکٹ کی مارخور لیڈرشپ کانفرنس میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر نوجوانوں کا جوش و جزبہ دیدنی تھا؛ لفٹ پاکستان ایک بہت بڑی کانفرنس تھی جس میں نوجوانوں کا کچھ کر گزرنے کا شوق دیکھ کر مجھے لگا کہ پاکستان کا مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے، ہم پاکستانی کا کتابچہ پڑھ کر اور اس کی ٹریننگ کا اہتمام کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میرے آس پاس میرے ہی جیسے بہت سے سنجیدہ افراد اس قوم کیلئے نیر و تابا٘ روشن و رخشاں دن کی تیاری کر رہے ہیں؛داستان پبلشنگ اور سحرکییوتھ لیڈرشپ کی ٹیم سے مل کر لگا کہ ہم سے آگے آنے والے جوانوں میں ہم سے زیادہ فہم اور کچھ کر گزرنے کی لگن ہے اور اسلام آباد سائنس بائول میں شامل ہو کر سیکنڈری سکولوں کے بچوں سے ایک تازہ دم ٹیم تیار ہونے کی امید بھی بندھ گئی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ سب کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ایک پریشانی جس نے میری راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے وہ یہ ہے کہ یہ زیادہ تراحوال بڑے شہروں کے بہتر اداروں میں پڑھنے والےنوجوانوں کا ہے۔ میری قوم کے وہ نوجوان جو لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہیں انہیں ہم میٹرک ایف اے اور بی اے کی ڈگریاں دے کر فارغ کیے جا رہے ہیں۔ قصبہ اور چھوٹے شہروں میں ہائی سکولز اور کالجزسے فارغ البال ہونے والے طلبہ ایک پیراگراف خود سے نہیں لکھ پاتے۔ انوویشن تو دور کی بات وہ اپنے علاقے کے ہنرسے بھی ناواقف ہیں۔ وہ تو اپنی حاصل کردہ ڈگری کو ہاتھ میں لیے مارے مارے پھرتے ہیں اور جب انہیں ایک یونیورسٹی میں چپڑاسی کی نوکری میں کھڑا دیکھا تو پوچھے بنا رہ نہ پائی کہ بیٹا کی لرنے آئے تھے، بچہ بولا چپڑاسی کی نوکری نکلی تھی میڈم ، لگتا ہے وہ تو نہیں ملے گی، میں نے بی اے کا فارم لے لیا ہے ہو سکتا ہے بی اے کر لوں تو کہیں نوکری مل جائے۔ عملہ سے استفسار پر پتہ چلا کہ پانچ نوکریوں کے لیے دو ہزار سے زائد افراد کہ درخواستیں جمع ہوئی تھی۔ جو بچہ بی اے کے فارم لے گیا اسے کس قدر یقین ہے کہ تعلیم ہی اس کے لیے زریعہ معاش مہیا کرے گی۔۔۔ جب یہ امید ٹوٹے گا تب کیا ہو گا۔ کوئی کانفرنس نہ کیجئے کو ئی سیمینار نہ کیجئے لیکن خدارا دیکھ لیجئےان بچوں کی امید ٹوٹنے نہ پائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *