انسانی چہرے میں چھپ کر سیکس کرنے والی مہین لیکھیں جو معدومیت کا شکار ہیں

زیادہ تر لوگ اپنی جلد کی حفاظت کے لیے روزانہ صفائی کرتے ہیں، اسے نم رکھنے کوشش کرتے ہیں اور سورج کی تمازت سے حفاظت کے لیے ایس پی ایف یا سن پروٹیکشن فیکٹر استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ’ڈیموڈیکس فولیکولورم‘ (Demodex folliculorum) جیسی مہین لیکھوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی پوری زندگی ہمارے چہروں کی گہرائی میں گزار دیتی ہیں؟

رات کے وقت 0.3 ملی میٹر لمبے یہ جاندار نئے غدود تلاش کرنے، اور اپنے ساتھی سے مباشرت کے لیے مساموں سے باہر نکلتے ہیں۔

لیکن ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ان مہین جانداروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ان کا ڈی این اے ختم ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ معدوم ہونے کے قریب ہیں۔

اب ہم جانتے ہیں کہ آپ کیا سوچ رہے ہوں گے۔

اور یہ جان کر اگر آپ باتھ روم کی طرف بھاگ رہے ہوں گے، اپنے چہرے کو اچھی طرح دھونے اور اپنی جلد کے ایک ایک انچ کو صاف کر رہے ہو ں گے، تو اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہونے والا، کیوں کہ یہ چھوٹے کیڑے یا لیکھیں آپ کی جلد میں اتنی گہرائی میں رہتی ہیں کہ ان کو آپ معمول کی صفائی کے ذریعے کبھی بھی دھو نہیں سکتے ہیں۔

اگر اس سے آپ کو کچھ سکون ملتا ہے، تو ہم میں سے 90 فیصد سے زیادہ لوگ ان لیکھوں کے میزبان ہیں اور پیدائش کے بعد سے رہنے کے لیے ہم ان کو ایک گھر فراہم کرتے ہیں کیونکہ وہ دودھ پلانے کے دوران آپ کے جسم پر منتقل ہوتے ہیں۔

Computer generated image of mite
،تصویر کا کیپشنجی ہاں، یہ وہ لیکھ ہے جو ہمارے چہرے پر رہتی ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر الیجینڈرا پیروٹی نے، جو اس تحقیق میں شامل تھیں، کہا کہ ہمیں لیکھوں (مائیٹس) کو گھر کی پیشکش کرنے اور ان کے ساتھ ایسا گہرا تعلق رکھنے کے لیے ’شکر گزار‘ ہونا چاہیے۔

وہ ریڈیو 1 نیوز بیٹ کو بتاتی ہیں کہ ’وہ (لیکھیں) بہت چھوٹی اور پیاری ہوتی ہیں۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے کہ وہ آپ کے جسم میں رہتی ہیں۔ وہ ہمارے سوراخوں کو صاف کرتی ہیں اور انھیں ملائم رکھتی ہیں۔۔۔ پریشان نہ ہوں، خوش رہیں کہ آپ کے ساتھ ایک چھوٹی مہین سی مخلوق رہتی ہے، وہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔'

تحیقق سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا تعلق ان کے ساتھ بہت زیادہ قریبی ہے، لیکن یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ذرات کسی بھی کیڑے، جُوں (ارکنیڈ) یا خول دار (کرسٹیشین) میں جینز کی سب سے کم تعداد میں کیسے ہوتے ہیں۔

وہ جینز جو لیکھوں کے جسم کو الٹرا وائیلٹ (UV) روشنی سے بچاتا ہے، وہ ختم ہو چکا ہے لیکن پوری طرح سے یہ صرف رات کے وقت متحرک رہتے ہیں۔

اور یہ رات کے وقت کی سرگرمی ہے جو آپ کو جھنجھوڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر پیروٹی کا کہنا ہے کہ ’رات میں جب ہم گہری نیند میں ہوتے ہیں وہ جنسی تعلقات اور بچے پیدا کرنے کے لیے مسام کے سوراخوں سے باہر نکلتے ہیں۔‘

ہاں، یہ مخلوق ہمارے مساموں کو اپنی محبت کے جزیروں کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ واہ!

Microscopic image of mite
،تصویر کا کیپشنتحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لیکھوں کی نسلیں اپنی بقا کے لیے ہم انسانوں کی جلد پر اب مکمل انحصار کرتی ہیں۔

مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جیسے جیسے ان کا جینیاتی تنوع کم ہوتا جاتا ہے، ہم پر ان کا انحصار بڑھتا جاتا ہے، یعنی ان کے ممکنہ ناپید ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، تحقیق سے توقع تھی کہ وہ جین تلاش کیا جائے گا جو لیکھوں (مائیٹس) کو جگاتا ہے اور ان کو سونے کے لیے بھیجتا ہے لیکن یہ موجود نہیں تھا۔

اس کی بجائے، یہ جاندار جلد میں خارج ہونے والے ہارمونز کی کم مقدار کا پتہ لگاتے ہیں، جب ہم سو رہے ہوتے ہیں اور یہی چیز ان کو بیدار ہونے پر اکساتی ہے۔

یہ موافقت اس مسئلے کا سبب بن رہی ہے۔ وہ جتنا زیادہ ہم سے موافقت کریں گے، اتنے ہی زیادہ جینز کھوتے جائیں گے اور آخر کار وہ اپنے وجود کے لیے مکمل طور پر ہم پر انحصار کرنے لگ جائیں گے۔

اس انحصار کی وجہ سے وہ ہمارے سوراخوں کو نہیں چھوڑ سکیں گے اور اپنی نسل بڑھانے کے لیے اپنے مباشرت کے لیے اپنا نیا ساتھی تلاش نہیں کر پائیں گے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اپنی بقا کے لیے اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ رہے ہوں گے۔

تو پھر کیا مسئلہ ہے اگر ہم انہیں کھو دیتے ہیں؟

ڈاکٹر پیروٹی کہتی ہیں کہ ’وہ صحت مند جلد سے وابستہ ہیں، لہذا اگر ہم انہیں کھو دیتے ہیں تو آپ کو اپنی جلد کے ساتھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

error: