’انسانیت کے پھیپھڑے اور گردے‘ سمجھا جانے والا کانگو بیسن جہاں تیل کی ممکنہ دریافت نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے

یہ ایک طویل سفر تھا۔ پہلے 10 گھنٹے گاڑی پر، پھر 10 گھنٹے دریا میں کشتی پر، اور اس کے بعد تین گھنٹے تک شدید گرمی میں گھنے جنگل میں پیدل سفر کے بعد بھی دو گھنٹے پسینے سے شرابور ایسے جنگل کا سفر جس کی زمین کسی دلدل نما کیچڑ جیسی تھی۔ لیکن آخر کار سائنس دان اپنی منزل پر پہنچ گئے اور اب وہ کام کے لیے تیار بھی تھے۔

کیچڑ اور مچھروں کو ہٹاتے ہوئے انھوں نے ایک لمبا پیچ کس نما آلہ جوڑا اور اسے پانی سے بھری زمین کے اندر گھسانا شروع کیا۔

برطانوی سائسن دان گریٹا ڈارگی، جو اس گروپ کی سربراہی کر رہی تھیں، نے کہا اور دباو جس کے بعد انھوں نے دو ساتھیوں کی مدد سے اس آلے کو زمین میں اور نیچے تک گھسایا اور پھر تقریبا آدھا میٹر چمکتا ہوا کالے رنگ کا نباتاتی مادہ باہر نکال لیا جو کاربن سے بھرپور ہے۔

یہ ایک ایسا مادہ ہے جو کوئلے جیسی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور اس کے بننے کا عمل قدرتی ہوتا ہے جیسے ہم کھاد بنانے کے لیے پتے یا کوئی اور مادہ گیلی مٹی میں دبا دیتے ہیں۔

کانگو کی میریئن این گاوئبی یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالب علم جوڈھری ماٹوکو نے کہا: ’یہ تو بلکل بھی برا نہیں۔‘

برطانوی سائسن دان گریٹا ڈارگی
،تصویر کا کیپشنبرطانوی سائسن دان گریٹا ڈارگی

گزشتہ ایک دہائی سے اس ٹیم نے مہینوں گانکو دریا کے کناروں پر موجود دلدلی علاقوں، جن کو پیٹ لینڈز بھی کہا جاتا ہے، میں گزارے ہیں جہاں مگرمچھوں، سانپوں اور گوریلے بھی موجود ہیں۔ ان کا مقصد ایک دیوہیکل رقبے پر کاربن سے بھرپور نباتاتی مادے کی نشان دہی کرنا ہے جو ان کے خیال میں برطانیہ کے رقبے جتنا وسیع و عریض ہے۔

برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کی ڈاکٹر ڈارگی کا کہنا ہے کہ ’ہم نقشے پر خالی جگہوں کو پر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مشکل کام ہے۔ لیکن یہ مہم جوئی جیسا ہے۔ میں 10 برس سے یہ کام کر رہی ہوں تو مجھے ایسا کرنا پسند ہی ہو گا۔‘

ماٹوکو کچھ زیادہ پرجوش تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں تو جنگل کا باشندہ ہوں۔ میرے لیے یہ بہت پرسکون جگہ ہے۔ کوئی پریشانی نہیں یہاں۔‘

یہ سائنس دان ہر مقام کا جی پی ایس مانیٹر کے ذریعے نقشے پر نشان لگاتے ہیں اور ساتھ ہی اس نباتاتی مادے کی تصاویر بھی لیتے ہیں جن کو پلاسٹک میں بند کرنے کے بعد مزید تجزیے کے لیے لیڈز یونیورسٹی بھجوا دیا جاتا ہے۔

پیٹ نامی اس مادے کے ماہر سسپنس ایفو کانگو برازیویل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’یہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس مقام پر کم از کم 30 ارب ٹن پیٹ یعنی کاربن سے لدا مادہ موجود ہے۔ اگر اسے ہوا میں چھوڑ دیا جائے تو یہ ماحولیاتی تبدیلی کے عمل کو تیز کر دے گا۔‘

پیٹ نامی مادہ

ڈاکٹر ڈارگی کہتی ہیں کہ ’یہ مقدار امریکہ کے فوسل فیول کے 20 سالہ اخراج کے برابر ہے۔ میرے خیال میں اس ماحولیاتی نظام کو ابھی تک بین الاقوامی سطح پر اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی ان کو دینی چاہیے۔ کانگو برازیویل حکومت کو بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے تاکہ اس علاقے کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘

اس علاقے میں موجود وسیع و عریض جنگل سے بھی زیادہ کاربن یہاں موجود ہے۔ لیکن ہزاروں سال میں بننے والا یہ مادہ اگر خشک ہو جائے تو چند ہی ہفتوں میں تباہ ہو سکتا ہے۔

اصل خطرہ طویل خشک موسم سے ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے جڑا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انسانی نقل و حرکت جیسے غیر پائیدار کاشت کاری بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لیے یہاں کی حکومت ایک ایسے وقت میں کوشش کر رہی ہے جب آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کانگو دریا
،تصویر کا کیپشنکانگو دریا دنیا میں دریائے نیل کے بعد دوسرا بڑا دریا ہے

حال ہی میں اس علاقے کے قریب ہی تیل کی دریافت کا امکان پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ کہ ابھی تک یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ یہاں کتنا تیل موجود ہے، کانگو برازیویل حکومت اس مقصد کے لیے زمین کے ٹکڑے الاٹ کر رہی ہے اور سرمایہ کار بھی تلاش کر رہی ہے۔

وزیر ماحولیات آرلیٹے سوڈان نے کرپشن اور بد انتظامی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ہم سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ہم قدرتی وسائل کو چھپا کر رکھیں گے۔ اگر ہمیں ان کو نکالنے کی ضرورت ہوئی تو ہم ان کو نکالیں گے لیکن پائیدار طریقے سے ماحولیاتی قوانین کے تحت۔‘

’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ افریقی تو فنڈز کا غلط استعمال ہی کریں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سمجھیں کہ اس علاقے کا تحفظ ہم سب سے مفاد میں ہے لیکن اگر مغرب ہماری مدد نہیں کرنا چاہتا تو ہم اپنے قدرتی وسائل کو استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے کیوں کہ ہمیں صرف زندہ رہنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہے۔‘

دریا کے پار ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں پیٹ لینڈز کی زمین کے نیچے چھپے قدرتی وسائل کو نکالنے کی کوششوں کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے۔

یہاں کے ہائیڈرو کاربن وزیر دیدیئر بودمبو نے حال ہی میں زمین کی نیلامی کا اعلان کیا تھا جس کو تیل کی پروڈکشن کے لیے تیار کیا جائے گا۔ سائسن دانوں کا کہنا ہے کہ کچھ زمین پیٹ لینڈز سے ملحقہ ہے۔

ان کی وزارت کی جانب سے 28 اور 29 جولائی کو دارالحکومت کنساشا میں منعقد ہونے والی نیلامی سے متعلق ٹویٹس میں فرانسیسی تیل کمپنی ٹوٹل کو بھی ٹیگ کیا گیا ہے لیکن وزارت یا ٹوٹل کمپنی نے بی بی سی کی جانب سے اس معاملے پر مووقف دینے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

گرین پیس افریقہ نامی غیر سرکاری تنظیم جو ماحولیاتی تحفظ پر کام کرتے ہیں کی آئرین وابیوا بیٹوکو کا کہنا ہے کہ ’اگر اس منصوبے کو روکا نہیں گیا تو اس کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔‘

’اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ڈی آر کونگو کی حکومت اور سرمایہ کار تیل کی تلاش کو روکیں اور توانائی کے دیگر ذرائع پر بات کریں۔‘

لیکن کانگو دریا کی دوسری جانب جورڈن الینگا دلدل نما جنگل میں کھجور کے درخت کی جڑ کے قریب گہرا گڑھا کھودتے ہیں، اور ایک ٹہنی کے ذریعے کھجور کی شراب کو ایک پلاسٹک کنٹینر میں ڈال کر اگلے درخت کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’شراب اکھٹا کرنا ہی میری کمائی کا ذریعہ ہے۔ اسی سے میں اپنی بیوی اور بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔‘

جورڈن الینگا
،تصویر کا کیپشنجورڈن الینگا

ان کو دیکھ کر پروفیسر سسپنس ایفو مایوسی بھری آہ بھرتے ہیں۔ ’اس سے درخت مر جاتا ہے۔ یہ اس ماحولیاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ طویل عرصے میں ایسے یہ تباہ ہو جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں کی مشکلات آبادی میں اضافے سے جڑی ہیں اور اگر غربت کا کوئی حل نہیں نکالا گیا تو پیسہ کمانے کے لیے ہر کوئی یہاں آئے گا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’جب درخت مر جاتے ہیں تو اس نازک مادے پر سورج کی دھوپ پڑتی ہے جو نقصان دہ ہے۔‘

کانگو دریا کی ایک چوڑی شاخ پر قائم چھوٹے سے این ٹوکو ٹاون کے مقامی منتظم الفونسو ایسابے تسلیم کرتے ہیں کہ پیٹ لینڈز کے حوالے سے معلومات کا خلا موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم یہاں ماہی گیری اور شکار سے زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے پیٹ لینڈز کو محفوظ بنانا ہے تو پھر بڑی طاقتوں اور دنیا کے ماحول کو آلودہ کرنے والے بڑے ملکوں کو ہماری معاشی مدد کرنی ہو گی۔‘

بین الاقوامی طور پر چند ایسے معاہدے تو ضرور ہوئے ہیں جن میں کانگو کے پیٹ لینڈز کو محفوظ بنانے کے لیے بات ہوئی ہے لیکن ان کے باوجود اس خطے میں مایوسی ہے اور وزیر ماحولیات آرلیٹے سوڈان جیسے لوگ مغرب پر دوغلے پن کا الزام لگاتے ہیں۔

’کانگو بیسن کے بغیر باقی دنیا سانس نہیں لے سکتی۔ ہم پورے سیارے کو اہم ماحولیاتی خدمت دے رہے ہیں تو اس کی کوئی قیمت بھی ادا ہونی چاہیے۔‘

وزیر ماحولیات آرلیٹے سوڈان
،تصویر کا کیپشنوزیر ماحولیات آرلیٹے سوڈان

’اب جب کہ ایمازون جنگلات میں کمی کی وجہ سے دنیا کے ماحول کے منتظم کا کردار کھو چکا ہے، کانگو بیسن ہی انسانیت کے پھیپھڑوں اور گردوں کا کام کر رہا ہے۔‘ ان کا اشارہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کھینچنے میں پیٹ لینڈ کے کردار کی جانب تھا۔

وہ سوال کرتی ہیں کہ ’بین الاقوامی برادری کے تمام وعدوں کا کیا بنا؟ آپ ہمیں یہ نہیں کہ سکتے کہ اپنی بیلٹ کھینچ لو تاکہ امیر دنیا سانس لے سکے۔ اس دوران آپ مذید امیر ہو رہے ہیں اور ہم بھوکے مر رہے ہیں۔‘

وزیر ماحولیات آرلیٹے سوڈان کا کہنا ہے کہ ’ہم زیادہ دیر تک خود کو روک نہیں سکتے۔‘ انھوں نے یہ کہتے ہوئے عندیہ دیا کہ کانگو برازیویل مدد کے لیے چین کی جانب رجوع کر سکتا ہے کہ ’ہم سب سے بہتر مدد کی پیشکش کو قبول کریں گے۔‘

کانگو برازیویل کی آمرانہ حکومت، جو آف شور تیل کے کنووں سے وصول ہونے والی آمدنی سے مالا مال ہے، کو دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے ان شکایات کو مسترد کیا گیا ہے کہ وہ مغرب کو فنڈنگ دینے کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں۔

وزیر ماحولیات آرلیٹے سوڈان کہتی ہیں کہ ’ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔ ہم تیار ہیں۔ ہمارے پاس سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی ہے۔ اور ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں معاشی مدد نہ دی جائے۔‘

error: