اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم ہوئی امریکی سیاست

ہمارے حکمرانوں کو ایک بار پھر بہت شدت سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ افغانستان اور دہشت گردی کے بارے میں دنیا تک ہمارا ’’بیانیہ‘‘ نہیں پہنچ رہا۔ ہماری ریاست کو بلکہ اس تناظر میں پھیلی وحشت کا حتمی ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ حکمرانوں کو شکایت یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کے صحافی مشکل کی اس گھڑی میں اپنی ذہانت وصلاحیت قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لئے استعمال میں نہیں لارہے۔ چند صحافی تو دانستہ طورپر ملک کو بدنام کرنے والوں کے آلٰہ کار بن چکے ہیں۔بقیہ افرادکی اکثریت سادہ لوحی میں ان کی سہولت کار ہے۔ گزشتہ پیر کے دن اس حوالے سے ایک اعلی سطحی بریفنگ میں یہ موضوع بھی تفصیل سے زیر بحث رہا۔اگرچہ مذکورہ بریفنگ نظر بظاہر افغانستان کی تازہ ترین صورت حال تک محدود رہنا تھی۔

عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوجانے کے باوجود مجھے پیر کے روز ہوئی بریفنگ کی بابت اس شام ہی کافی تفصیلات کا پتہ چل گیا تھا۔میں انہیں اس کالم میں دہرانا نہیں چاہتا۔ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ٹھہرائی گفتگو کو پرانی وضع کا مجھ جیسا صحافی ’’آف دی ریکارڈ‘‘ رکھنا ہی لازمی تصور کرتا ہے۔میرے کئی ساتھیوں کی حب الوطنی مگر ثابت ہوچکی ہے۔ وہ اس کی بنیاد پر جن باتوں کو عوام کے روبرو لانا لازمی سمجھتے ہیں اپنے ٹی وی پروگراموں یا یوٹیوب چینلوں کے ذریعے بیان کردیتے ہیں۔مجھے ان جیسا اعتماد ہرگز میسر نہیں۔کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے کوترجیح دیتا ہوں۔ویسے بھی ’’ہاتھ کو جنبش‘‘ نہیں والے مرحلے میں داخل ہوچکا ہوں۔غالبؔ وہاں پہنچنے کے باوجود ’’آنکھو ں میں تو دم ہے‘‘ والی بڑھک لگاتے تھے۔میری آنکھوں پر لیکن کالا موتیا نقب لگانے کے مواقع ڈھونڈ رہا ہے۔ ہر دو یا تین گھنٹے بعد دوائی کے قطرے ڈال کر اسے بھگانے کی کوشش کرتا ہوں۔

پیر کے روز ہوئی بریفنگ میں تاہم ہمارے چند ریٹائر ہوئے سفارتی اور عسکری حکام نے نہایت سنجیدگی سے یہ تجویز بھی دی کہ پاکستان کو اپنا بیانیہ دنیا تک پہنچانے کے لئے جدید ترین آلات سے لیس ایک ٹی وی چینل قائم کرنا چاہیے۔اس کی زبان انگریزی ہو۔ یہ خبر سن کر مجھے یاد آیا کہ آج سے کئی برس قبل پاکستان ٹیلی وژن نے بہت دھوم دھام سے ایک انگریزی چینل شروع کیا تھا۔آصف علی زرداری نے بطور صدر اس کا افتتاح کیا۔اس تقریب کی میزبان ہماری ایک نہایت بردبار اینکر سدرہ اقبال تھیں۔میں بھی اس تقریب میں موجود تھا۔ پاکستان ٹی وی کے انگریزی چینل سے کئی برس قبل ریڈیو پاکستان نے بھی انگریزی کا ایک چینل کھولا تھا۔ جنرل مشرف نے اس کا افتتاح کیا تھا۔وہ سٹوڈیوز میں تشریف لائے تو مائیک کے روبرو میں اور ریڈیو کی حتمی آواز محترمہ موہنی حمید کی صاحبزادی کنول نصیر بیٹھے ہوئے تھے۔ حکام کا خیال تھا کہ ہم رسمی خیرمقدم کے بعد جنرل صاحب سے چند روایتی فقرے کہلواکر بات ختم کردیں گے۔ اس حوالے سے مجھے ’’مروانہ دینا‘ ‘ والے احکامات بھی دئیے گئے تھے۔

جنرل صاحب مگر مائیک کے روبرو آئے تو بہت ڈھٹائی سے میں نے انہیں بتایا کہ ریڈیو پاکستان نے یہ چینل دنیا بھر میں پھیلے سامعین کو تازہ اور اہم ترین خبریں دینے کے لئے قائم کیا ہے۔میں ذات کا رپورٹر ہوں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جنرل مشرف ہمارے افتتاحی پروگرام میں آئیں اور کوئی چونکا دینے والی خبردئیے بغیر محض رسمی کلمات ادا کرنے کے بعد رخصت ہوجائیں۔ 

جنرل صاحب ذاتی طورپر کھلے ڈلے آدمی تھے۔میں نے شہ دی تو فخر سے اعلان کردیا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ گوادر بندرگاہ کے تناظر میں ایک ایسا بندوبست ہونے والا ہے جو شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے بھی کہیں زیادہ تاریخ ساز ثابت ہوگا۔ جنرل صاحب کی گفتگو نشر ہوتے ہی ان کی بتائی خبر تمام عالمی خبر رسائی ایجنسیوں نے اچک کر دنیا بھر میں پھیلادی۔ سی پیک کی کہانی درحقیقت اس دن سے شروع ہوئی تھی۔

ایک لمحے کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ چونکہ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سرکاری ملکیت ہیں اس لئے وہاں ہوئی گفتگو کا لوگ اعتبار نہیں کرتے۔ اسے محض پراپیگنڈہ شمار کرتے ہیں۔ بی بی سی کی ورلڈ سروس کے لئے بھی لیکن تمام تر سرمایہ برطانوی حکومت کی وزارتِ خارجہ جی ہاں وزارتِ خارجہ کے بجٹ سے دیا جاتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ مذکورہ حقیقت کے باوجود بی بی سی کے ذریعے نشر ہوئی خبر کو دنیا سنجیدگی سے کیوں لیتی ہے؟ ۔ ہمارے حکمرانوں کو مشورے دینے والے اکابرین اس سوال پر لیکن کبھی غور نہیں کریں گے۔

انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ٹویٹر اور فیس بک کے ذریعے ڈس انفارمیشن کے ہتھیار سے برپاہوئی ففتھ جنریشن وار والی جنگ کے ان دنوں بہت چرچے ہیں۔ ٹرمپ کے مخالفین اصرار کرتے ہیں کہ روس کی سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے پھیلائی ڈس انفارمیشن 2016میں ہیلری کلنٹن کی شکست کو یقینی بنانے میں کامیا ب رہی۔

چند روسی سفارت کاروں کو مذکورہ مہم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے امریکہ سے نکالا بھی گیا تھا۔ان دنوں کی جوبائیڈن انتظامیہ ایران اور چین پر بھی امریکہ کے خلاف میڈیا مہم چلانے کا الزام لگارہی ہے۔ امریکی سیاست ویسے بھی اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اسے بھڑکانے میں سوشل میڈیا کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔اس کے باوجود مگر منگل ہی کے دن بائیڈن امریکی سینٹ سے ایک کھرب ڈالر خرچ کرنے کی منظوری لینے میں کامیاب رہا۔یہ رقم امریکہ میں جدید ترین سڑکیں اور پل تعمیر کرنے کے لئے خرچ ہوگی۔ دیہاتوں کو اس کی بدولت انٹرنیٹ کے تیز ترین کنکشن بھی فراہم ہوں گے۔مبینہ طورپر روس، چین اور ایران کی جانب سے امریکہ پر مسلط کردہ ففتھ جنریشن وار امریکی سینٹ کو نام نہاد وسیع تر قومی مفاد میں یگانگت دکھانے سے روک نہیں پائی ہے۔

مذکورہ مثال کے ذریعے فقط یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ پراپیگنڈہ کسی ملک کے بیانیے کو مؤثر انداز میں لوگوں کے روبرو لانے میں یقینا اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔محض پراپیگنڈہ مگر حتمی کردار کا حامل نہیں۔امریکہ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے پراپیگنڈہ کو ایک علم کے طورپر متعارف کروایا۔اس کی مبادیات وحرکیات سے آگہی کے لئے یونیورسٹی میں ابلاغ کے شعبے قائم ہوئے۔ ہالی ووڈ بھی امریکہ ہی میں ہے۔ وہاں بنائی فلمیں دنیا بھرمیں اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ امریکہ ہی نے Netflixکے ذریعے Live Streamingمتعارف کروائی ہے۔امریکہ کی اشتہاری کمپنیوں نے میکڈونلڈ اور کے ایف سی وغیرہ کو دنیا بھر میں روزمرہ زندگی کا حصہ بنادیا ہے۔ہر خطے میں جینز پہننے کا رواج بھی ان اشتہاری کمپنیوں کی بدولت ہوا۔ 

ہنر پراپیگنڈہ پر کامل اجارہ داری اور اس ضمن میں بے پناہ سرمایہ کاری کی قوت رکھنے کے باوجود امریکہ مگر افغانستان میں اپنا ’’سودا‘‘ بیچ نہیں پایا۔ 20سال تک اس ملک میں ہرجنگی ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود بالآخر طالبان سے معاہدے پر مجبور ہوا۔ یاد رہے کہ اس کا معاہدہ ’’طالبان‘‘ نامی تنظیم سے نہیں ’’امارات اسلامی افغانستان‘‘ سے ہوا ہے۔اسی باعث جب امریکی حکومت کے ترجمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ طالبان کی بزور قوت کابل پر قبضہ کرنے کاوالی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے تو مجھ جیسے عامیوں کا پنجابی زبان والا ’’ہاسا‘‘ چھوٹ جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: