امید پر دنیا قائم ہے!

انسان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک کسی نہ کسی سے امید لگائے زندگی بسر کرتاہے۔خواہ وہ سائنسی ہو، عقیدہ ہو یا مذہبی ہو۔ مثلاً ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے ماں باپ اپنے عقیدہ اور طبی مشورے کے ساتھ اس بچے کی صحت اور پرورش پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن وہیں جب کوئی بچہ کسی وجہ کر بیمار ہوجاتا ہے تو اس کے ماں باپ اپنے عقیدہ سے لے کر طبی امداد کی تمام تر سہولیات کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔یہی انسان ایک آس لگائے اپنی زندگی کو کسی طرح گزار دیتا ہے۔ہم بھی اللہ سے ہر بات کی امید لگائے زندگی گزار دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اس کی رحمت سے اپنے لیے بھلائی کی امید رکھنا بھی بہت عظیم عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حکم دیا کہ یہ خبر دیجئے کہ: نَبِیّء عِبَادی اَنَا الغَفُورُ الرَحیمُ oوَ اَنَّ عَذَا بِی ھُوَ العَذابُ الا َ لِیم ُ (اے محمد آپ میرے بندوں کو خبر کر دیجیے کہ بیشک میں بخشش والا اور رحم کرنے ولا ہوں oاور بے شک میرا عذاب ہی وہ ہے (ہے جو کہ) انتہائی دردناک عذاب ہے۔ سورت الحجر (15)آیات 49,50۔پس ہم سب کو دعا مانگتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اُسے اللہ کی بخشش اور رحمت کا یقین رکھتے ہوئے دُعا ء مانگنا چاہیے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کسی کے مرنے کے چالیس دن بعد ایک پیغام اکثر ہمارے گھر آتا تھا کہ فلاں دن ’چالیسواں‘ہے آپ ضرور تشریف لائیے۔ ہم بھی مرنے والوں کے گھر جاتے تھے اور کھاپی کر اس کی مغفرت کی دعا کر کے واپس آجاتے تھے۔تاہم شرعاً ’چالیسواں‘ ضروری نہیں ہے لیکن ہندوستان اور پاکستان میں عام طور پر لوگ ’چالیسواں‘ کرنا اس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس دن اکھٹا ہو کر مرنے والے کی مغفرت دعا کی جائے۔جو کہ ایک روایت بن چکی ہے۔دراصل میں نے’چالیسواں‘ کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن برطانیہ میں شروع ہواتھا وہ اب لگ بھگ چالیس روز پار کر چکا ہے۔یعنی کورونا کی موت ہوگئی اور اس کے چالیس روز پورے ہو گئے اور جب سے چالیس روز گزرے ہیں عوام اور میڈیا کا حکومت پر مسلس دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کب ختم ہوگا۔اس کے بعد روزانہ لاک ڈاؤن کے متعلق باتیں ہورہی ہیں۔ کبھی ماہرین اپنے طور پر لاک ڈاؤن کو کیسے ختم کیا جائے مشورہ دے رہے ہیں تو کبھی اخباروں میں لاک ڈاؤن کی عذاب سے متاثر لوگوں کی داستانیں بتائی جا رہی ہیں۔شاید اسی دباؤ میں برطانوی وزیر اعظم نے 7 مئی کو لوگوں سے خطاب کرنے کا اعلان کیا تاہم اسے دو دن اور بڑھا کر 10مئی کر دیا گیا۔
اگر دیکھا جائے تو آج پوری دنیا لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے تمام کاروبار ٹھپ پڑا ہوا ہے اور حکومت بے یار ومددگار کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے جھجھک رہی ہے۔ برطانیہ میں بھی لاک ڈاؤن سے ہر کوئی پریشان ہے۔ کاروبار بند پڑا ہوا ہے اور معیشت دن بدن تباہ ہورہی ہے۔ تاہم حکومت نے اس بات کا دلاسہ دیا ہے کہ ملک کی معیشت کو جلد بحال کر لیا جائے گا لیکن ماہرین
کا کہنا ہے کہ ایسا فوری ہونا ناممکن ہے۔ کیونکہ کورونا وائرس سے جس طرح پوری دنیا میں لاک ڈاؤن چل رہا ہے اس سے فوری طور پر حالات کا بحال ہونا ناممکن ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ وزیراعظم بورِس جونسن کے خاص سائنسی صلاح کار نیل فرگاسن نے کچھ روز قبل استعفی دے دیا۔ دراصل نیل فرگاسن کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے حکومت کو سختی سے ’لاک ڈاؤن‘ لاگو کرنے کا مشورہ دیا تھا اور حضرت خود لاک ڈاؤن ہوتے ہوئے اپنی شادی شدہ محبوبہ سے دو بار اپنے گھر ملاقات کی تھی۔
برطانیہ کے زیادہ تر چھوٹی کمپنیوں اور بزنس کو حکومت نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن وہیں ان کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کمپنیوں کا جتنا نقصان ہوا ہے وہ حکومت کے اسپیشل پیکج سے بھی پورا نہیں ہو پائے گا۔ رچرڈ برانسن کی ورجن ائیر لائنز نے 1,500اسٹاف کو کام سے نکال دیا ہے۔ جب کہ برٹش ائیر ویز نے بھی اپنے بہت سارے اسٹاف کو بنا تنخواہ چھٹی پر جانے کو کہا ہے تو وہیں کئی ہزار لوگ اب تک اپنی نوکری گنواچکے ہیں۔ اسی طرح سے چھوٹی بڑی تمام کمپنیوں اور کاروبار کا یہی حال ہے۔ تاہم چانسلر (وزیر خزانہ) رشی سونک نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کا عرصہ مزید بڑھایا گیا تو ملک کی معیشت اور بگڑ جائے گی۔ اس میں دو رائے بھی نہیں ہے کیونکہ اب تک 30 لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں اور ایسا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بے روزگاری کی تعداد اور بھی بڑھے گی۔
اتوار10مئی کو برطانیہ کے لوگوں کی نظر وزیراعظم بورس جونسن کی تقریر پر لگی ہوئی تھی۔ برطانیہ سردی سے ٹھٹھر رہا تھا اور زیادہ تر لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔ ٹھیک سات بجے بورِس جونسن دکھائی دیے لیکن براہ راست نہیں بلکہ ان کا ریکارڈ کیا ہو اپیغام نشر کیا گیا۔ وزیر اعظم بورِس جونسن نے کئی اہم باتیں بتائی لیکن لاک ڈاؤن کو فی الحال ختم کرنے سے بھی انکار کیا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ لوگ صبر سے کام لے تا کہ ہم کورونا وائرس پر قابو پا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اگلے تین ماہ تک کا پلان سائنسی ڈیٹا اور محکمہ صحت کی تجاویز سے ہوگا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہوگا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔اس سسٹم میں ایک Rآر نمبر یعنی کسی بھی علاقے میں کورونا کیس کی شرح کو دیکھتے ہوئے الرٹ لیول ایک سے پانچ درجے تک ہوگا۔پہلے لیول کا مطلب برطانیہ میں کورونا کا مرض موجود نہیں ہے۔ جبکہ پانویں لیول کا مطلب صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اس وقت لیول تین کی جانب بڑھ رہا ہے۔
بورِس جونسن نے کہا کہ 11 مئی سے وہ لوگ جو گھر سے کام نہیں کر سکتے مثلاً تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے سے منسلک افراد، ان لوگوں کو کام پر جانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ایسے لوگ اپنی گاڑی، سائیکل یا پھر پیدل چل کر کام پر جاسکتے ہیں۔پارک میں لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور اپنے پسند کے گیم کھیل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جون تک اسکول کھلنے کے امکان ہیں جس میں پہلے پرائمری اسکولوں کو کھولا جائے گا۔ اس کے ساتھ دکانوں کو بھی کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ کچھ عوامی مقامات بار، ریسٹورنٹ جولائی سے کھل سکتے ہیں جس کا انحصار سائنسی تجاویز پر منحصر ہوگا۔ ان میں مہمان نوازی کی کچھ صنعتیں، تفریح و سیاحت کے مقامات اور سیاحت کے مقامات اور ذرائع شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم امید اور معیشت کی ضروریات سے لاک ڈاؤن کا خاتمہ نہیں کرسکتے ہیں۔بلکہ ہمیں اپنے سائنسی صلاح کار اور صحت کے شعبے کے ماہرین کے مشوروں سے ہی لاک ڈاؤن کے خاتمے کے متعلق کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے زور دے کرعوام سے اپیل کی کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی دوسری لہر کو آنے دینا دراصل برطانیہ کی جانب سے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ضائع کرنا اور پاگل پن ہوگا۔
گویا جیسا کہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ برطانوی وزیر اعظم بورِس جونسن لاک ڈاؤن کے حوالے سے کوئی خاص اعلان نہیں کریں گے ویسا ہی ہوا۔یعنی لاک ڈاؤن بدستور جاری رہے گا اور اب لوگوں کو جون تک مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ وہ بھی اس بات پر منحصر ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کافی کمی آ ئی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عبادت گاہوں کو شاید دسمبر تک بند رکھا جا سکتا ہے جس کی اماموں اور مذہبی لیڈروں نے تائد کی ہے۔ خیر امید پر دنیا قائم ہے۔ جو بھی ہوگا اللہ مرضی سے بہتر ہی ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: